+91 84848 00418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

11

Apr

کیا اصحابِ کہف کا کتا جنت میں جائے گا؟

کیا اصحابِ کہف کا کتا جنت میں جائے گا؟

 سوال: بہت مشہور ہے کہ اصحاب کہف کا کتا جنت میں جائے گا ،  یہ بات کہاں تک درست ہے؟

جواب:  یہ بات ثابت نہیں ہے۔

دراصل یہ مسئلہ ان امور میں سے ہے جو محض نقل اور وحی کی بنیاد پر ہی ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ **امورِ غیب** سے تعلق رکھتا ہے۔ اس بارے میں نہ کوئی مرفوع حدیث موجود ہے، اور نہ ہی کسی صحابی سے ایسا قول منقول ہے جسے حکماً مرفوع قرار دیا جا سکے۔

بعد کے بعض مفسرین کی عبارات میں یہ مضمون ملتا ہے، لیکن وہ بھی بطورِ روایتِ نبوی نہیں بلکہ محض قول یا استنباط کے طور پر ہے۔ لہٰذا بغیر نص کے اس پر قطعی حکم لگانا درست نہیں۔

جب کہ قرآن کی بعض آیات سے اس کے خلاف معلوم ہوتا ہے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ﴾(الأنعام: 38)

ترجمہ:اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار نہیں اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے پروں سے اڑتا ہے، مگر وہ بھی تمہاری ہی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کے پاس جمع کیے جائیں گے۔"

اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اثر مروی ہے:

> يَحْشُرُ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْبَهَائِمَ وَالدَّوَابَّ وَالطَّيْرَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَيَبْلُغُ مِنْ عَدْلِ اللهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ يُؤْخَذَ لِلْجَمَّاءِ مِنَ الْقَرْنَاءِ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ كُونِي تُرَابًا، فَلِذَلِكَ يَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا.

 

(ذكره ابن كثير في تفسيره 3/37 معزوا لعبد الرزاق، وأخرجه الطبري في تفسيره مرفوعا)

ابن کثیر رحمہ اللہ کے مطابق اس مضمون کے شواہد حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی منقول ہیں۔(تفسیر ابن کثیر 8/311)

اس عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن تمام حیوانات کو زندہ کیا جائے گا اور پھر انہیں مٹی بنا دیا جائے گا۔

اب اس عموم سے اصحابِ کہف کے کتے کو مستثنیٰ قرار دینے کے لیے کسی واضح اور مضبوط دلیل کی ضرورت ہے، اور ایسی کوئی دلیل موجود نہیں۔

البتہ یہ بات بعض مفسرین سے بطورِ قول منقول ہے، لیکن اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔

روح البیان کی روایت:

**روح البیان (5/226)** میں اسماعیل حقی (ت: 1127ھ) نے نقل کیا ہے:

> قال مقاتل: عشرۃ من الحيوانات تدخل الجنة : ناقة صالح، وعحل ابراہیم، وكبش إسماعيل، وبقرة موسى، وحوت يونس، وحمار عزير، ونملة سليمان، وهدهد بلقيس، وكلب أصحاب الكهف، وناقة محمد صلى الله عليه وسلم، فكلهم يصيرون على صورة كبش، ويدخلون الجنة.

 

Share This News