+91 84848 00418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

28

Jun

طہارت ، ونجاست کے متعلق اصول و ضوابط اور تفریعات

 

تطہیر (پاک کرنے )کے طریقے:

  1. مائع طاہر قالع (پاک اور نجاست کو زائل کرنے والا مائع )سے دھونا: پاک ایسا مائع (بہنے والا)  جو نجاست کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
  2. اِستنجاء (ڈھیلے وغیرہ کا استعمال): اگر نجاست اپنے مخرج سے زیادہ نہ پھیلی ہو تو ڈھیلے یا کسی ایسی چیز سے پونچھنا جو نجاست کو زائل کر دے، پاکی کا ذریعہ ہے۔
  3. مَسح (پونچھنا): کسی ٹھوس اور چکنی چیز جیسے آئینہ یا تلوار پر نجاست لگ جائے تو اسے اچھی طرح پونچھ دینے سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔
  4. جفافُ الارض (سکھانا): زمین یا اس سے ملی ہوئی چیزیں (درخت، گھاس وغیرہ) اگر خشک ہو جائیں اور نجاست کا اثر ختم ہو جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہیں۔
  5. حفر (کھودنا): اگر زمین ناپاک ہو جائے تو اس کے ناپاک حصے کو کھود کر الگ کر دینے سے بقیہ زمین پاک ہو جاتی ہے۔
  6. نحت (چھیلنا): لکڑی جیسی چیز اگر ناپاک ہو جائے تو متاثرہ حصے کو چھیل دینے سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔
  7. انقلابِ ماہیت (حقیقت بدل جانا): کسی چیز کی اصل حقیقت کا بدل جانا، جیسے شراب کا سرکہ بن جانا یا ناپاک چیز کا جل کر راکھ بن جانا، اسے پاک کر دیتا ہے۔
  8. دباغت (کھال رنگنا): خنزیر اور انسان کے علاوہ دیگر تمام جانوروں کی کھالیں دباغت (رنگنے) کے عمل سے پاک ہو جاتی ہیں۔
  9. ذکاۃ (شرعی ذبح): جس جانور کا گوشت کھایا جا سکتا ہو اسے شرعی طریقے سے ذبح کرنے سے اس کی کھال اور تمام اجزاء پاک ہو جاتے ہیں۔
  10. فرک (کھرچنا): کپڑے پر لگی ہوئی ایسی نجاست جو خشک ہو کر جم جائے، اسے اچھی طرح کھرچ دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔
  11. دلک و حت (رنگنا اور کھرچنا): موزے یا جوتے پر لگی جرم دار نجاست کو خشک ہونے کے بعد زمین پر اچھی طرح رگڑنے سے وہ پاک ہو جاتا ہے۔
  12. دخول من جانب و خروج من آخر(پانی  کو جاری پانی بنادینا): ناپاک برتن یا حوض میں پاک پانی اس طرح داخل کرنا کہ وہ بہنے لگے، تو وہ جاری پانی کے حکم میں ہو کر پاک ہو جاتا ہے۔
  13. تغور (کنویں کا خشک ہونا): اگر ناپاک کنویں کا سارا پانی خشک ہو جائے اور پھر نیا پانی نکل آئے تو وہ کنواں پاک ہو جاتا ہے۔
  14. تقویر : خشک گھی  میں نجاست گر جائے اس کے آس پاس کو نکال پھینکنا۔
  15. ندف (دھنا): روئی کے گدے وغیرہ میں معمولی نجاست ہو تو اسے دھننے سے وہ پاک ہو جاتا ہے، بشرطیکہ نجاست زیادہ نہ ہو۔
  16. نزح (پانی کھینچنا): کنواں ناپاک ہو جانے کی صورت میں شرعی احکامات کے مطابق متعین مقدار میں پانی نکالنے سے وہ پاک ہو جاتا ہے۔
  17. جلانا (آگ میں جلانا): آگ میں جلنے سے بعض چیزوں کی حقیقت بدل جاتی ہے (جیسے ناپاک گوبر کا راکھ بننا) تو وہ پاک ہو جاتی ہیں۔
  18. غلی (جوش دینا): ناپاک تیل وغیرہ کو تین مرتبہ الگ الگ پاک پانی میں ملا کر جوش دینے سے وہ پاک ہو جاتا ہے۔
  19. تمویہ (دھار لگانا): ناپاک چھری وغیرہ کو تین مرتبہ پاک پانی کی دھار کے نیچے رکھنے سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔
  20. لحس (چاٹ لینا): اگر پستان پر لگی نجاست (مثلاً دودھ کی قے) کو چاٹ کر صاف کر لیا جائے تو وہ مقام پاک قرار پاتا ہے[1]۔

 

ضابطہ: نجس چیز بہتے پانی سے دھونے یا اس پر اوپر سے پانی بہانے سے بالاتفاق پاک ہو جاتی ہے۔
البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اگر نجس کپڑے یا بدن کو تین برتنوں میں دھویا جائے تو کیا یہ طریقہ اوپر سے پانی بہانے کے قائم مقام ہے یا نہیں؟

 اس کی تفصیل اگلے ضابطے میں ہے۔

تفریعات:

1) نجاست کو بہتے پانی میں دھویا گیا بالاتفاق پاک۔

2) نجاست پر اوپر سے پانی بہایا گیا بالاتفاق پاک۔

3) نجس کپڑا یا بدن تین برتنوں میں دھویا گیا عند أبي حنيفة ومحمد: پاک (تیسرے برتن سے نکلتے وقت)، عند أبي يوسف: بدن پاک نہیں جب تک صب نہ ہو۔

 

ضابطہ: پاک مائعات (پانی اور دیگر بہنے والی چیز)  نجاستِ حقیقیہ کو کپڑے اور بدن سے دور کر دیتے ہیں: امام ابو حنیفہ کے نزدیک بلا شرط، امام ابو یوسف کے نزدیک صب (اوپر سے بہانے) کی شرط کے ساتھ، اور امام محمد کے نزدیک سرے سے پاک نہیں کرتے[2]۔

تفریعات:

1) نجس کپڑا سرکے سے دھویا گیا عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: صب ہو تو پاک ورنہ ناپاک، عند محمد: ناپاک۔

2) بدن کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: صب ہو تو پاک ورنہ ناپاک، عند محمد: ناپاک۔

3) نجس چیز کو پاک مائع میں ڈبو دیا گیا عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: ناپاک (صب مفقود)، عند محمد: ناپاک (مائع مطهر نہیں)۔

 

ضابطہ :نظر نہ آنی والی(سوکھنے کےبعد)  نجاست (جیسے پیشاب کا اثر) میں دھونے کی تعداد معتبر ہے، جبکہ نظر آنے والی نجاست (جیسے خون) میں اصل شرط نجاست کا ختم ہونا ہے، تعداد معتبر نہیں۔

تفریعات:

1) غیر مرئی نجاست(پیشاب) تین مرتبہ دھونا ضروری۔
2) مرئی نجاست (خون وغیرہ) جب نجاست ختم ہو جائے تو پاک، چاہے ایک بار میں ہو جائے۔
3) نجاست ختم ہو جائے مگر نشان باقی ہو اگر نشان زائل ہو سکتا ہو تو ختم کرنا ضروری، اگر زائل نہ ہو سکتا ہو تو باقی رہنا مضر نہیں۔


ضابطہ:.حکمی نجاست (حدث و جنابت) ایک مرتبہ غسل سے ختم ہو جاتی ہے، اس میں تعداد شرط نہیں۔

تفریعات:

1) وضو یا غسل میں تین مرتبہ دھونا شرط نہیں۔
2) ایک مرتبہ پانی بہہ جائے تو طہارت حاصل۔
3) اس کا سبب یہ ہے کہ پانی نجاستِ حکمیہ کو فوراً دور کر دیتا ہے۔

 

ضابطہ: محلِ متنجس تین طرح کے ہیں: (1) جو نجاست جذب نہ کرے، وہ زوالِ عینِ نجاست سے پاک ہو جاتا ہے۔ (2) جو معمولی جذب کرے، وہ زوالِ عین یا غسل سے پاک ہو جاتا ہے۔ (3) جو نجاست کو زیادہ جذب کرے، اس کی طہارت عصر (نچوڑنے) سے ہوگی، اور اگر عصر ممکن نہ ہو تو ظاہری نجاست کی صورت میں تین مرتبہ دھونا کافی ہے، جبکہ باطن میں سرایتِ نجاست کی صورت میں امام ابو یوسفؒ کے نزدیک تین مرتبہ بھگو کر خشک کرنے سے پاک ہو جائے گا، اور امام محمدؒ کے نزدیک پاک نہیں ہوگا۔

تشریح و تفریع:

محل متنجس (جس چیز پر نجاست لگی ہو) وہ تین قسم کے ہیں، اور تینوں کے پاکی کے طریقے مختلف ہیں۔

  • (1) جو نجاست کو بالکل جذب نہ کرے، وہ زوالِ عینِ نجاست سے پاک ہو جاتا ہے۔
    مثلاً شیشہ، آئینہ، چاقو، تلوار، پالش شدہ دھات یا پلاسٹک کی ہموار سطح پر نجاست لگ جائے، تو نجاست کا اثر اور مادہ صاف کر دینے سے وہ پاک ہو جاتی ہے؛ کیونکہ نجاست اس کے اندر سرایت نہیں کرتی۔
  • (2) جو نجاست کو معمولی طور پر جذب کرے، وہ زوالِ عین یا غسل سے پاک ہو جاتا ہے۔
    مثلاً لکڑی کا تختہ، دروازہ، یا چمڑے کی بعض اشیاء جن میں نجاست گہرائی تک سرایت نہیں کرتی، ان پر نجاست لگ جائے تو دھونے یا نجاست کے اثر کو زائل کرنے سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔
  • (3) جو نجاست کو کثرت سے جذب کرے، اس کی طہارت عصر (نچوڑنے) سے ہوگی۔
    مثلاً کپڑا، قالین، کمبل، اسفنج اور روئی وغیرہ۔ اگر ان پر نجاست لگ جائے تو دھونے کے بعد نچوڑنا ضروری ہوگا تاکہ نجس پانی خارج ہو جائے۔
  • اگر نچوڑنا ممکن نہ ہو تو دو صورتیں ہیں:
  • (الف) نجاست صرف ظاہر میں لگی ہو:
    جیسے موٹا بوریا، چٹائی یا ایسا قالین جس میں نجاست اندر نہ اتری ہو، تو اسے تین مرتبہ دھو لینے سے پاک سمجھا جائے گا۔
  • (ب) نجاست اندر سرایت کر گئی ہو:
    جیسے گدا، کچا برتن یا ایسا مواد جس کے اندر نجاست جذب ہو گئی ہو اور نچوڑنا بھی ممکن نہ ہو؛ تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک اسے تین مرتبہ پانی میں بھگو کر ہر مرتبہ خشک کیا جائے گا، جبکہ امام محمدؒ کے نزدیک ایسی چیز پاک نہیں ہو سکتی۔

 امام کاسانی فرماتے ہیں:امام محمد کا قول زیادہ قیاسی (اقیس) ہے اور امام ابو یوسف کا قول زیادہ آسان (اوسع) ہے۔

 

 

نجاست غلیظہ و خفیفہ

ضابطہ :  (الف) ہر وہ چیز جو انسان کے بدن سے نکل کر وضو یا غسل کو لازم کرے نجاستِ غلیظہ ہے۔ (ب) حرام جانور کی لید اور پیشاب نجاست غلیظہ ہے، سوائے چمگادڑ کے پیشاب کے۔ (ج)  وہ پرندے جو فضا میں پاخانہ نہیں گراتے (جیسے بطخ اور مرغی) ان کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے۔(د)  شراب، بہنے والا خون (سوائے شہید کے بدن پر موجود خون کے)، مردار اور اس کے اجزاء، انسانی و حیوانی فضلات، پیپ، مواد، منہ بھر قے—یہ سب نجاستِ غلیظہ شمار ہوں گے۔

 

تفریعات

  1. انسانی خارج ہونے والی نجاستیں: پاخانہ، پیشاب، منی، حیض، نفاس، استحاضہ، منہ بھر قے — سب نجاستِ غلیظہ ہیں۔ مثال: بچے کا پیشاب بھی اسی حکم میں داخل ہے۔البتہ ریح اس سے مستثنی ہے۔
  2. بہنے والا خون:ہر بہنے والا خون نجاستِ غلیظہ ہے، سوائے شہید کے بدن پر موجود خون کے۔ جیسے زخم سے بہنے والا خون
  3. پیپ اور مواد: پیپ، صديد اور زخم کا مواد خون کے حکم میں ہے۔ مثال: پھوڑے سے نکلنے والا مادہ۔
  4. شراب:خمر نجاستِ غلیظہ ہے۔
  5. بہتے خون والے مردار اور اس کے اجزاء: وہ مردار جانورجن میں بہتا ہوا خون ہے   اور ان کے وہ اجزاء جن میں زندگی ہوتی ہے نجاست غلیظہ ہیں۔البتہ جن میں حیات نہیں ہوتی جیسے بال، ناخون ہڈیاں وغیرہ وہ پاک ہیں سوائے خنزیر کے ۔ کیوں کہ وہ نجس العین ہے۔اسی طرح وہ مرادار جانور جن میں بہتا ہوا خون نہیں  ہے جیسے مکھی، بھڑ کیکڑا و غیرہ وہ نجس نہیں ہیں۔
  6. ناجائز جانوروں کا فضلہ:ہر غیر مأکول اللحم جانور کا پیشاب اور لید نجاستِ غلیظہ ہے۔ مثال: کتے کی لید، گدھے کا پیشاب۔سوائے چمگادڑ کے پیشاب کے کہ وہ ضرورت کی وجہ سے معاف ہے۔
  7. ہوا میں جو پرندے بیٹ نہیں کرتے : جیسے بطخ، مرغی، ہنس کی بیٹ اور پیشاب نجاستِ غلیظہ ہے۔
  8. بلی اور چوہے کا پیشاب (اصل حکم)اصل روایت میں بلی اور چوہے کا پیشاب نجس ہے، مگر بلی کے پیشاب میں کپڑوں پر ضرورت کی بنا پر عفو (رخصت) ہے۔
  9. چوہے کی لید غلّہ (مثلاً گیہوں) میں معاف ہے، مگر کپڑوں اور مائعات میں نہیں۔

 

 

ضابطہ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا پیشاب، نیز گھوڑے کا پیشاب، اور ان پرندوں کی بیٹ جن کا گوشت حلال نہیں — یہ سب نجاستِ خفیفہ شمار ہوتے ہیں[3]۔

تفریعات:

حلال جانوروں کا پیشاب گائے، بکری، اونٹ، بھیڑ وغیرہ کا پیشاب نجاستِ خفیفہ ہے
گھوڑے کا پیشاب گھوڑا اگرچہ مأکول اللحم نہیں، مگر اس کا پیشاب تخفیف کے ساتھ نجس قرار دیا گیا ہے
غیر مأکول پرندوں کی بیٹ :جو پرندے حلال نہیں، ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ  ہے۔

 

  ضابطہ: نجاست غلیظہ اگر جسم والی ہو ایک درھم وزن یعنی کے برابر کپڑے اور بدن میں معاف ہے، اور اگر سیال ہے تو ہتھیلی کی چوڑائی کے برابر۔ اور نجاست خفیفہ جس عضو پر لگی ہو اس کے چوتھائی سے کم ہو تو معاف ہے۔ مگر بلاعذر اس کاازلہ نہ کرنا مکروہ ہے۔

پس  قلیل پانی میں اگر نجاست گرجائے چاہے خفیفہ ہویا غلیظہ ہو اس سے پورا پانی ناپاک ہوجائے گا۔

 

ضابطہ: اگر نجاست غلیظہ اور خفیفہ دونوں ایک ساتھ لگی ہوں تو خفیفہ غلیظہ کے تابع ہوں گی۔

پس اگر کسی کےبدن پر خون  اور گوبر لگا ہو تو نجاست غلیظہ کے احکام مرتب ہوں گے۔

 

ضابطہ: حرج اور عموم بلوی کے پیش نظر مسائل طہارت میں توسع برتا گیا ہے[4]۔

تفریعات:

  • مچھلی کا خون پاک ہے اور اس سے کپڑا یا بدن ناپاک نہیں ہوتا۔
  • خچر اور گدھے کا تھوک) بھی طہارت کے حکم میں شامل ہے۔
  • سوئی کے ناکوں جیسی باریک چھینٹیں اگر کپڑے یا بدن پر لگ جائیں تو معاف ہیں، اور اگر پانی لگنے سے یہ پھیل بھی جائیں تو بھی ضرورت کی وجہ سے معاف ہی رہیں گی، البتہ قلیل پانی میں گرنے سے اسے ناپاک کر دیں گی۔
  • راستے کا کیچڑ  اور مٹی عمومِ بلویٰ کی وجہ سے معاف قرار دی گئی ہے۔
  • پرندوں کی بیٹ اصلاً ناپاک ہے لیکن ٹنکی یا کنویں کے پانی میں گرنے سے اسے ناپاک نہیں کرتی جب تک نجاست کا اثر غالب نہ آ جائے، کیونکہ اس سے بچنا مشکل ہے۔
  • چوہے کی مینگنی اور پیشاب سے پانی اور کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے، لیکن اگر مینگنی گندم کے ساتھ پس کر آٹے میں شامل ہو جائے یا تیل میں گر جائے تو ضرورت کی بنا پر وہ ناپاک نہیں کہلائے گا۔
  • ناپاک کپڑے دھونے کی چھینٹیں اگر معمولی مقدار میں کپڑے یا بدن پر پڑ جائیں تو ضرورت کی وجہ سے معاف ہیں، مگر پاک پانی کے برتن میں گرنے سے پانی ناپاک ہو جائے گا۔
  • بلی کا جھوٹا حرج کی وجہ سے پاک ہے اور اس میں صرف کراہتِ تنزیہی پائی جاتی ہے۔
  • بلی کا پیشاب کثرتِ اختلاط کی وجہ سے اگر کپڑوں پر لگ جائے تو معاف ہے، لیکن برتن کے معاملے میں یہ رعایت نہیں ہے۔
  • دھوتے وقت بکری کی مینگنی اگر دودھ میں گر جائے تو بوجہ حرج و ضرورت دودھ پاک رہے گا، بشرطیکہ وہ اس میں ٹوٹ کر نہ ملے۔
  • پانی میں ہاتھ ڈالنا یعنی اگر کوئی بے وضو یا جنبی شخص پانی میں گری ہوئی چیز نکالنے کے ارادے سے ہاتھ ڈال دے تو ضرورت کی بنا پر وہ پانی مستعمل نہیں ہوگا۔

ضابطہ: جو حدث نہیں ہے نجس نہیں ہے[5]۔

پس خون جو نکل کر بہا نہ ہو پاک،قے جو منہ بھر کر نہ ہوئی ہو وہ پاک ہے[6].

ضابطہ: نجاست جب تک اپنے معدن میں ہو اس پر نجاست کے احکام جاری نہیں ہوتے ۔

لہذا بدن کے اندر موجود خون کی وجہ سے نجاست  کا حکم نہیں لگتا۔ انڈے کی زردی اگر خون میں تبدیل ہوجائے تو اس کو نجس نہیں کہا جائے گا[7]۔

 

 

ضابطہ: کپڑے یا بدن پر نجاست لگ جائے اگر وہ قلیل ہو تو معاف ہے خواہ وہ نجاست غلیظہ ہو یا خفیفہ۔

نجاست غلیظہ اگر جامد ہو تو ایک درہم (3 گرام 61 ملی گرام) کے برابر اور اگر مائع وسیال ہو تو ہتھیلی کی گہرائی کے برابر معاف ہو۔ اور نجاست خفیفہ جس عضو پر لگی ہو اس کے چوتھائی سے کم ہے تو معاف ہے۔

واضح رہے کہ نجاست غلیظہ کی موجودہ مقدار اگر چہ معاف ہے، لیکن قدرت کے باوجود ان کا ازالہ کیے بغیر نماز پڑھنا مکروہ ہے، نیز یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ مقدار کی معافی کے تعلق صرف بدن اور کپڑوں سے ہے۔ اگر برتن اور پانی (قلیل) میں تھوڑا بہت بھی لگ جائے تو ناپاک ہوجائے گا۔

 

ضابطہ: اشیاء میں اصل طہارت ہے[8]۔

پس جس چیز کی ناپاکی کا علم نہ ہو محض شک کی وجہ سے اسے ناپاک نہیں کہا جائے گا۔

 

 

[1] الدر المختار ۱/۳۵۸، بدائع ۱/۲۸۸، الفتاوی الہندیۃ ۱/۴۸ رد المحتار ۱/۳۰۹ تا

[2]  بدائع الصىائع 1 /87

[3]  الفتاوی الہندیۃ ۱ /۴۶)

[4]  ففی النہایۃ ۱/127: «وللضرورة أثر في إسقاط حكم النجاسة.» و انظر الدر علي الرد 1/324و 325

[5]  الوقاية مع شرحه 2/31

[6] الدر المختار 24

[7]  المبسوط للسرخسی ۱/۲۷و ۲۴/۲۷

[8]  المبسوط للسرخسی ۵/۳۶۱

Share This Blog