+91 84848 00418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

27

Jun

خیارات کا بیان

خیار شرط کا بیان

خیارِ شرط:  وہ اختیار ہے جو عقد کے وقت  یا عقد کے بعد فریقین میں سے کسی ایک کو، یا دونوں کو یا کسی تیسرے شخص کے لیے مقرر کیا جائے، تاکہ مقررہ مدت کے اندر وہ عقد کو باقی رکھے یا فسخ کردے۔

خیار شرط صرف بائع، یا صرف مشتری، یا بیک وقت دونوں کو، یا دونوں کے علاوہ کسی اور کو ،کل مبیع یا بعض مبیع میں ہوسکتا ہے، خیارشرط عقد کے وقت بھی لیا جاسکتا ہے اور عقد کےبعد بھی۔

خیارِ شرط کا مقصد فسخ کا اختیار دینا ہے، نہ کہ عقد کی اجازت دینا؛ لہٰذا جب مقررہ مدت گزر جائے اور فسخ نہ کیا جائے تو عقد لازم ہوجاتا ہے۔

مدت خیار : امام ابوحنیفہ کے یہاں تین دن، اور صاحبین کے یہاں جو بھی مدت عاقدین کے اتفاق سے طے ہوجائے[1]۔ مالکیہ کے یہاں مبیع کی حسب حال مدت خیار مختلف ہوسکتی ہے[2]۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے فقہ البیوع کی تلخیص (صیغۃ مقترحۃ لقانون البیع الاسلامی میں اسی کو ترجیح دی ہے اور فرمایا کہ مدت خیار مبیع کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے البتہ ایسی مدت نہ ہو  کہ  عقد بلاضرورت (اتنی مدت جو تأمل کی ضرورت سے زیادہ ہو) معلق  رہے[3]۔

کن عقود میں  خیارِ شرط صحیح ہے:خیار شرط ہر ایسے لازم عقد میں ہوسکتا ہے جو قابل فسخ ہے: اور وہ سولہ عقود ہیں: 11۔ ترکِ شفعہ (طلبین کے بعد)، 2۔ بیع، 3۔ ابراء، 4۔ وقف، 5۔ کفالت، 6۔ قسمہ، 7۔ خلع، 8۔ عتق علی مال، 9۔ اقالہ، 10۔ صلح عن مال، 11۔ حوالہ، 12۔ مکاتبت، 13۔ رہن، 14۔ اجارہ، 15۔ مساقات، 16۔ مزارعت۔

کن عقود میں خیارِ شرط صحیح نہیں ہے:۔1 نذر، 2۔ نکاح، 3۔ یمین، 4۔ سلم، 5۔ صرف، 6۔ طلاق، 7۔ وکالت، 8۔ اقرار، 9۔ وصیت۔

 علامہ شامی نے اسے درج ذیل اشعار میں جمع کیا ہے:

«يصح خيار الشرط في ترك شفعة …                          وبيع وإبراء ووقف كفاله

«وفي قسمة خلع وعتق إقاله                                  … وصلح عن الأموال ثم الحواله

مكاتبة رهن كذاك إجارة …                                                                   وزيد مساقاة مزارعة له

وما صح في نذر نكاح ألية …                                                              وفي سلم صرف طلاق وكاله

وإقرار إيهاب وزيد وصية …                                كما مر بحثا فاغتنم ذي المقاله»

 

خیار شرط کا حکم: اگر بائع نے خیارِ شرط رکھا تو مبیع اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہوگی، اور اگر مشتری نے خیارِ شرط رکھا تو مبیع بائع کی ملکیت سے بالاتفاق خارج ہوجائے گی، البتہ مشتری کی ملکیت میں داخل ہونے کے بارے میں اختلاف ہے؛ صاحبینؒ کے نزدیک مشتری کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مشتری کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی۔ اور اگر خیار دونوں کے لیے ہو تو نہ مبیع بائع کی ملکیت سے خارج ہوگی اور نہ ثمن مشتری کی ملکیت سے۔

تشریح

خیارِ شرط کا اثر ملکیت کے انتقال پر اختیار رکھنے والے شخص کے اعتبار سے ہوتا ہے؛ لہٰذا جس کے لیے خیار ہو، عقد اس کی جانب سے حکماً لازم نہیں ہوتا، اور اسی کی طرف ملکیت کا انتقال بھی موقوف رہتا ہے، جبکہ جس کی جانب خیار نہ ہو، اس کی طرف عقد لازم شمار ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اگر خیار دونوں کے لیے ہو تو نہ مبیع بائع کی ملک سے نکلتی ہے اور نہ ثمن مشتری کی ملک سے؛ اگر صرف بائع کے لیے ہو تو مبیع بائع کی ملک سے خارج نہیں ہوتی، البتہ ثمن مشتری کی ملک سے خارج ہوجاتا ہے؛ اور اگر صرف مشتری کے لیے ہو تو مبیع بائع کی ملک سے خارج ہوجاتی ہے، جبکہ ثمن مشتری کی ملک سے خارج نہیں ہوتا۔ البتہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس صورت میں مبیع مشتری کی ملک میں داخل نہیں ہوتی، بلکہ صرف بائع کی ملک سے خارج ہوتی ہے، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک وہ مشتری کی ملک میں داخل بھی ہوجاتی ہے۔

تفریعات

ذو رحمِ محرم کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدنے سے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک وہ فوراً آزاد نہیں ہوتا؛ کیونکہ ابھی مشتری کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک خریدتے ہی آزاد ہوجاتا ہے۔

اگر کسی غلام سے پہلے یہ کہا تھا: "اگر میں تمہیں خریدوں تو تم آزاد ہو"، پھر اسے خیارِ شرط کے ساتھ خریدا، تو بالاتفاق خریدتے ہی آزاد ہوجائے گا؛ کیونکہ یہ تعلیقی عتق ہے، اور شرط پائے جانے پر نافذ ہوجاتا ہے۔

اپنی منکوحہ جس سے اولاد ہواس کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدنے سے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک وہ فوراً اُمِّ ولد نہیں بنتی،  کیوں کہ ابھی وہ مملوکہ نہیں بنی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک بنتی ہے، کیوں کہ صاحبین کے یہاں مملوکہ ہوگئی ہے۔

اپنی بیوی کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدنے سے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نکاح برقرار رہتا ہے، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک نکاح ختم ہوجاتا ہے، کیوں کہ ملک یمین اور ملک نکاح کا اجتماع محال ہے۔

اگر مشتری نے مدتِ خیار میں اپنی اسی بیوی سے وطی کی تو کنواری ہونے کی صورت میں سب کے نزدیک یہ اجازتِ بیع شمار ہوگی، کیوں کہ وطی سے نقص پیدا ہوگا، اور مدت خیار میں مبیع میں کوئی نقص پیدا کردینے سے بیع لازم ہوجاتی ہے۔ جبکہ ثیبہ ہونے کی صورت میں امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک خیار باقی رہے گا اور صاحبینؒ کے نزدیک خیار ختم ہوجائے گا، کیوں کہ امام صاحب کے یہاں وطی بحکم نکاح ہے، لہذا وطی سے کوئی تصرف نہیں پایا گیا ، جب کہ صاحبین کے یہاں ملک یمین میں وطی پائی گئی ، اور مدت خیار میں مالکانہ تصرف سے خیار ختم ہوجاتا ہے۔

اگر خریدی ہوئی لونڈی مدتِ خیار میں حیض دیکھ لے، پھر مشتری بیع کو لازم کردے، تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ حیض استبراء کے لیے کافی نہیں، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک کافی ہے۔

اگر مشتری نے خیارِ شرط کے ساتھ مبیع قبضہ کرکے بائع ہی کے پاس بطور امانت رکھ دیا، پھر وہ ہلاک ہوگئی، تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ضمان بائع پر ہوگا اور بیع باطل ہوجائے گی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک ضمان مشتری پر ہوگا اور ثمن لازم ہوگا۔

اگر ذمی نے خیارِ شرط کے ساتھ شراب یا خنزیر خریدا، پھر قبضہ کے بعد مشتری مسلمان ہوگیا، تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک عقد باطل ہوجائے گا،  کیوں کہ مسلمان ہونے کے بعد خیار کا مالک نہیں بن سکتا ہے،جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک برقرار رہے گا، کیوں کہ وہ اسلام سے قبل مالک ہوچکا ہے۔

اگر مبیع مکان ہو اور خیارِ شرط بائع کے لیے ہو تو شفیع کو حقِ شفعہ ثابت نہیں ہوگا؛ کیونکہ مبیع بائع کی ملکیت سے خارج نہیں ہوئی۔ اور اگر خیارِ شرط مشتری کے لیے ہو تو بالاتفاق شفیع کو حقِ شفعہ ثابت ہوگا؛ کیونکہ صاحبینؒ کے نزدیک مبیع مشتری کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اگرچہ مشتری کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی، لیکن بائع کی ملکیت سے خارج ہوجاتی ہے، اور حقِ شفعہ کا مدار زوالِ ملکِ بائع پر ہے، نہ کہ ثبوتِ ملکِ مشتری پر۔

اگر بائع کے لیے خیار ہو اور وہ مبیع کو آزاد کردے تو عتق نافذ ہوگا اور بیع فسخ ہوجائے گی۔

اگر بائع بدل (جاریہ) کو آزاد کردے تو یہ اس کی طرف سے خیار ساقط کرنے اور بیع کو لازم کرنے کے قائم مقام ہوگا۔

اگر بائع دونوں بدلین کو آزاد کردے تو دونوں کا عتق نافذ ہوگا، البتہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک جاریہ کی قیمت بھی لازم ہوگی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک قیمت لازم نہیں ہوگی۔

اگر مشتری مبیع یا اس کے بدل کو آزاد کرے تو اس کا عتق نافذ نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی[4]۔

 

ضابطہ:خیارِ شرط اس وقت ساقط ہوکر عقد لازم ہوجاتا ہے جب صاحبِ خیار کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً عقد پر رضا کا اظہار ہوجائے، یا ایسا امر پیش آجائے جس سے فسخ کا حق یا محلِ فسخ ختم ہوجائے، یا مدتِ خیار ختم ہوجائے، یا شرعاً خود خیار کا سبب زائل ہوجائے۔

اس کی تفصیل چار اصولوں میں سمٹ جاتی ہے:

(1) صریح اجازت (رضا) کا صدور۔

(2) ایسا تصرف جس سے ملک کی رضا یا استقرارِ ملک ثابت ہو، یا جو صرف مالک ہی کرسکتا ہو۔

(3) ایسا عارضہ پیدا ہوجانا جس سے فسخ اور رد ممکن نہ رہے یا محلِ رد میں تبدیلی آجائے۔

(4) خیار کا سبب یا مدت ختم ہوجانا، جیسے مدت کا گزر جانا، موت، یا ولایت کا زوال وغیرہ۔

تفریعات:

اس ضابطے کے تحت مذکورہ تمام جزئیات کو اس طرح مرتب کیا جاسکتا ہے:

اول: صریح اجازت سے خیار ساقط ہوتا ہے

  • "أجزت البيع" کہنا۔
  • "أسقطت الخيار" کہنا۔
  • "أبطلت الخيار" کہنا۔
  • ہر وہ لفظ جو صریح اجازت پر دلالت کرے۔

دوم: دلالتاً رضا ثابت کرنے والے تصرفات:

(الف) ثمن میں تصرف (بائع)

  • ثمن کو فروخت کرنا۔
  • ثمن ہبہ کرنا۔
  • ثمن کو رہن رکھنا۔
  • ثمن اجارہ پر دینا۔
  • ثمن کو آزاد کرنا (اگر غلام ہو)۔
  • مدبربنانا۔
  • مکاتبت کرنا۔
  • مشتری کو ثمن سے بری کرنا۔
  • ثمن کے بدلے مشتری سے کوئی چیز خریدنا۔
  • ثمن کے عوض مساومت کرنا۔

(ب) مبیع میں تصرف (مشتری):

ہر ایسا تصرف جو مالک ہی کرسکتا ہو، مثلاً:

  • فروخت کرنا۔
  • ہبہ کرنا۔
  • رہن رکھنا۔
  • اجارہ دینا۔
  • آزاد کرنا۔
  • مدبربنانا۔
  • مکاتبت کرنا۔
  • مساومت کرنا۔
  • وطی کرنا۔
  • بوسہ بشہوت۔
  • مضاجعت بشہوت۔
  • فرج کی طرف بشہوت دیکھنا۔
  • لونڈی کا شہوت کے ساتھ بوسہ دینا (تمکین کی صورت میں)۔
  • پڑوسی جائیداد میں حقِ شفعہ کا مطالبہ کرنا۔

سوم: وہ امور جن سے رد متعذر ہوجاتا ہے

  • مبیع کا ہلاک ہوجانا۔
  • ایسا عیب پیدا ہوجانا جو ختم نہ ہوسکے۔
  • ایسی زیادت پیدا ہونا جو رد میں مانع ہو۔
  • متصل زیادت غیر متولدہ (رنگ کرنا، عمارت بنانا، درخت لگانا وغیرہ)۔
  • متصل زیادت متولدہ (امام ابو حنیفہؒ و ابو یوسفؒ کے نزدیک)۔
  • منفصل متولد زیادت (بچہ، دودھ، پھل وغیرہ)۔
  • بدلِ جزء (ارش وغیرہ)۔
  • بدلِ ما فی معنی الجزء (عقر وغیرہ)۔

چہارم: مدت یا سببِ خیار کا زوال

  • مدتِ خیار کا ختم ہوجانا۔
  • صاحبِ خیار کا فوت ہوجانا۔
  • بعض مسائل میں شریک کی اجازت۔
  • ولی کے اختیار کا زوال۔
  • مکاتب کا عاجز ہوجانا۔
  • عبدِ مأذون پر حجر۔

وہ تصرفات جو صرف امتحان و تجربہ کے لیے ہوں، خیار ساقط نہیں کرتے:

  • سواری کی رفتار معلوم کرنے کے لیے ایک مرتبہ سواری۔
  • کپڑا ایک مرتبہ پہن کر ناپ معلوم کرنا۔
  • باندی کا معمولی استعمال بطور امتحان۔
  • جانور کو پانی پلانا۔
  • چارہ خریدنے کے لیے لے جانا۔
  • بائع کو واپس کرنے کے لیے سواری کرنا (استحساناً)۔
  • جانور کے بال یا کھر درست کرنا۔
  • کنویں سے پانی نکال کر مقدار معلوم کرنا۔
  • زمین کے نہر سے خود پانی پینا یا جانوروں کو پلانا۔
  • چکی چلا کر آزمائش کرنا۔
  • کتاب کے اوراق الٹ کر دیکھنا۔
  • معمولی خدمت لینا۔

وہ تصرفات جو ضرورت یا آزمائش کی حد سے تجاوز کر جائیں، خیار ساقط کردیتے ہیں:

  • سواری کو ذاتی ضرورت میں استعمال کرنا۔
  • بار بار وہی آزمائش دہرانا۔
  • کپڑا سردی سے بچنے کے لیے پہننا۔
  • باندی سے کثرت کے ساتھ خدمت لینا۔
  • زمین میں کاشت کرنا۔
  • کھیتی کو پانی دینا۔
  • فصل کاٹنا۔
  • پھل توڑنا۔
  • مکان میں سکونت اختیار کرنا۔
  • مکان کرایہ پر دینا۔
  • تعمیر، پلستر یا گرانا۔
  • دودھ دوہنا۔
  • دودھ پینا۔
  • جانور پر چارہ لادنا۔
  • جانور کی رگ کھولنا (ودج) یا علاجِ ملکیت والے تصرفات کرنا۔
  • مبیع کو فروخت کے لیے پیش کرنا[5]۔

خلاصہ یہ ہے کہ خیارِ شرط کے ختم ہونے اور بیع کے لازم ہونے کی بنیادی وجوہات چار ہیں: (1) صریح اجازت، (2) دلالتاً رضا پر دلالت کرنے والا تصرف، (3) مبیع میں ایسی تبدیلی واقع ہوجانا جو رد میں مانع بن جائے، اور (4) مدتِ خیار یا سببِ خیار کا زائل ہوجانا۔

 

 

 

ضابطہ: اگر مبیع مدتِ خیار میں ہلاک یا ایسا معیوب ہوجائے جو رد کو مانع ہو، تو خیار بائع کی صورت میں ضمان قیمت سے ہوگا، اور خیار مشتری کی صورت میں ضمان ثمن سے ہوگا۔  اگر خیار دونوں کے لیے ہو تو دونوں بدل اپنے اپنے مالک کی ملکیت میں باقی رہتے ہیں؛ اس لیے ہر ایک اپنے مال میں تصرف کرسکتا ہے اور وہ فسخ شمار ہوگا، جبکہ دوسرے کے مال میں تصرف صحیح نہیں ہوگا۔

اگر دونوں میں سے ایک نے بیع کو لازم کردیا اور دوسرے نے فسخ کردیا تو فسخ کو ترجیح ہوگی اور بیع منفسخ ہوجائے گی، خواہ فسخ پہلے ہو یا بعد میں، یا دونوں ایک ساتھ واقع ہوں۔

 

 

خیار تعیین

خیارِ تعیین کی حقیقت: یہ ہے کہ متعدد متعین قیمی  یا مختلف الجنس مثلی اشیاء میں سے کسی ایک پر لا علی التعیین عقد ہو، اور تعیین کے لیے خیار دیا جائے۔

شرائط: خیار تعیین کے لیے شرط ہے کہ (۱) صلب عقد میں خیار طے کیا جائے۔ (۲) خیارکی مدت طے ہو، یہ مدت کتنی بھی ہوسکتی ہے، البتہ غیر معمولی (عرف کے خلاف) مدت نہ ہو (۳) مختلف الجنس جیسے گیہوں چاول، یا متحد الجنس جس میں کئی کوالٹی کی اشیاء دستیاب ہوں خیار تعیین درست ہوتا ہے۔ ایسی متحد الجنس جس میں ایک ہی کوالٹی ہو جیسے انڈا اس میں خیار تعیین درست نہیں۔

احکام:

  • خیار تعیین میں مدت معینہ گزرنے کے بعد اگر کسی ایک کو طے نہ کرے تو عقد فسخ نہ ہوگا، بل کہ تعیین پر مجبور کیا جائے گا۔
  • خیار تعیین بائع اور مشتری دونوں کا حاصل ہوتا ہے۔
  • خیار تعیین میں میراث جاری ہوتی ہے۔ یعنی وارث خیارتعیین کی بنا پر مبیع متعین کر کے ترکہ سے ثمن ادا کرے گا۔
  • اگر دو خریدار یا دو بائع ایک عقد میں شریک ہوں اور دونوں کو خیار ہو، تو ایک کے رضا ظاہر کرنے کے بعد دوسرا اکیلا فسخ نہیں کرسکتا، اور نہ کوئی ایک دوسرے کی موافقت کے بغیر بیع کو لازم یا فسخ کرسکتا ہے۔
  • اگر خیارِ تعیین مشتری کے لیے لیا ہو اور کوئی ایک چیز ہلاک ہوجائے یاعیب دار ہوجائے تو اس مبیع میں اس کے ثمن کے عوض  بیع لازم ہوجائے گی ۔ اور اگر وہ دعوی کرے کہ اس نے موجود چیز یا بے عیب چیز بطور مبیع متعین کرلی تھی تو اس کا اعتبار نہ ہوگا، یعنی عیب دار ہونے سے دلالۃ وہ چیز بطور مبیع متعین ہوجائے گی، چناں چہ اس کے بعد دوسری چیز ہلاک ہوجائے، یا (تعدی کے بغیر) عیب دار ہوجائے تو اس دوسری چیز کی قیمت اس پر لازم نہ ہوگی (کیونکہ وہ امانت تھی)، اور اگر دونوں چیزیں (دو چیزوں میں خیار ہونے کی صورت میں) مشتری کے پاس ایک ساتھ ہلاک ہوجائیں تو مشتری پر ہر چیز کا نصف ثمن لازم ہوگا؛ کیونکہ دونوں چیزوں میں مبیع ہونے اور امانت ہونے کا معنی مشترک اور مساوی تھا، اس صورت میں خیار یا مشتری کا ہو یا بائع کا، حکم یکساں ہوگا، اسی طرح دونوں چیزیں ایک کے بعد دیگرے ہلاک ہوں گی تو ترتیب کا علم نہ ہو تو دونوں چیزوں کا نصف نصف ثمن مشتری پر لازم ہوگا[6]۔

 

 

 

 

خیار رویت

  • خیار رویت اسے کہتےہیں کہ کسی موجود سامان کو بغیر دیکھے خریدنا۔
  • یہ خیار دیکھنے پر ملتا ہے، اگر دیکھنے سے پہلے رضامندی کا اظہار کردے تب بھی خیار ساقط نہیں ہوگا، کیوں کہ خیار ملنے سے پہلے اسقاط معتبر نہیں۔ہاں اگر فسخ کردے تو فسخ  عقد کے غیرلازم ہونے کی وجہ سے نافذہوگا۔
  • دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ جس شئ کا جس ذریعہ سے  علم ہو اس کے ذریعہ اسے جاننا، جیسے سونگھنے والی چیزوں کو سونگھنا، چکھنے والی چیزوں کوچکھنا، ٹٹولنے والی چیزوں کوٹٹولنا۔ 
  • اگر خریدنے سے کافی پہلے خریدا ہو اگر مبیع اسی حالت پر موجود ہوتو خیار رویت نہیں ملے گا، الا یہ کہ اسے یاد نہ ہو۔ اور اگر مبیع کی حالت بدل گئی ہے تو خیار ملے گا۔
  • جس سے مقصد کا پتہ چل جائے اس کا دیکھنا کافی ہے، مبیع کے ہر جزء کا دیکھنا ضروری نہیں، جیسے جانور میں چہرہ اور سرین۔
  • خیار رویت صرف مشتری کو ملتا ہے بائع کو نہیں،الا یہ کہ ثمن عین ہو۔
  • خیار رویت شراء، اجارہ، تقسیم، مال کے دعوی میں کسی متعین شئ پر صلح کرنا، ان چار عقود میں ثابت ہوتا ہے، پس دیون (مافی الذمہ جیسے مسلم فیہ) اور ناقابل فسخ عقود میں خیار رویت نہیں ہوتاہے۔
  • موجودہ دور میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے پیش نظر بین ملکی معاملات میں خیار رویت اسی وقت ملے گا جب مبیع طے کردہ اوصاف کے مطابق نہ ہو[7]۔
  • خیار رویت کوئی مدت نہیں ہوتی ، یہ خیار اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک کہ خیار کو باطل کرنے والی کوئی شرط نہ پائی جائے ، اور خیار کو ختم کرنے والی شرائط حسب ذیل ہیں:
  1. ۔ مبیع کو دیکھ کر رضامندی کا اظہار کردینا۔
  2. ۔ مبیع میں کوئی تصرف جو رضامندی پر دلالت کرتا ہو، جیسے بیچ دینا، ہبہ کردینا۔ البتہ اس میں یہ تفصیل ہےکہ وہ تصرف جو ناقابل فسخ ہیں جیسے عتق یا قابل فسخ تو ہیں مگر اس سے دوسرے کا حق وابستہ ہوچکا ہے جیسے بیع، ہبہ مع التسلیم ایسے تصرف سے خیار ختم ہوجاتا ہے، خواہ یہ تصرف رویت سے پہلے کیا ہو یا رویت کے بعد، اور اگر وہ تصرف ایسا ہے جو قابل فسخ بھی ہے اور اس کے ساتھ کسی کا حق بھی وابستہ نہیں ہے تو اگر رویت سے قبل یہ تصرف ہو تو مبطل خیار نہیں اور رویت کے بعد ہو تو مبطل ہے۔
  3. مبیع میں عیب پیدا ہوجائے۔
  4. مبیع کے بعض کا رد متعذر ہوجائے۔ جیسے مبیع کے کچھ حصہ کو بیچ دے۔
  • خیار رویت ثبوت ملکیت سے مانع نہیں ہے، بل کہ صرف عقد کے لزوم کو مانع ہے۔
  • خیار رویت خیار شرط کی طرح تمامی صفقہ کو مانع ہے، یعنی خیار رویت کی وجہ سے صفقہ ناتمام رہتا ہے۔
  • خیار رویت، خیار عیب اور خیار شرط میں مبیع واپس کرنے کے اخراجات مشتری کے ذمہ ہیں۔ [8]

 

 

 

خیار العیب

تعریف: عیب وہ وصف ہے جو مبيع کی اصل خلقت یا متعارف فائدے سے ایسا انحراف پیدا کرے کہ اہلِ عرف، خصوصاً اہلِ خبرہ و تجار، اسے نقص شمار کریں، یا اس سے قیمت، منفعت، یا مقصودِ خرید میں واضح کمی آ جائے۔

عیب کا جامع معیار یہ ہے کہ مبيع میں ایسا نقص پایا جائے جو اصل خلقت، عرفِ تجار، یا مقصودِ غالب کو متاثر کرے، اور جسے اہلِ خبرہ واقعی کمی شمار کریں؛ نہ ہر ردیّت عیب ہے، نہ ہر خاص مقصد کا فوت ہونا۔

 اور جو وصف اصلِ خلقت میں غالباً پایا جاتا ہو، یا کسی خاص خریدار کے مقصد کو تو فوت کرے مگر عرفاً اسے عیب نہ سمجھا جائے، وہ ہر صورت میں عیب نہیں۔

  • فوائد  قیود
  • عیب کا مدار عرف اور اہلِ خبرہ پر ہے، محض خریدار کے ذاتی مقصد پر نہیں؛ اسی لیے اس چیز کا رد لازم نہیں ہوتا جو دوسرے خریدار کے لیے مفید ہو، اگرچہ اس خاص خریدار کے لیے بے کار ہو۔
  • ہر وہ چیز جو قیمت یا منفعت میں واقعی کمی پیدا کرے، عیب ہے؛ جیسے عضو کا ناقص ہونا، واضح جسمانی نقص، یا ایسی بیماری جو استعمال کو کم کر دے۔
  • ہر ردی پن عیب نہیں ہوتا؛ مثلاً گندم کا ردی، معمولی، یا متوسط ہونا عیب نہیں، کیونکہ غلہ خلقۃً اچھا، ردی اور متوسط تینوں طرح پیدا ہوتا ہے۔
  • جو نقص آفتِ عارضہ سے پیدا ہو اور اصلِ خلقت کو بگاڑ دے وہ عیب ہے؛ جیسے سُوس، عفن، بلل، یا ایسی بیماری جو دانے، جانور، یا چیز کی تکمیل روک دے۔
  • جس وصف کا بازار اور اہلِ صنعت عیب ہونا مانیں، وہ عیب ہے؛ اور جسے وہ عیب نہ مانیں، وہ محض کمی ہونے کے باوجود شرعاً عیب نہیں بنے گا۔
  • کسی چیز کا کسی خاص غرض کے لیے غیر موزوں ہونا ہمیشہ عیب نہیں؛ جیسے شجر کا دروازہ بنانے کے قابل نہ رہنا، یا خف/ثوب/قلنسوہ کا چھوٹا نکلنا، کیونکہ یہ دوسروں کے لیے قابلِ استعمال رہ سکتا ہے۔
  • اگر خاص غرض کو پورا نہ کرنا خریدار نے صراحتاً یا عرفِ خاص کے ساتھ ملحوظ رکھا ہو تو پھر رد یا نقصان کا حق ثابت ہو سکتا ہے؛ مثلاً قربانی کے لیے خریدا ہوا جانور ایسا نکلے جو قربانی کے لائق نہ ہو، مگر اسے خیار عیب کے بجائے خیار فوات وصف مرغوب کہا جائے گا۔
  • سست رفتار، بڑھاپا، یا ثیوبت بذاتِ خود عیب نہیں؛ الا یہ کہ ان کی عدمِ موجودگی شرط کی گئی ہو، یا عرفِ خاص میں وہ عیب شمار ہوں۔
  • جانور یا باندی/غلام میں وہ عیوب معتبر ہیں جو بدن، خدمت، یا مقصودِ ملکیت کو متاثر کریں؛ جیسے اندھا پن، کانا پن، لنگڑا پن، بہرا پن، گونگا پن، زائد یا ناقص انگلی، اور جسمانی خلل۔
  • جس عیب سے وطی یا نکاح کا مقصود فوت ہو جائے وہ قوی عیب ہے؛ جیسے قرن، عفل، رتق، یا ایسی حالتیں جو مباشرت یا انتفاع میں مانع ہوں۔
  • جاری بیماری یا اندرونی دَاء پر دلالت کرنے والے آثار بھی عیب ہیں؛ جیسے نجر، دفر، یا کوئی ایسا عارضہ جو باطن کے مرض پر دلالت کرے۔
  • جاری حمل باندی میں عیب ہے، لیکن بہائم میں اصل حکم یہ نہیں؛ البتہ اگر حمل یا ولادت سے واضح نقصان پیدا ہو تو بکری، گائے، گھوڑی وغیرہ میں بھی عیب کا حکم لگ سکتا ہے۔
  • جاری ولادت بذاتِ خود ہمیشہ عیب نہیں؛ اگر ولادت سے ظاہری نقصان نہ ہو تو بعض روایات میں وہ عیب نہیں، لیکن اگر نقصانِ بین ہو تو رد ممکن ہے۔
  • غلام یا جانور میں وہ وصف جو لوگوں کے عرف میں عیب شمار ہو، وہی شرعاً معتبر ہوگا۔
  • اگر چیز ایسی ہو کہ اس کی وجہ سے شرعی مقصد فوت ہو جائے تو وہ عیب بن سکتی ہے، اگرچہ ظاہراً نقص معمولی ہو؛ جیسے شاةِ قربانی میں ایسا نقص جو قربانی کو مانع ہو۔
  • ہر وہ نقص جو صرف ایک خریدار کے لیے مانع ہو اور عرف میں عیب نہ ہو، وہ مطلق عیب نہیں؛ مگر خاص شرط یا خاص خریداری کے مقصود کی وجہ سے اس سے رد یا نقصان کا حق پیدا ہو سکتا ہے، جسے خیار فوات وصف مرغوب کہا جاتا ہے[9]۔

 

شرائط خیار عیب:

خیارِ عیب کے ثبوت کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:

  1. عیب کا موجود ہونا عقد کے وقت یا قبض سے پہلے ضروری ہے، یعنی عیب یا تو بیع کے وقت موجود ہو یا بیع کے بعد مگر قبض سے پہلے پیدا ہو؛ قبض کے بعد پیدا ہونے والا عیب موجبِ خیار نہیں بنتا۔
  2. عیب کا مشتری کے حق میں ثابت ہونا ضروری ہے، یعنی مبیع پر قبضہ کے بعد بھی وہ عیب باقی ہو اور اس کی نسبت مشتری کی طرف نہ کی جا سکے، صرف بائع کے علم یا ثبوت سے خیار ثابت نہیں ہوتا۔
  3. عیب ایسا ہو کہ عقد کے بعد مشتری کے پاس باقی رہے، اور اس سے پہلے زائل نہ ہو، کیونکہ اگر عیب فسخ سے پہلے ختم ہو جائے (جیسے بیماری یا عیب کا خود بخود رفع ہو جانا) تو خیار باقی نہیں رہتا۔
  4. مشتری کا عیب سے نا واقف ہونا شرط ہے، لہٰذا اگر مشتری کو عقد کے وقت یا قبض کے وقت عیب کا علم ہو تو اس کا حقِ خیار ساقط ہو جاتا ہے۔
  5. مبیع سے براءت عن  کل عیب کی شرط نہ پائی جائے، کیونکہ اگر بائع نے عیوب سے براءت کی شرط کر لی ہو تو عند الحنفیہ مشتری کے لیے خیار ثابت نہیں رہتا۔
  6. مبیع میں قبض کے بعد کوئی نیا عیب پیدا نہ ہوا ہو، کیونکہ حدثِ جدید کی صورت میں رد کا حق ساقط یا محدود ہو جاتا ہے۔
  7. مبیع اپنی اصلی حالت پر باقی ہو، یعنی اس میں ایسا تغیر یا تصرف نہ ہوا ہو جو اس کی اصل صورت کو بدل دے اور ردِ عین میں مانع بن جائے۔
  8. عیب ایسا نہ ہو جسے مشتری آسانی سے بغیر مشقت کے دور کر سکتا ہو پس اگر وہ آسانی سے زائل ہو سکتا ہو (مثلاً نجاست جو فوراً دھل سکتی ہے یا ایسی حالت جو علاج سے فوراً ختم ہو جائے) تو خیار ثابت نہیں ہوتا۔
  9. مشتری نے مبیع میں ایسا تصرف نہ کیا ہو جو ملکیت یا رضا پر دلالت کرے، جیسے بیع، ہبہ یا ایسا استعمال جو اس کی واپسی کو عرفاً ناممکن بنا دے[10]۔
  10. فسخ بیع کے مطالبہ میں اس قدر تاخیر نہ ہو جس سے تجار کے عرف میں ختم سمجھا جاتا ہو[11]۔

 

ضابطہ: عیبِ قدیم کے ظاہر ہونے کے بعد اگر ردِ مبیع کسی غیر اختیاری یا شرعی مانع کی وجہ سے متعذر ہوجائے تو مشتری کو ارش (بدل) کا حق حاصل ہوگا، اور اگر رد کا تعذر خود مشتری کے ایسے تصرف سے ہو جو عیب پر رضا یا حبسِ مبیع کے معنیٰ میں ہو تو نہ رد کا حق باقی رہے گا اور نہ ارش کا۔

تفریعات

(1) رجوع بالنقصان ہوگا

ایسی صورتیں جن میں رد ممکن نہیں رہا، لیکن مشتری حابسِ مبیع نہیں سمجھا جاتا:

  • باندی سے وطی کرلی، بوسہ یا لمسِ شہوت کیا۔
  • کپڑا سی دیا۔
  • کپڑے کو رنگ دیا۔
  • ستو میں گھی ملا دیا۔
  • گندم پیس کر آٹا بنادیا۔
  • آٹے کی روٹی پکالی۔
  • گوشت بھون لیا۔
  • لکڑی میں تعمیر یا غرس کردیا۔
  • مبیع میں ایسی متصل زیادت پیدا ہوگئی جو اصل مال سے جدا نہیں ہوسکتی۔
  • غلام مرگیا۔
  • غلام کو بلا عوض آزاد کردیا۔
  • مدبر بنادیا۔
  • ام ولد بنادیا۔
  • ان صورتوں کے بعد مبیع فروخت کردیا۔

ان تمام صورتوں میں:

رد متعذر ہے، لہٰذا مشتری نقصانِ عیب وصول کرے گا۔


(2) نہ رد ہوگا نہ رجوع بالنقصان

جب مشتری نے عیب معلوم ہونے کے بعد ایسا تصرف کیا جو عیب پر رضا کی دلیل ہو، یا جس سے وہ مبیع کا حابس شمار ہو:

  • عیب جاننے کے بعد مبیع فروخت کردی۔
  • عیب جاننے کے بعد ہبہ کردی۔
  • عیب جاننے کے بعد رہن رکھ دیا۔
  • عیب جاننے کے بعد کرایہ پر دے دیا۔
  • عیب جاننے کے بعد فروخت کے لیے پیش کردیا۔
  • عیب جاننے کے بعد استعمال کیا۔
  • عیب جاننے کے بعد باندی سے وطی کی۔

یہ سب رضا بالعیب ہیں۔

لہٰذا:

نہ رد کا حق رہے گا اور نہ ارش کا۔


(3) رد ہوگا

جب عیب معلوم ہو اور کوئی مانع پیدا نہ ہوا ہو:

  • مبیع اپنی اصل حالت میں موجود ہو۔
  • مشتری نے عیب پر رضا ظاہر نہ کی ہو۔
  • ایسا تصرف نہ کیا ہو جو رد کو مانع بنے۔

تو:

مشتری پورا مبیع واپس کرکے پورا ثمن لے گا[12]۔

 

 

ضابطہ: اگر مشتریِ ثانی نے مبیع کو عیب کی بنا پر قاضی کے فیصلے سے واپس کیا ہو تو مشتریِ اول کو بھی اپنے بائع پر اسی عیب کی بنا پر رجوع اور رد کا حق حاصل ہوگا؛ کیونکہ قضائی رد فسخِ محض ہے، گویا دوسرا عقد سرے سے ہوا ہی نہیں۔ البتہ اگر رد باہمی رضامندی سے ہوا ہو تو مشتریِ اول کو اپنے بائع پر رد کا حق نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ فسخ نہیں بلکہ نئے عقد کے حکم میں ہے۔

تفریعات

  1. زید نے بکر سے غلام خریدا، پھر خالد کو بیچ دیا، خالد نے عیب ثابت کرکے قاضی کے فیصلے سے غلام زید کو واپس کردیا تو زید بھی بکر پر اسی عیب کی وجہ سے رد کرسکتا ہے۔
  2. اگر خالد نے زید کی رضامندی سے (بغیر فیصلۂ قاضی) غلام واپس کردیا تو زید بکر پر رد نہیں کرسکتا؛ کیونکہ یہ اقالہ ہے، اور اقالہ تیسرے شخص کے حق میں بیعِ جدید شمار ہوتی ہے۔
  3. اگر مشتریِ ثانی کا رد قبضہ سے پہلے ہوا تو  زمین جائیداد کے علاوہ میں  قضاء اور رضامندی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؛ یعنی رد فسخِ محض ہوگا اور مشتریِ اول اپنے بائع پر رجوع کرسکے گا۔کیوں کہ منقولی اشیاء کی بیع قبل القبض نہیں ہوسکتی، اس لیے باہمی فسخ کو بیع نہیں قرار دیا جاسکتا ، اس کے برخلاف  عقار کی بیع قبل القبض جائز ہے، اس لیے باہمی رضامندی والے رد کو بیع قرار دیا جاسکتا ہے۔
  4. اگر  عقار کے علاوہ میں قبضہ کے بعد بغیر قضاء کے رد ہوا تو صحیح قول کے مطابق مشتریِ اول اپنے بائعِ اول سے رد کا مطالبہ نہیں کرسکتا، اگرچہ عیب ایسا ہو جو بعد میں پیدا نہیں ہوسکتا، جیسے زائد انگلی وغیرہ[13]۔

 

 

 

 

ضابطہ:اگر مبیع میں ایسا سبب موجود ہو جو بائع کے زمانے میں پیدا ہو چکا تھا اور اسی سبب کی بنا پر بعد میں مشتری کے قبضہ میں مبیع تلف یا ناقص ہو جائے، تو مشتری کو اس نقصان کی تلافی کا حق حاصل ہوگا؛ اور اگر یہ سبب استحقاق کے مشابہ ہو (جیسے قتلِ موجبِ قصاص، ارتداد یا سرقہ)، تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کا حکم محض عیب کا نہیں بلکہ استحقاق کے قریب ہوگا، اس لیے رجوع کا حق بعد کے بیوع میں بھی باقی رہتا ہے۔

 

تفریعات

  • اگر غلام نے بائع کے زمانے میں ایسا قتل کیا تھا جس کی وجہ سے وہ قصاص کا مستحق تھا، پھر مشتری کے قبضہ میں قصاصاً قتل کر دیا گیا، تو مشتری پورا ثمن واپس لے سکتا ہے۔
  • اگر غلام بائع کے زمانے میں مرتد ہو چکا تھا اور مشتری کے قبضہ میں اس ارتداد کی وجہ سے قتل کر دیا گیا، تو مشتری پورا ثمن واپس لینے کا حق رکھتا ہے۔
  • اگر غلام نے بائع کے زمانے میں چوری کی تھی اور مشتری کے قبضہ میں اسی سرقہ کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، تو مشتری کو اختیار ہے کہ:
    • مقطوع غلام واپس کرکے پورا ثمن لے لے، یا
    • غلام اپنے پاس رکھ کر نصف ثمن واپس لے لے۔
  • اگر مقطوع غلام کو واپس کرنے سے پہلے وہ اسی زخم کے اثر سے مر جائے تو اب رد ممکن نہیں رہے گا، لہٰذا مشتری صرف نصف ثمن کا مستحق ہوگا۔
  • اگر سرقہ بائع اور مشتری دونوں کے زمانے میں ہوئی ہو اور ہاتھ دونوں سرقوں کی وجہ سے کاٹا گیا ہو، تو نقصان دونوں سببوں پر تقسیم کیا جائے گا۔
  • اگر یہ غلام متعدد خریداروں کے ہاتھوں فروخت ہوتا رہا، پھر آخری خریدار کے پاس قتل یا قطع واقع ہوا، تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ہر بائع اپنے اوپر والے بائع سے رجوع کرسکتا ہے، کیونکہ یہ معاملہ استحقاق کے مشابہ ہے۔
  • امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک اس کا حکم عیب کا ہے، اس لیے صرف آخری خریدار اپنے بائع سے رجوع کرے گا، اس سے پہلے والے بائعوں کا سلسلہ وار رجوع نہیں ہوگا۔
  • امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اگرچہ خریداروں کو اس سبب (قتل، ارتداد یا سرقہ) کا پہلے سے علم بھی ہو، تب بھی رجوع کا حق باقی رہتا ہے؛ کیونکہ علمِ استحقاق، حقِ رجوع کو ساقط نہیں کرتا[14]۔

 

 

 

خیار خلف

(خیار فوات وصف مرغوب)

خیار خلف: اس کا مطلب یہ ہے کہ خریدار نے بائع سے کسی خاص وصف کا صراحۃ یا دلالۃ مطالبہ کر کے خریدا ہو  کہ اس میں فلاں وصف موجود ہے۔ اب اگر اس میں وہ وصف مفقود ہے تو مشتری کو اختیار ہوگا۔

جیسے کسی بکری کو یہ کہہ کر بیچا ہو کہ یہ دودھاری ہے جب کہ وہ دودھ نہیں دیتی ہے۔ دلالۃ مطالبہ کی مثال یہ ہےکہ قربانی کے ایام میں ایسا جانور بیچا جو قربانی کی عمر کو نہیں پہنچا ہے۔اس خیار کا دوسرا نام ’’خیار فوات وصف مرغوب‘‘ہے۔

حکم:

خیار فوات وصف میں خیار عیب کی طرح مبیع کو واپس کر کے کل ثمن واپس لے ، ہاں اگر خیار عیب میں ذکر کردہ موانع میں سے کوئی مانع رد پیش آجائے تو قیمتوں کا فرق وصول کرے گا، یعنی اس وصف سے متصف اور غیر متصف مبیع کے درمیان کا فرق  وصول کرے گا۔

اگر مبیع کا لوٹانا ممکن ہو اور عاقدین بیع فسخ کرنے کے بجائے قیمتوں کے فرق لینے پر راضی ہوں تو ایسا کرسکتے ہیں۔

اگر مشتری کو ملنے والی مبیع طے کردہ مقدار سے کم ہواور ثمن کو اجزاء مبیع پر تقسیم کیا جاسکتا ہو تو مشتری کو اختیار ہوگا چاہے تو بیع فسخ کردے یا مبیع کے حصوں کے بقدر ثمن دے کر مبیع رکھ لے[15]۔

 

 

 

 

 

خیار مغبون

(خیار غبن فاحش)

خیار مغبون : اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کوئی چیز بازاری قیمت سے غیر معمولی اضافہ کے ساتھ بیچ دی جائے، اگر اس صورت میں بائع کی طرف سےتغریر یا تدلیس (دھوکہ دہی)  پائی گئی تو مشتری کو خیار حاصل ہوگا۔

تغریر: قولا دھوکہ دہی مثلا یہ کہہ کر بیچنا کہ یہی بازای نرخ ہے۔

تدلیس: فعلا دھوکہ دہی ، یعنی مبیع کے ساتھ ایسی ملمع سازی کرنا جس سے خریدار دھوکہ کھا کر زیادہ قیمت دینے پر آمادہ ہوجائے[16]۔

 

 

 

 

خیار نقد

خیار نقد:  کا مطلب یہ ہے کہ مشتری وقتِ مقررہ تک ثمن کی ادائیگی کر دے گا ورنہ بیع رد ہو جائے گی۔ ایسی شرط لگانا جائز ہے، اور مشتری وقتِ مقررہ تک ثمن ادا نہ کرے تو بیع فاسد ہوگی۔ (اور بیع فاسد کے احکام جاری ہوں گے۔

وقتِ مقررہ میں ثمن ادا کیے بغیر مشتری مبیع فروخت کر دے تو یہ بیع جائز ہوگی، اور مشتری پر ثمن کی ادائیگی واجب ہوگی۔

اگر مبیع خود بخود (کسی کی بھی تعدی کے بغیر) عیب دار ہو جائے اور ثمن ادا کیے بغیر مدتِ خیار گزر جائے تو بائع کو اختیار ہوگا کہ وہ چاہے تو مبیع مع نقصان واپس لے لے اور ثمن چھوڑ دے۔ اور چاہے تو مبیع مشتری کے پاس رہنے دے اور ثمن وصول کر لے۔

خیارِ نقد کی مدت کے دوران مشتری کی موت ہو جائے تو خیار باطل (ختم) ہو جائے گا اور اس میں میراث جاری نہ ہوگی[17]۔

 

[1] الاختيار لتعليل المختار 2/12.

[2] بداية المجتهد 3/225

[3] صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي :77

[4]  بدائع الصنائع ۵/۲۶۶، ۲۶۷، الدر والرد ۴/ ۵۷۲، الی ۸۷۸

[5]  بدائع الصنائع ۵/۲۶۷، الی ۲۷۳

[6] الدر و الرد ۴/۵۸۵، ۵۸۶، ۵۸۷، صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 79, 80

[7]  

[8]  الدر والرد ۴/۵۹۳، ۵۹۴، ۵۹۵، و الہندیۃ ۳/۵۸، ۵۹، ۶۱، صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي ۶۸, ۶۹

[9]  الدر المختار و رد المحتار ۵ /۴،۵ الہندیۃ ۳ /۶۷

[10]  الہندیۃ ۳ /۶۶۔۶۷ الرد ۵ /۵

[11]  صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 70

[12] درر الحکام شرح غرر الأحکام و حاشية الشرنبلالي ۲/۱۶۲

[13]  المصدر السابق (الدرر و الحاشیۃ)

[14]  الدر و الرد 5/41

[15] صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 76

[16]  الدر المختار مع الرد ۵/۱۲۴ و صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 76

[17]  صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 81

Share This Blog