+91 84848 00418
islamstudy@gmail.com
خیارِ شرط: وہ اختیار ہے جو عقد کے وقت یا عقد کے بعد فریقین میں سے کسی ایک کو، یا دونوں کو یا کسی تیسرے شخص کے لیے مقرر کیا جائے، تاکہ مقررہ مدت کے اندر وہ عقد کو باقی رکھے یا فسخ کردے۔
خیار شرط صرف بائع، یا صرف مشتری، یا بیک وقت دونوں کو، یا دونوں کے علاوہ کسی اور کو ،کل مبیع یا بعض مبیع میں ہوسکتا ہے، خیارشرط عقد کے وقت بھی لیا جاسکتا ہے اور عقد کےبعد بھی۔
خیارِ شرط کا مقصد فسخ کا اختیار دینا ہے، نہ کہ عقد کی اجازت دینا؛ لہٰذا جب مقررہ مدت گزر جائے اور فسخ نہ کیا جائے تو عقد لازم ہوجاتا ہے۔
مدت خیار : امام ابوحنیفہ کے یہاں تین دن، اور صاحبین کے یہاں جو بھی مدت عاقدین کے اتفاق سے طے ہوجائے[1]۔ مالکیہ کے یہاں مبیع کی حسب حال مدت خیار مختلف ہوسکتی ہے[2]۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے فقہ البیوع کی تلخیص (صیغۃ مقترحۃ لقانون البیع الاسلامی میں اسی کو ترجیح دی ہے اور فرمایا کہ مدت خیار مبیع کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے البتہ ایسی مدت نہ ہو کہ عقد بلاضرورت (اتنی مدت جو تأمل کی ضرورت سے زیادہ ہو) معلق رہے[3]۔
کن عقود میں خیارِ شرط صحیح ہے:خیار شرط ہر ایسے لازم عقد میں ہوسکتا ہے جو قابل فسخ ہے: اور وہ سولہ عقود ہیں: 11۔ ترکِ شفعہ (طلبین کے بعد)، 2۔ بیع، 3۔ ابراء، 4۔ وقف، 5۔ کفالت، 6۔ قسمہ، 7۔ خلع، 8۔ عتق علی مال، 9۔ اقالہ، 10۔ صلح عن مال، 11۔ حوالہ، 12۔ مکاتبت، 13۔ رہن، 14۔ اجارہ، 15۔ مساقات، 16۔ مزارعت۔
کن عقود میں خیارِ شرط صحیح نہیں ہے:۔1 نذر، 2۔ نکاح، 3۔ یمین، 4۔ سلم، 5۔ صرف، 6۔ طلاق، 7۔ وکالت، 8۔ اقرار، 9۔ وصیت۔
علامہ شامی نے اسے درج ذیل اشعار میں جمع کیا ہے:
«يصح خيار الشرط في ترك شفعة … وبيع وإبراء ووقف كفاله
«وفي قسمة خلع وعتق إقاله … وصلح عن الأموال ثم الحواله
مكاتبة رهن كذاك إجارة … وزيد مساقاة مزارعة له
وما صح في نذر نكاح ألية … وفي سلم صرف طلاق وكاله
وإقرار إيهاب وزيد وصية … كما مر بحثا فاغتنم ذي المقاله»
خیار شرط کا حکم: اگر بائع نے خیارِ شرط رکھا تو مبیع اس کی ملکیت سے خارج نہیں ہوگی، اور اگر مشتری نے خیارِ شرط رکھا تو مبیع بائع کی ملکیت سے بالاتفاق خارج ہوجائے گی، البتہ مشتری کی ملکیت میں داخل ہونے کے بارے میں اختلاف ہے؛ صاحبینؒ کے نزدیک مشتری کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مشتری کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی۔ اور اگر خیار دونوں کے لیے ہو تو نہ مبیع بائع کی ملکیت سے خارج ہوگی اور نہ ثمن مشتری کی ملکیت سے۔
تشریح
خیارِ شرط کا اثر ملکیت کے انتقال پر اختیار رکھنے والے شخص کے اعتبار سے ہوتا ہے؛ لہٰذا جس کے لیے خیار ہو، عقد اس کی جانب سے حکماً لازم نہیں ہوتا، اور اسی کی طرف ملکیت کا انتقال بھی موقوف رہتا ہے، جبکہ جس کی جانب خیار نہ ہو، اس کی طرف عقد لازم شمار ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اگر خیار دونوں کے لیے ہو تو نہ مبیع بائع کی ملک سے نکلتی ہے اور نہ ثمن مشتری کی ملک سے؛ اگر صرف بائع کے لیے ہو تو مبیع بائع کی ملک سے خارج نہیں ہوتی، البتہ ثمن مشتری کی ملک سے خارج ہوجاتا ہے؛ اور اگر صرف مشتری کے لیے ہو تو مبیع بائع کی ملک سے خارج ہوجاتی ہے، جبکہ ثمن مشتری کی ملک سے خارج نہیں ہوتا۔ البتہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس صورت میں مبیع مشتری کی ملک میں داخل نہیں ہوتی، بلکہ صرف بائع کی ملک سے خارج ہوتی ہے، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک وہ مشتری کی ملک میں داخل بھی ہوجاتی ہے۔
تفریعات
● ذو رحمِ محرم کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدنے سے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک وہ فوراً آزاد نہیں ہوتا؛ کیونکہ ابھی مشتری کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک خریدتے ہی آزاد ہوجاتا ہے۔
● اگر کسی غلام سے پہلے یہ کہا تھا: "اگر میں تمہیں خریدوں تو تم آزاد ہو"، پھر اسے خیارِ شرط کے ساتھ خریدا، تو بالاتفاق خریدتے ہی آزاد ہوجائے گا؛ کیونکہ یہ تعلیقی عتق ہے، اور شرط پائے جانے پر نافذ ہوجاتا ہے۔
● اپنی منکوحہ جس سے اولاد ہواس کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدنے سے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک وہ فوراً اُمِّ ولد نہیں بنتی، کیوں کہ ابھی وہ مملوکہ نہیں بنی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک بنتی ہے، کیوں کہ صاحبین کے یہاں مملوکہ ہوگئی ہے۔
● اپنی بیوی کو خیارِ شرط کے ساتھ خریدنے سے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نکاح برقرار رہتا ہے، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک نکاح ختم ہوجاتا ہے، کیوں کہ ملک یمین اور ملک نکاح کا اجتماع محال ہے۔
● اگر مشتری نے مدتِ خیار میں اپنی اسی بیوی سے وطی کی تو کنواری ہونے کی صورت میں سب کے نزدیک یہ اجازتِ بیع شمار ہوگی، کیوں کہ وطی سے نقص پیدا ہوگا، اور مدت خیار میں مبیع میں کوئی نقص پیدا کردینے سے بیع لازم ہوجاتی ہے۔ جبکہ ثیبہ ہونے کی صورت میں امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک خیار باقی رہے گا اور صاحبینؒ کے نزدیک خیار ختم ہوجائے گا، کیوں کہ امام صاحب کے یہاں وطی بحکم نکاح ہے، لہذا وطی سے کوئی تصرف نہیں پایا گیا ، جب کہ صاحبین کے یہاں ملک یمین میں وطی پائی گئی ، اور مدت خیار میں مالکانہ تصرف سے خیار ختم ہوجاتا ہے۔
● اگر خریدی ہوئی لونڈی مدتِ خیار میں حیض دیکھ لے، پھر مشتری بیع کو لازم کردے، تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ حیض استبراء کے لیے کافی نہیں، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک کافی ہے۔
● اگر مشتری نے خیارِ شرط کے ساتھ مبیع قبضہ کرکے بائع ہی کے پاس بطور امانت رکھ دیا، پھر وہ ہلاک ہوگئی، تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ضمان بائع پر ہوگا اور بیع باطل ہوجائے گی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک ضمان مشتری پر ہوگا اور ثمن لازم ہوگا۔
● اگر ذمی نے خیارِ شرط کے ساتھ شراب یا خنزیر خریدا، پھر قبضہ کے بعد مشتری مسلمان ہوگیا، تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک عقد باطل ہوجائے گا، کیوں کہ مسلمان ہونے کے بعد خیار کا مالک نہیں بن سکتا ہے،جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک برقرار رہے گا، کیوں کہ وہ اسلام سے قبل مالک ہوچکا ہے۔
● اگر مبیع مکان ہو اور خیارِ شرط بائع کے لیے ہو تو شفیع کو حقِ شفعہ ثابت نہیں ہوگا؛ کیونکہ مبیع بائع کی ملکیت سے خارج نہیں ہوئی۔ اور اگر خیارِ شرط مشتری کے لیے ہو تو بالاتفاق شفیع کو حقِ شفعہ ثابت ہوگا؛ کیونکہ صاحبینؒ کے نزدیک مبیع مشتری کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اگرچہ مشتری کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتی، لیکن بائع کی ملکیت سے خارج ہوجاتی ہے، اور حقِ شفعہ کا مدار زوالِ ملکِ بائع پر ہے، نہ کہ ثبوتِ ملکِ مشتری پر۔
● اگر بائع کے لیے خیار ہو اور وہ مبیع کو آزاد کردے تو عتق نافذ ہوگا اور بیع فسخ ہوجائے گی۔
● اگر بائع بدل (جاریہ) کو آزاد کردے تو یہ اس کی طرف سے خیار ساقط کرنے اور بیع کو لازم کرنے کے قائم مقام ہوگا۔
● اگر بائع دونوں بدلین کو آزاد کردے تو دونوں کا عتق نافذ ہوگا، البتہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک جاریہ کی قیمت بھی لازم ہوگی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک قیمت لازم نہیں ہوگی۔
● اگر مشتری مبیع یا اس کے بدل کو آزاد کرے تو اس کا عتق نافذ نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی[4]۔
ضابطہ:خیارِ شرط اس وقت ساقط ہوکر عقد لازم ہوجاتا ہے جب صاحبِ خیار کی طرف سے صراحتاً یا دلالتاً عقد پر رضا کا اظہار ہوجائے، یا ایسا امر پیش آجائے جس سے فسخ کا حق یا محلِ فسخ ختم ہوجائے، یا مدتِ خیار ختم ہوجائے، یا شرعاً خود خیار کا سبب زائل ہوجائے۔
اس کی تفصیل چار اصولوں میں سمٹ جاتی ہے:
(1) صریح اجازت (رضا) کا صدور۔
(2) ایسا تصرف جس سے ملک کی رضا یا استقرارِ ملک ثابت ہو، یا جو صرف مالک ہی کرسکتا ہو۔
(3) ایسا عارضہ پیدا ہوجانا جس سے فسخ اور رد ممکن نہ رہے یا محلِ رد میں تبدیلی آجائے۔
(4) خیار کا سبب یا مدت ختم ہوجانا، جیسے مدت کا گزر جانا، موت، یا ولایت کا زوال وغیرہ۔
تفریعات:
اس ضابطے کے تحت مذکورہ تمام جزئیات کو اس طرح مرتب کیا جاسکتا ہے:
اول: صریح اجازت سے خیار ساقط ہوتا ہے
دوم: دلالتاً رضا ثابت کرنے والے تصرفات:
(الف) ثمن میں تصرف (بائع)
(ب) مبیع میں تصرف (مشتری):
ہر ایسا تصرف جو مالک ہی کرسکتا ہو، مثلاً:
سوم: وہ امور جن سے رد متعذر ہوجاتا ہے
چہارم: مدت یا سببِ خیار کا زوال
وہ تصرفات جو صرف امتحان و تجربہ کے لیے ہوں، خیار ساقط نہیں کرتے:
وہ تصرفات جو ضرورت یا آزمائش کی حد سے تجاوز کر جائیں، خیار ساقط کردیتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ خیارِ شرط کے ختم ہونے اور بیع کے لازم ہونے کی بنیادی وجوہات چار ہیں: (1) صریح اجازت، (2) دلالتاً رضا پر دلالت کرنے والا تصرف، (3) مبیع میں ایسی تبدیلی واقع ہوجانا جو رد میں مانع بن جائے، اور (4) مدتِ خیار یا سببِ خیار کا زائل ہوجانا۔
ضابطہ: اگر مبیع مدتِ خیار میں ہلاک یا ایسا معیوب ہوجائے جو رد کو مانع ہو، تو خیار بائع کی صورت میں ضمان قیمت سے ہوگا، اور خیار مشتری کی صورت میں ضمان ثمن سے ہوگا۔ اگر خیار دونوں کے لیے ہو تو دونوں بدل اپنے اپنے مالک کی ملکیت میں باقی رہتے ہیں؛ اس لیے ہر ایک اپنے مال میں تصرف کرسکتا ہے اور وہ فسخ شمار ہوگا، جبکہ دوسرے کے مال میں تصرف صحیح نہیں ہوگا۔
● اگر دونوں میں سے ایک نے بیع کو لازم کردیا اور دوسرے نے فسخ کردیا تو فسخ کو ترجیح ہوگی اور بیع منفسخ ہوجائے گی، خواہ فسخ پہلے ہو یا بعد میں، یا دونوں ایک ساتھ واقع ہوں۔
خیارِ تعیین کی حقیقت: یہ ہے کہ متعدد متعین قیمی یا مختلف الجنس مثلی اشیاء میں سے کسی ایک پر لا علی التعیین عقد ہو، اور تعیین کے لیے خیار دیا جائے۔
شرائط: خیار تعیین کے لیے شرط ہے کہ (۱) صلب عقد میں خیار طے کیا جائے۔ (۲) خیارکی مدت طے ہو، یہ مدت کتنی بھی ہوسکتی ہے، البتہ غیر معمولی (عرف کے خلاف) مدت نہ ہو (۳) مختلف الجنس جیسے گیہوں چاول، یا متحد الجنس جس میں کئی کوالٹی کی اشیاء دستیاب ہوں خیار تعیین درست ہوتا ہے۔ ایسی متحد الجنس جس میں ایک ہی کوالٹی ہو جیسے انڈا اس میں خیار تعیین درست نہیں۔
احکام:
تعریف: عیب وہ وصف ہے جو مبيع کی اصل خلقت یا متعارف فائدے سے ایسا انحراف پیدا کرے کہ اہلِ عرف، خصوصاً اہلِ خبرہ و تجار، اسے نقص شمار کریں، یا اس سے قیمت، منفعت، یا مقصودِ خرید میں واضح کمی آ جائے۔
عیب کا جامع معیار یہ ہے کہ مبيع میں ایسا نقص پایا جائے جو اصل خلقت، عرفِ تجار، یا مقصودِ غالب کو متاثر کرے، اور جسے اہلِ خبرہ واقعی کمی شمار کریں؛ نہ ہر ردیّت عیب ہے، نہ ہر خاص مقصد کا فوت ہونا۔
اور جو وصف اصلِ خلقت میں غالباً پایا جاتا ہو، یا کسی خاص خریدار کے مقصد کو تو فوت کرے مگر عرفاً اسے عیب نہ سمجھا جائے، وہ ہر صورت میں عیب نہیں۔
شرائط خیار عیب:
خیارِ عیب کے ثبوت کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:
ضابطہ: عیبِ قدیم کے ظاہر ہونے کے بعد اگر ردِ مبیع کسی غیر اختیاری یا شرعی مانع کی وجہ سے متعذر ہوجائے تو مشتری کو ارش (بدل) کا حق حاصل ہوگا، اور اگر رد کا تعذر خود مشتری کے ایسے تصرف سے ہو جو عیب پر رضا یا حبسِ مبیع کے معنیٰ میں ہو تو نہ رد کا حق باقی رہے گا اور نہ ارش کا۔
تفریعات
(1) رجوع بالنقصان ہوگا
ایسی صورتیں جن میں رد ممکن نہیں رہا، لیکن مشتری حابسِ مبیع نہیں سمجھا جاتا:
ان تمام صورتوں میں:
رد متعذر ہے، لہٰذا مشتری نقصانِ عیب وصول کرے گا۔
(2) نہ رد ہوگا نہ رجوع بالنقصان
جب مشتری نے عیب معلوم ہونے کے بعد ایسا تصرف کیا جو عیب پر رضا کی دلیل ہو، یا جس سے وہ مبیع کا حابس شمار ہو:
یہ سب رضا بالعیب ہیں۔
لہٰذا:
نہ رد کا حق رہے گا اور نہ ارش کا۔
(3) رد ہوگا
جب عیب معلوم ہو اور کوئی مانع پیدا نہ ہوا ہو:
تو:
مشتری پورا مبیع واپس کرکے پورا ثمن لے گا[12]۔
ضابطہ: اگر مشتریِ ثانی نے مبیع کو عیب کی بنا پر قاضی کے فیصلے سے واپس کیا ہو تو مشتریِ اول کو بھی اپنے بائع پر اسی عیب کی بنا پر رجوع اور رد کا حق حاصل ہوگا؛ کیونکہ قضائی رد فسخِ محض ہے، گویا دوسرا عقد سرے سے ہوا ہی نہیں۔ البتہ اگر رد باہمی رضامندی سے ہوا ہو تو مشتریِ اول کو اپنے بائع پر رد کا حق نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ فسخ نہیں بلکہ نئے عقد کے حکم میں ہے۔
تفریعات
ضابطہ:اگر مبیع میں ایسا سبب موجود ہو جو بائع کے زمانے میں پیدا ہو چکا تھا اور اسی سبب کی بنا پر بعد میں مشتری کے قبضہ میں مبیع تلف یا ناقص ہو جائے، تو مشتری کو اس نقصان کی تلافی کا حق حاصل ہوگا؛ اور اگر یہ سبب استحقاق کے مشابہ ہو (جیسے قتلِ موجبِ قصاص، ارتداد یا سرقہ)، تو امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اس کا حکم محض عیب کا نہیں بلکہ استحقاق کے قریب ہوگا، اس لیے رجوع کا حق بعد کے بیوع میں بھی باقی رہتا ہے۔
تفریعات
(خیار فوات وصف مرغوب)
خیار خلف: اس کا مطلب یہ ہے کہ خریدار نے بائع سے کسی خاص وصف کا صراحۃ یا دلالۃ مطالبہ کر کے خریدا ہو کہ اس میں فلاں وصف موجود ہے۔ اب اگر اس میں وہ وصف مفقود ہے تو مشتری کو اختیار ہوگا۔
جیسے کسی بکری کو یہ کہہ کر بیچا ہو کہ یہ دودھاری ہے جب کہ وہ دودھ نہیں دیتی ہے۔ دلالۃ مطالبہ کی مثال یہ ہےکہ قربانی کے ایام میں ایسا جانور بیچا جو قربانی کی عمر کو نہیں پہنچا ہے۔اس خیار کا دوسرا نام ’’خیار فوات وصف مرغوب‘‘ہے۔
حکم:
خیار فوات وصف میں خیار عیب کی طرح مبیع کو واپس کر کے کل ثمن واپس لے ، ہاں اگر خیار عیب میں ذکر کردہ موانع میں سے کوئی مانع رد پیش آجائے تو قیمتوں کا فرق وصول کرے گا، یعنی اس وصف سے متصف اور غیر متصف مبیع کے درمیان کا فرق وصول کرے گا۔
اگر مبیع کا لوٹانا ممکن ہو اور عاقدین بیع فسخ کرنے کے بجائے قیمتوں کے فرق لینے پر راضی ہوں تو ایسا کرسکتے ہیں۔
اگر مشتری کو ملنے والی مبیع طے کردہ مقدار سے کم ہواور ثمن کو اجزاء مبیع پر تقسیم کیا جاسکتا ہو تو مشتری کو اختیار ہوگا چاہے تو بیع فسخ کردے یا مبیع کے حصوں کے بقدر ثمن دے کر مبیع رکھ لے[15]۔
خیار مغبون : اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کوئی چیز بازاری قیمت سے غیر معمولی اضافہ کے ساتھ بیچ دی جائے، اگر اس صورت میں بائع کی طرف سےتغریر یا تدلیس (دھوکہ دہی) پائی گئی تو مشتری کو خیار حاصل ہوگا۔
تغریر: قولا دھوکہ دہی مثلا یہ کہہ کر بیچنا کہ یہی بازای نرخ ہے۔
تدلیس: فعلا دھوکہ دہی ، یعنی مبیع کے ساتھ ایسی ملمع سازی کرنا جس سے خریدار دھوکہ کھا کر زیادہ قیمت دینے پر آمادہ ہوجائے[16]۔
خیار نقد: کا مطلب یہ ہے کہ مشتری وقتِ مقررہ تک ثمن کی ادائیگی کر دے گا ورنہ بیع رد ہو جائے گی۔ ایسی شرط لگانا جائز ہے، اور مشتری وقتِ مقررہ تک ثمن ادا نہ کرے تو بیع فاسد ہوگی۔ (اور بیع فاسد کے احکام جاری ہوں گے۔
وقتِ مقررہ میں ثمن ادا کیے بغیر مشتری مبیع فروخت کر دے تو یہ بیع جائز ہوگی، اور مشتری پر ثمن کی ادائیگی واجب ہوگی۔
اگر مبیع خود بخود (کسی کی بھی تعدی کے بغیر) عیب دار ہو جائے اور ثمن ادا کیے بغیر مدتِ خیار گزر جائے تو بائع کو اختیار ہوگا کہ وہ چاہے تو مبیع مع نقصان واپس لے لے اور ثمن چھوڑ دے۔ اور چاہے تو مبیع مشتری کے پاس رہنے دے اور ثمن وصول کر لے۔
خیارِ نقد کی مدت کے دوران مشتری کی موت ہو جائے تو خیار باطل (ختم) ہو جائے گا اور اس میں میراث جاری نہ ہوگی[17]۔
[1] الاختيار لتعليل المختار 2/12.
[2] بداية المجتهد 3/225
[3] صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي :77
[4] بدائع الصنائع ۵/۲۶۶، ۲۶۷، الدر والرد ۴/ ۵۷۲، الی ۸۷۸
[5] بدائع الصنائع ۵/۲۶۷، الی ۲۷۳
[6] الدر و الرد ۴/۵۸۵، ۵۸۶، ۵۸۷، صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 79, 80
[8] الدر والرد ۴/۵۹۳، ۵۹۴، ۵۹۵، و الہندیۃ ۳/۵۸، ۵۹، ۶۱، صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي ۶۸, ۶۹
[9] الدر المختار و رد المحتار ۵ /۴،۵ الہندیۃ ۳ /۶۷
[10] الہندیۃ ۳ /۶۶۔۶۷ الرد ۵ /۵
[11] صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 70
[12] درر الحکام شرح غرر الأحکام و حاشية الشرنبلالي ۲/۱۶۲
[13] المصدر السابق (الدرر و الحاشیۃ)
[14] الدر و الرد 5/41
[15] صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 76
[16] الدر المختار مع الرد ۵/۱۲۴ و صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 76
[17] صيغة مقترحة لقانون البيع الإسلامي 81