+91 84848 00418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

25

Jun

بیوع کے ضوابط

ضوابط

ضابطہ:عقود میں اعتبار الفاظ اور ظاہری عبارتوں کا نہیں بلکہ مقاصد، معانی اور حقیقی مراد کا ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر کسی لفظ، فعل یا طریقۂ معاملہ سے تملیک و تملک (ملکیت منتقل کرنے اور حاصل کرنے) کا معنی ثابت ہوجائے تو عقد منعقد ہوجاتا ہے، اگرچہ معروف الفاظ استعمال نہ کیے گئے ہوں۔

تفریعات:

  1. بیع صرف "بعت" اور "اشتریت" کے الفاظ پر موقوف نہیں بلکہ ہر قوم اور علاقے کے عرف کے مطابق بیع کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ سے بیع ہوجائےگی۔
  2. اگر بائع کہے: "بعت منك هذا بكذا" اور مشتری جواب میں "رضيت" کہہ دے تو بیع منعقد ہوجائے گی۔
  3. اگر مشتری کہے: "اشتريت هذا منك" اور بائع جواب میں "خذه" کہہ دے تو بھی بیع منعقد ہوجائے گی؛ کیونکہ یہاں "خذه" سے بیع کا معنی مراد ہے۔
  4. ایجاب اور دعوت الی العقد میں فرق ہے، اگر اخبار میں یا ویب سائٹ پر اشتہار دیا ہے تو وہ محض دعوت الی العقد ہے، اسی طرح نیلامی کی بولی میں بائع کا اعلان کرنا کہ کون اسے خریدے گا دعوت الی العقد ہے۔
  5. اگر ویب سائٹ پر پروڈکٹ کی پوری تفصیل ہے اور پروڈکٹ بائع کی ملکیت میں موجود ہے تو اس پر آرڈر بک کرنا ایجاب اور اس کا بک ہوجانا قبول ہے۔
  6. اگر ڈراپ شپنگ کے ذریعہ بیع کر رہا ہو جس میں مبیع بائع کی ملکیت یا قبضہ میں نہیں ہوتی ہے تو آرڈر بک کرنا اور بک ہوجانا محض وعدہ ہے، اور جب سامان مشتری کے پاس پہنچے تو بیع بالتعاطی کے ذریعہ بیع منعقد ہوجائے گی۔
  7. ماضی کے صیغے جیسے بعت، اشتريت سے بیع بلا اختلاف منعقد ہوجاتی ہے۔
  8. حال کے صیغے (مضارع) جیسے أبيعك، أشتريه سے بھی بیع منعقد ہوجاتی ہے بشرطیکہ ان سے حال کا معنی مراد ہو، نہ کہ مستقبل کا۔
  9. اگر کسی علاقے میں مضارع عرفاً حال کے معنی میں استعمال ہوتا ہو تو وہ ماضی کے حکم میں ہوگا۔
  10. مستقبل کے محض صیغے یا وعدہ نما الفاظ سے بیع منعقد نہیں ہوتی۔
  11. امر کا صیغہ بھی بعض صورتوں میں بیع کے لیے معتبر ہوتا ہے؛ مثلاً بائع کہے: "خذه بكذا" اور مشتری کہے: "أخذت" یا "رضيت"۔
  12. تعاطی (بغیر الفاظ کے لین دین) سے بھی بیع منعقد ہوجاتی ہے؛ کیونکہ اصل مقصود باہمی رضامندی ہے۔
  13. تعاطی کے ذریعے بیع صرف معمولی چیزوں میں نہیں بلکہ قیمتی اور نفیس اشیاء میں بھی منعقد ہوجاتی ہے۔
  14. صحیح قول کے مطابق تعاطی ایک جانب سے بھی کافی ہے؛ مثلاً مشتری ثمن دے دے یا مبیع لے لے اور دوسری جانب رضامندی موجود ہو۔
  15. اگر تعاطی کے ساتھ عدمِ رضا کی صراحت کردی جائے تو بیع منعقد نہیں ہوگی؛ جیسے بائع کہے: "میں یہ چیز اس قیمت پر نہیں دیتا۔"
  16. ایک ہی شخص بعض استثنائی صورتوں میں ایجاب و قبول دونوں کی طرف سے قائم مقام ہوسکتا ہے؛ جیسے باپ اپنے نابالغ بچے سے خرید و فروخت کرے۔
  17. نابالغ بچے سے خریدنے یا اسے بیچنے میں باپ کا ایک ہی جملہ ایجاب و قبول دونوں کے قائم مقام بن جاتا ہے۔
  18. اگر بائع ایجاب کرے اور مشتری مجلس میں خاموش رہے تو مجلس کے ختم ہونے تک قبول یا رد کا اختیار باقی رہتا ہے۔
  19. صرف سر ہلا دینا یا اشارہ کرنا عام بولنے والے شخص کے حق میں ایجاب و قبول نہیں بنتا۔
  20. البتہ اگر اشارے کے بعد تعاطی اور قبضہ و تسلیم بھی واقع ہوجائے تو معاملہ تعاطی کی بنیاد پر منعقد ہوسکتا ہے۔
  21. گونگے شخص کی اشارہ سے بیع منعقد ہوجاتی ہے؛ کیونکہ اس کے حق میں اشارہ عبارت کے قائم مقام ہے۔
  22. تعاطی اس وقت معتبر ہے جب وہ کسی سابق فاسد یا باطل عقد پر مبنی نہ ہو۔
  23. اگر پہلے فاسد عقد ہوا ہو تو محض بعد کا قبضہ و تسلیم نئے عقد کے قائم مقام نہیں بنے گا جب تک پہلے فاسد معاملے کو ختم نہ کیا جائے۔
  24. ثمن دینا بھی تعاطی ہے، صرف مبیع کا دینا ہی تعاطی نہیں۔
  25. وینڈر مشین کے ذریعہ بیع جس میں پیسہ ڈالنے پر مبیع باہر نکل آتی ہے، بیع بالتعاطی کی بنا پر جائز ہے۔
  26. اگر قیمت طے ہوچکی ہو اور مشتری ثمن دے کر چلا جائے یا مبیع لے جائے تو صحیح قول کے مطابق بیع لازم ہوجاتی ہے۔
  27. تعاطی میں اصل بنیاد تراضی (باہمی رضامندی) ہے، نہ کہ مخصوص الفاظ کا استعمال۔
  28. اس تمام باب سے معلوم ہوا کہ بیع میں معانی و مقاصد اصل ہیں اور الفاظ و صیغے ان معانی کے اظہار کا ذریعہ ہیں؛ اس لیے جہاں تملیک و تملک اور باہمی رضا کا معنی ثابت ہوجائے وہاں عقدِ بیع منعقد ہوجاتی ہے۔[1]۔

 

 

ضابطہ :ایجاب، قبول کے صادر ہونے تک برقرار رہتا ہے، بشرطیکہ اس دوران کوئی ایسی چیز پیش نہ آئے جو اعراض، رجوع، موت یا محلِ عقد کی تبدیلی پر دلالت کرے۔

 پس جب تک ایجاب باقی ہے، قبول کے ذریعے عقد منعقد ہوسکتا ہے، اور جب ایجاب کسی مبطل کی وجہ سے زائل ہوجائے تو بعد کا قبول معتبر نہیں ہوتا۔

تفریعات

  • ایجاب کرنے والا قبول سے پہلے اپنے ایجاب سے رجوع کرلے تو ایجاب باطل ہوجاتا ہے۔
  • اگر رجوع اور قبول بیک وقت واقع ہوں تو رجوع کو ترجیح دی جائے گی اور عقد منعقد نہیں ہوگا۔
  • بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک مجلس چھوڑ کر کھڑا ہوجائے تو راجح قول کے مطابق ایجاب باطل ہوجاتا ہے، اگرچہ وہ اپنی جگہ سے دور نہ گیا ہو۔
  • فریقین میں سے کسی ایک کے مرجانے سے ایجاب باطل ہوجاتا ہے، اسی لیے خیارِ قبول وراثت میں منتقل نہیں ہوتا۔
  • مبیع میں ایسی تبدیلی آجائے جو اس کی حقیقت بدل دے تو ایجاب باطل ہوجاتا ہے؛ جیسے عصیر کا سرکہ بن جانا۔
  • مبیع میں ایسی زیادتی پیدا ہوجائے جو اسے نئی حالت میں لے آئے تو ایجاب باطل ہوجاتا ہے؛ جیسے جانور کا بچہ جن دینا۔
  • مبیع ہلاک ہوجائے تو ایجاب باطل ہوجاتا ہے۔
  • ثمن کو قبول سے پہلے ہبہ کردینے سے ایجاب باطل ہوجاتا ہے۔
  • مبیع کا ہاتھ کٹ جانا یا ایسا عیب پیدا ہوجانا جو محلِ عقد کو بدل دے، ایجاب کو باطل کردیتا ہے۔
  • اگر مبیع کی آنکھ آفتِ سماوی سے نکل جائے تو بعض صورتوں میں ایجاب باطل نہیں ہوتا۔
  • اگر مبیع کو ہبہ کردیا جائے تو بعض صورتوں میں صرف ہبہ کی وجہ سے ایجاب باطل نہیں ہوتا۔
  • مجلسِ عقد میں ایسا عمل شروع کرنا جو اعراض پر دلالت کرے، ایجاب کو باطل کردیتا ہے۔
  • کھانا کھانے میں مشغول ہوجانا مجلس کو منقطع کردیتا ہے، البتہ ایک لقمہ کھانا مضر نہیں۔
  • پینا مجلس کو منقطع کردیتا ہے، البتہ اگر برتن پہلے ہی ہاتھ میں ہو تو مضر نہیں۔
  • سوجانا مجلس کو منقطع کردیتا ہے، البتہ اگر دونوں بیٹھے بیٹھے اونگھ جائیں تو مجلس برقرار رہتی ہے۔
  • لیٹ کر سوجانا مجلسِ عقد کو ختم کردیتا ہے۔
  • دوسرے کام میں مشغول ہوجانا مجلس کو توڑ دیتا ہے۔
  • ضرورت ہی کے لیے کیوں نہ ہو، غیر متعلق گفتگو شروع کرنا مجلس کو منقطع کردیتا ہے۔
  • چلنا شروع کردینا مجلس کو ختم کردیتا ہے۔
  • کشتی میں موجود فریقین کا مجلسِ عقد میں رہنا برقرار شمار ہوتا ہے، کیونکہ کشتی کا چلنا ان کے اختیار میں نہیں۔
  • اگر دونوں ایک ہی مجلس میں موجود ہوں اور کسی قسم کا اعراض نہ پایا جائے تو ایجاب برقرار رہتا ہے۔
  • اگر ایجاب اور قبول ایک ہی مجلس میں جمع ہوجائیں تو بیع لازم ہوجاتی ہے۔

غیر مشافہہ (خط، ای میل، واٹس ایپ، پیغام وغیرہ) میں ایجاب ختم ہونے کی صورتیں:

  • مرسل الیہ (جس کو خط یا پیغام پہنچا) ایجاب قبول کرنے سے انکار کردے۔
  • ایجاب میں قبول کی مدت مقرر کی گئی ہو اور وہ مدت ختم ہوجائے۔
  • مرسل الیہ ایسا جواب دے جس سے قبول سے اعراض اور انکار سمجھا جائے۔
  • ایجاب میں قبول کی مدت متعین نہ ہو اور مکتوب الیہ خاموش ہو تو ایجاب باقی رہتا ہے جب تک کہ اتنی مدت نہ گزرجائے جسے عرفا اعراض عن الایجاب سمجھا جاتا ہو۔
  • اگر عقدِ غیر مشافہہ میں حاضر دو آدمیوں کے درمیان مؤخر (بعد میں آنے والی) قبول سے ہی عقد منعقد ہونا ہو تو قبول سے پہلے صادر (پہلے) موجب کی وفات سے بھی قبول کا اختیار ختم ہوجاتا ہے اور اس کی طرف سے قبول ممکن نہیں رہتی۔
  • دونوں آپس میں ٹیلی فون، وائرلیس، موبائل کال وغیرہ کے ذریعہ رابطہ میں ہوں تو حکم حاضرین کے درمیان ہونے والے عقد کا ہے۔ لہٰذا فون یا وائرلیس پر رابطہ باقی رہنے تک مجلس جاری سمجھی جائے گی، اور رابطہ ختم ہونے سے مجلس بھی ختم ہوجائے گی۔
  • کمپیوٹر، ویب سائٹ، آن لائن آرڈرنگ سسٹم وغیرہ میں جب دکان دار کی طرف سے صرف اعلان (Display/Advertisement) ہو تو یہ حقیقی ایجاب نہیں بلکہ دعوتِ ایجاب ہے، اور خریدار کے آرڈر کے بعد فروخت کنندہ کی منظوری (Acceptance) قبول شمار ہوتی ہے۔
  • اگر ایجاب کرنے والا زبان یا تحریر سے رجوع کرلے تو قبول کا اختیار ختم ہوجاتا ہے[2]۔

 

 

ضابطہ: ہر وہ جہالت جو نزاع اور جھگڑے کا سبب بنے، بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔

تشریح

بیع کے صحیح ہونے کے لیے مبیع، ثمن اور اجل (مدت) کا اتنا معلوم ہونا ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان نزاع پیدا نہ ہو۔ لہٰذا اگر مبیع یا ثمن کی مقدار، وصف، نوعیت یا مدتِ ادائیگی میں ایسی جہالت پائی جائے جو جھگڑے کا سبب بن سکتی ہو تو بیع اگرچہ منعقد ہوجاتی ہے، لیکن فاسد قرار پاتی ہے۔ البتہ اگر جہالت معمولی ہو اور نزاع کا باعث نہ بنتی ہو تو اس سے بیع کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

تفریعات

  • مبیع کا مجہول ہونا بیع کو فاسد کر دیتا ہے، جیسے یہ کہنا کہ ’’اس ریوڑ میں سے ایک بکری فروخت کی‘‘۔
  • ثمن کا مجہول ہونا بیع کو فاسد کر دیتا ہے، جیسے یہ کہنا کہ ’’اس کی قیمت کے بدلے‘‘  جب کہ قیمت معلوم نہ ہو، یا ’’فلاں شخص کے فیصلے کے مطابق‘‘ فروخت کیا۔
  • اگر ثمن ذمے میں ہو تو اس کی مقدار معلوم ہونا ضروری ہے، ورنہ بیع فاسد ہوگی۔
  • اگر ثمن ذمے میں ہو تو اس کا وصف بھی معلوم ہونا ضروری ہے، مثلاً بحیری یا صعیدی گیہوں، ورنہ بیع فاسد ہوگی۔
  • مؤجل (ادھار)  بیع  میں مدتِ ادائیگی معلوم ہونا ضروری ہے، لہٰذا مجہول مدت کے ساتھ بیع فاسد ہوگی۔
  • اگر کسی شہر میں مختلف نقد رائج ہوں اور ان کی مالیت مختلف ہو، پھر ثمن کی نوعیت متعین نہ کی جائے تو بیع فاسد ہوگی۔الا یہ کہ کسی ایک ثمن کا رواج غالب ہو، تو عرفا وہ متعین ہوجائے گا۔
  • اشارہ کے ذریعے مبیع یا ثمن متعین ہوجائے تو مقدار اور وصف کی جہالت مضر نہیں رہتی۔
  • غیر ربوی اشیاء میں متعین چیز کی طرف اشارہ کرنا مقدار اور وصف کے بیان کے قائم مقام ہے۔لیکن ربوی جنس کو اس کی اپنی جنس کے بدلے فروخت کرتے وقت صرف اشارہ کافی نہیں بلکہ مقدار کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح بیعِ سلم میں مقدار اور اوصاف کا معلوم ہونا ضروری ہے، صرف اشارہ کافی نہیں۔
  • غائب مبیع کی بیع صحیح ہے بشرطیکہ اس کی ایسی تعیین موجود ہو جو نزاع کو ختم کر دے۔
  • کسی شخص کے ذمہ ثابت متاع کو اس سے خریدنا، اگرچہ تفصیلی معرفت کے بغیر ہو، صحیح ہے؛ کیونکہ اس میں نزاع کا اندیشہ نہیں۔
  • بکریوں کے ریوڑ کو اس طرح فروخت کرنا کہ ’’ہر ایک یا دو بکریوں کے بدلے اتنی رقم‘‘ ہو، صحیح نہیں؛ کیونکہ حصص مجہول رہتے ہیں۔
  • مختلف قیمت والے کپڑوں کی گٹھڑی کو اس طرح فروخت کرنا کہ ’’ہر ایک یا دو کپڑوں کے بدلے اتنی رقم‘‘ ہو، صحیح نہیں؛ کیونکہ یہ جہالتِ مفضیہ إلی النزاع ہے۔
  • اگر علاقہ میں متعدد نقد رائج ہوں لیکن ان کی مالیت برابر ہو اور صرف نام مختلف ہوں تو بیع صحیح ہوگی؛ کیونکہ اس سے نزاع پیدا نہیں ہوتا، اور اگر ان کی قیمتوں میں تفاوت ہو تو بیع فاسد ہوگی ، الا یہ کہ کسی ایک کا رواج غالب ہو تو غلبہ رواج کی بنیاد پر اسی پر محمول کیا جائے گا۔
  • مبیع اور ثمن کی وہ معمولی جہالت جو عرفاً جھگڑے کا سبب نہ بنے، صحتِ بیع کے منافی نہیں ہے، جیسے بیع میں کسی پتھر کے وزن کے بدلے بیع کرے، اگر چہ پتھر کے وزن کا علم نہ ہو[3]۔

 

 

ضابطہ: اصل کے مقابلہ میں قیمت آتی ہے، وصف کے مقابلہ میں قیمت نہیں آتی، الا یہ کہ وصف کو مستقل طور پر ثمن کے مقابل ذکر کر دیا جائے۔

تشریح

اصل وہ چیز ہوتی ہے جس کے اجزاء الگ الگ مستقل حیثیت رکھتے ہوں اور ان کو جدا کرنے سے مبیع کو کوئی غیر معمولی نقصان نہ پہنچتا ہو، جیسے ایک من گیہوں کے دس کلو ۔

وصف وہ چیز ہوتی ہے جو مبیع کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور اس کو الگ کرنے سے مبیع میں نقصان یا عیب پیدا ہوجائے، جیسے کپڑے کے سوٹ میں سے ایک گز۔

قاعدہ کا ماحصل یہ ہے کہ اگر کسی مبیع میں طے شدہ مقدار سے مبیع کم نکلی تو کیا اس کی وجہ سے قیمت میں کمی آئے گی یا نہیں، تو اس کا مدار اس پر ہے کہ وہ مقدار اس مبیع میں وصف ہے یا اصل ، اگر اصل ہے تو اس کے مقابلہ میں قیمت آئے گی اور وصف ہے تو نہیں آئے گی۔ جیسے سوکلو گیہوں خریدا اور پچانوے نکلا تو مشتری کو اختیار ہے کہ عقد کو فسخ کردے تفرق صفقہ[4] کی وجہ سے یا پھر پچانوے کلو  کے حساب سے قیمت اداکرے۔ اور اگر کپڑے کے سوٹ میں یہ صورت نکل آئے تو مشتری کو یا تو طے شدہ قیمت میں لینا ہوگایا عقد کو فسخ کرنا ہوگا، قیمت کم کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، کیوں کہ یہاں ذراع وصف ہے اور وصف کے مقابلہ میں قیمت نہیں آتی ۔ اسی طرح زیادتی کی صورت میں گیہوں والے مسئلہ میں زاید گیہوں بائع کے ہوں گے اسے واپس کرنا ضروری ہوگا، اور کپڑے کے مسئلہ میں زائد کپڑا مشتری کا ہوگا، اسے اس کی کوئی الگ سے قیمت نہیں دینا ہوگی۔

بکریوں، اونٹوں اور غلاموں جیسے متفاوت معدودات میں ہر فرد اصل شمار ہوتا ہے۔اس لیے ان اشیاء میں کمی یا زیادتی کی صورت میں ہر فرد کا الگ حکم معتبر ہوگا۔

جانور کے اعضاء، مکان کی تعمیر اور کپڑے کے گز فقہی اصطلاح میں وصف شمار ہوتے ہیں۔

گیہوں، چاول، تیل اور اسی طرح کی مکیلات و موزونات کے اجزاء اصل شمار ہوتے ہیں۔

اگر کسی وصف کو عقد میں مستقل طور پر ثمن کے مقابل ذکر کر دیا جائے تو وہ حکماً اصل بن جاتا ہے اور اس کے مقابل بھی ثمن تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثلا کپڑے کے سوٹ میں یہ کہہ دیا جائے کہ "ہر گز ایک درہم کے حساب سے" تو اب ذرع (گز) محض وصف نہیں رہتا بلکہ مقصودِ عقد بن جاتا ہے، لہٰذا اس کے مقابلے میں ثمن بھی آئے گا۔

 

تفریعات

  • مکیل اور موزون اشیاء میں مقدار اصل شمار ہوتی ہے، اس لیے کمی یا زیادتی کی صورت میں ثمن بھی متناسب کم یا زیادہ ہوگا۔
  • صبرۂ گیہوں کو سو قفیز بتا کر سو درہم میں فروخت کیا گیا، پھر نوّے قفیز نکلا تو مشتری نوّے قفیز ان کے حصے کے ثمن کے ساتھ لے سکتا ہے یا بیع فسخ کرسکتا ہے۔
  • صبرہ سو قفیز کے بجائے ایک سو دس قفیز نکلا تو زائد دس قفیز بائع کے ہوں گے۔
  • موتی کو ایک مثقال بتا کر فروخت کیا گیا، پھر وہ زیادہ وزن کا نکلا تو پورا موتی مشتری کا ہوگا؛ کیونکہ یہاں وزن وصف ہے۔
  • کپڑے کا سوٹ دس گزبتاکر دس درہم میں فروخت کیا گیا، پھر آٹھ  گز نکلا تو مشتری پورا موجود کپڑا پورے ثمن کے ساتھ لے سکتا ہے یا بیع فسخ کرسکتا ہے۔ایسی صورت میں پانچ گز کے مقابلے میں ثمن کم نہیں ہوگا؛ کیونکہ ذرع وصف ہے۔
  • اسی طرح دس  گز بتا کر فروخت کیا گیا اور بارہ  گز نکلا تو زائد دوگز بھی مشتری کے ہوں گے۔اس زیادتی کی وجہ سے بائع کو اضافی قیمت لینے کا حق نہیں ہوگا؛ کیونکہ ذراع وصف ہے۔
  • اگر دس گز اس طرح بیچا کہ  دس گز دس درہم کے بدلے، ہرگز ایک درہم کے بدلے اور آٹھ گز نکلے تو اگر لینا ہو تو آٹھ ہی درہم کے بدلے لےگا، اور زیادہ نکلا تو متناسب زائد درہم دے کر لینا ہوگا یا عقد کو فسخ کرنا ہوگا۔
  • اور اگر دس کے بجائے ساڑھے دس  یا ساڑھے نکلا تو امام محمد یہی ضابطہ یہاں بھی لاگو کرتے ہیں، یعنی ساڑھے نو یا ساڑھے دس کے مقابلہ میں لے گا، جب کہ امام ابویوسف نصف کو کل کے قائم مقام قرار دیتے ہیں، یعنی اگر لینا ہے تو  دس اور گیارہ درہم کے بدلے   لینے کے قائل ہیں، امام ابوحنیفہ ساڑھے دس کی صورت میں دس کی صورت میں دس ہی میں لینے کے قائل ہیں  اور خریدار کو خیار بھی نہیں ہوگا، اور ساڑھے نو کی صورت میں نو میں لینا ہوگا اگر لینا چاہے اور چاہے تو عقد کو فسخ کردے ، کیوں کہ ذراع اصل میں وصف تھا اور اس کو اصل کا حکم استقلالا ذکر کی وجہ سے ملا تھا، استقلالا ذکر ایک ذراع کا آیا تھا، نصف کا نہیں، اس لیے نصف میں اصل قاعدہ جاری ہوگا[5]۔

 

 

ضابطہ: مبیع کے ساتھ بیع میں  وہ چیزیں خود بخود داخل ہوتی ہیں جو عرفاً اس کے نام میں شامل ہوں یا اس کے ساتھ اتصالِ قرار رکھتی ہوں، اور جو نہ عرفاً اس میں داخل ہوں اور نہ اتصالِ قرار رکھتی ہوں، وہ صرف اسی وقت داخل ہوں گی جب وہ مبیع کے حقوق و مرافق میں سے ہوں اور عقد میں ان کا ذکر کیا جائے۔

تشریح:

فقہاء نے مبیع کے تابع اشیاء کے دخول کے لیے تین اصول ذکر کیے ہیں:

  1. جو چیز عرف میں مبیع کے نام کا حصہ سمجھی جاتی ہو، وہ بغیر ذکر کے بھی داخل ہوتی ہے۔
  2. جو چیز مبیع کے ساتھ اتصالِ قرار رکھتی ہو، یعنی اصل وضع کے اعتبار سے مستقل طور پر اسی کے ساتھ رہنے کے لیے ہو ، کا ٹنے کے لیے نہ ہو وہ تبعا مبیع میں داخل ہوجائےگی چاہے اس کا ذکر نہ کیا جائے۔
  3. جو چیز نہ نام میں داخل ہو اور نہ اتصالِ قرار رکھتی ہو، مگر مبیع کے حقوق و مرافق میں سے ہو، وہ صرف "بکل حقوقها" یا "بمرافقها" جیسے الفاظ کے ساتھ داخل ہوگی۔

تفریعات:

  • بیت (کمرہ) خریدنے سے اوپر والا حصہ (علو) داخل نہیں ہوتا، اگرچہ "بکل حق له" یا اس جیسے الفاظ کہے جائیں۔
  • منزل خریدنے سے علو داخل نہیں ہوتا، البتہ "بکل حقوقه" یا "بمرافقه" کہنے سے داخل ہوجاتا ہے۔
  • دار خریدنے سے علو خود بخود داخل ہوجاتا ہے؛ کیونکہ علو دار کے حدود میں داخل ہوتا ہے۔
  • دار خریدنے سے اس کا تعمیر شدہ حصہ (بناء) بھی داخل ہوجاتا ہے۔
  • دروازے کے ساتھ مستقل جڑا ہوا تالا (غلق متصل) داخل ہوجاتا ہے۔
  • متصل تالا خریدنے کی صورت میں اس کی چابی بھی داخل ہوجاتی ہے؛ کیونکہ چابی اس کے تابع ہے۔
  • الگ رکھا ہوا تالا (قفل منفصل)  مکان کی بیع میں داخل نہیں ہوتا۔
  • عمارت کے ساتھ جڑی ہوئی سیڑھی داخل ہوجاتی ہے، خواہ لکڑی کی ہو۔
  • عمارت سے الگ رکھی ہوئی سیڑھی داخل نہیں ہوتی۔
  • عمارت کے ساتھ متصل چارپائی یا تخت داخل ہوتا ہے، اور اس کا حکم سیڑھی جیسا ہے۔
  • دار خریدنے سے بیت الخلاء (کنیف) داخل ہوجاتا ہے۔
  • دار خریدنے سے سایبان (ظُلّة) داخل نہیں ہوتا۔
  • دار خریدنے سے راستہ (طریق) داخل نہیں ہوتا۔
  • دار خریدنے سے آب رسانی کا حق (شِرب) داخل نہیں ہوتا۔
  • دار خریدنے سے پانی کی گزرگاہ (مسیل) داخل نہیں ہوتی۔
  • اگر "بکل حقوقها" یا "بمرافقها" کہا جائے تو راستہ، شرب اور مسیل داخل ہوجاتے ہیں۔
  • اجارہ میں راستہ، شرب اور مسیل بغیر ذکر کے بھی داخل ہوجاتے ہیں؛ کیونکہ ان کے بغیر انتفاع ممکن نہیں۔
  • زمین خریدنے سے اس میں موجود درخت داخل ہوجاتے ہیں اگرچہ ان کا نام نہ لیا جائے۔
  • زمین خریدنے سے کھیتی اور کھڑی فصل داخل نہیں ہوتی۔فصل کو داخل کرنے کے لیے اس کی صراحت ضروری ہے۔
  • درخت خریدنے سے اس پر موجود پھل داخل نہیں ہوتا۔
  • اگر زمین یا درخت "بکل ما فيها" یا "بكل ما منها" کے الفاظ کے ساتھ فروخت کیے جائیں تو پھل بھی داخل ہوجاتا ہے۔
  • صرف "بحقوقها" کہنے سے پھل داخل نہیں ہوتا؛ کیونکہ پھل حقوق میں سے نہیں بلکہ مستقل مال ہے۔
  • درخت زمین کے تابع اس لیے داخل ہوتا ہے کہ اس کا اتصال، اتصالِ قرار ہے۔
  • فصل زمین کے تابع داخل نہیں ہوتی؛ کیونکہ اس کا اتصال بقا کے لیے نہیں بلکہ کاٹنے کے لیے ہے۔
  • درخت کا پھل بھی تابعاً داخل نہیں ہوتا؛ کیونکہ اس کا تعلق بھی آخرکار جدا کیے جانے کے لیے ہے، نہ کہ دائمی بقا کے لیے[6]۔

 

 

ضابطہ: جس چیز پر مستقل طور پر عقد کرنا صحیح ہو، اس کا عقد سے استثناء (الگ کرنا) بھی صحیح ہوتا ہے۔

تشریح:  قاعدہ کا خلاصہ ہے :

 ہر وہ چیز جس کی مستقل بیع صحیح ہو، اس کا استثناء بھی صحیح ہوگا۔

ہر وہ چیز جس کی مستقل بیع صحیح نہ ہو، اس کا استثناء بھی صحیح نہیں ہوگا۔

 

تفریعات

  • صبرہ (غلہ کے ڈھیر) کو فروخت کرتے وقت ایک متعین قفیز مستثنیٰ کرنا جائز ہے۔
  • بکریوں کے ریوڑ کو فروخت کرتے وقت ایک متعین بکری مستثنیٰ کرنا جائز ہے۔
  • اگر بکری متعین نہ ہو بلکہ صرف یہ کہا جائے کہ "ایک بکری مستثنیٰ ہے" تو استثناء صحیح نہیں ہوگا۔
  • کپڑوں کی گٹھڑی (عدل) فروخت کرتے وقت ایک غیر متعین کپڑا مستثنیٰ کرنا صحیح نہیں۔
  • کھجور کے درخت کا پھل فروخت کرتے وقت معلوم اور متعین مقدار (مثلاً چند معلوم رطل) مستثنیٰ کرنا جائز ہے۔
  • کٹی ہوئی کھجوروں میں معلوم مقدار کا استثناء بدرجۂ اولیٰ جائز ہے۔
  • اگر مستثنیٰ حصہ ثلث یا ربع کی صورت میں ہو تو بالاتفاق استثناء صحیح ہے، کیوں کہ جزء شائع ہونے کی وجہ سے معلوم ہے۔
  • اسی طرح  زمین میں سے ایک مشاع حصہ (مثلاً تہائی حصہ) مستثنیٰ کرنا ایک ہی قاعدہ کے مختلف اطلاقات ہیں۔
  • وصیت میں خدمت کا استثناء اس قاعدے سے مستثنیٰ ہے؛ کیونکہ خدمت پر مستقل عقد ہوسکتا ہے لیکن اس کا استثناء صحیح نہیں مانا گیا[7]۔
 

[1]  الدر المختار و رد المحتار ۴/۵۱۱ الی ۵۱۵ صيغة مقترحة لقاىون البيع الإسلامي 16,17و راجع: 101, 102

[2]  الدر و الرد ۴/۵۲۷، ۵۲۸، صيغة مقترحة لقاىون البيع الإسلامي ۱۴، ۱۵ ِ۱۶

[3]  الدر والرد ۴/۵۲۹، ۵۳۰، ۵۳۱ و درر الحکام شرح غرر الأحکام ۲/۱۴۶، ۱۴۷،۱۴۸

[4]  تفرق صفقہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایجاب و قبول کے مطابق مبیع باقی نہ رہے، مثلا سودا سو کلو گیہوں کا ہوا تھا اور گیہوں نوے کلو ہی نکلا تو تفرق صفقہ کہلائے گا، اور تفرق صفقہ ہونے کی وجہ سے بیع کو فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ خیارات کے ضمن میں ’’خیار تفرق صفقہ‘‘ کا بھی ذکر آچکا ہے۔

[5] الدر والرد ۴ / ۵۴۲، ۵۴۳، درر الحکام:۲ /۱۴۷۔ ۱۴۸

[6]  درالحکام شرح غرر الأحکام ۲/۱۴۹،۱۵۰

[7] الدر و الرد ۴/۵۵۸، ۵۵۹

Share This Blog