+91 84848 00418
islamstudy@gmail.com
بیع کی لغوی تعریف : ایک شی کا دوسری شی سے تبادلہ خواہ وہ مال ہو یا کچھ اور[1]۔
بیع کی اصطلاحی تعریف: مال کا مال سے اس طرح تبادلہ کرنا کہ شرعا بدلین (مبیع اور ثمن) کی ملکیتیں بدل جائیں[2]۔
مال کی تعریف : ایسا عین یا دائمی منفعت جس کی لوگوں کی نگاہ میں مادی قیمت ہو اور اس پر احراز (قبضہ) ہو۔
مال کی تعریف کے بنیادی عنصر تین ہیں (۱) وہ شئی قابل انتفاع ہو (۲) اس پر احراز ہو (۳) لوگوں کی نگاہ میں اس کی مادی قیمت ہو یعنی لوگ اس کے بدلے میں مال دینے پرآمادہ ہوں، ایسی چیز نہ ہو جو مفت میں بآسانی دستیاب ہو جیسے کنکر، ہوا۔
مالیت کا مدار عرف پر ہے، تاہم کسی چیز کو مال قرار دینے کے لیے تمام لوگوں کا اسے مال گرداننا ضروری نہیں، کوئی ایک طبقہ یا کسی علاقہ کے لوگ بھی اگر اسے مال گردانیں تو وہ مال کہلائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی چیز سبھی کے یہاں مال تھی اور بعد میں کچھ طبقات میں اس کی مالیت ختم ہوگئی تب بھی وہ مال اس وقت تک کہلائے گا جب تک سارے لوگوں کے یہاں اس کی مالیت ختم نہ ہوجائے۔ [3]
بیع کا رکن : ایجاب و قبول قولا یا فعلا یعنی تعاطی۔
بیع ایجاب و قبول سے متحقق ہوتی ہے، عاقدین میں جو پہلے کہے وہ ایجاب ہے اور جو بعد میں کہے وہ قبول ہے، ایجاب و قبول خواہ زبانی ہو، یا عملی (تعاطی) یعنی الفاظ نہ بولتے ہوئے لین دین کرلینا ، خواہ ایک ہی طرف سے مثلا صرف بائع مبیع دے مشتری ثمن اس وقت نہ دے[4] ۔
بیع کی شرائط کل چار قسم کی ہیں، اور ہر ایک کے پائے جانے سے یا نہ پائے جانے سے بیع کے احکام پر فرق پڑتاہے، (۱)شرائط انعقاد (۲) شرائط نفاذ (۳) شرائط صحت (۴) شرائط لزوم
(شرائط انعقاد وہ شرائط ہیں جن کے پائے جانے سے بیع وجود میں آتی ہے، خواہ صحیح وجود میں آئے یا فاسد، اگر شرائط انعقاد میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے تو بیع باطل یعنی کالعدم ہوتی ہے، گویا بیع ہی نہیں ہوتی یعنی ملیکت اور بیع کا کوئی حکم مرتب نہیں ہوتا)۔
1۔ عاقل ہونا:
پس عاقدین میں سے کوئی ایک یا دونوں پاگل ہوں، یا ایسا نشہ ہو جس سے عقل زائل ہو جائے، یا ایسا بچہ ہو جو بیع اور اس کے نتائج کا شعور نہ رکھتا ہو تو بیع منعقد نہیں ہوگی۔ البتہ ممیز نابالغ، غلام، معتوہِ ممیز، گونگا (اشارے کے ذریعے) اور غیر مسلم کی بیع منعقد ہوجائے گی۔
2۔ عاقدین میں تعدد ہونا:
یعنی بائع اور مشتری الگ الگ ہوں، پس ایک ہی شخص عقد کے دونوں جانب سے بائع اور مشتری نہیں بن سکتا۔ البتہ باپ، وصی اور قاضی بعض صورتوں میں نابالغ کے ساتھ خرید و فروخت کرسکتے ہیں، اسی طرح ایک شخص بائع و مشتری دونوں کا رسول بن سکتا ہے۔ نیز غلام اپنے مالک کے حکم سے اپنے آپ کو خرید سکتا ہے۔
3۔ ایجاب و قبول میں موافقت ہونا:
پس اگر قبول، ایجاب کے خلاف ہو، مثلاً دوسری چیز، بعض چیز، دوسری قیمت یا بعض قیمت کو قبول کیا جائے تو بیع منعقد نہیں ہوگی۔ البتہ بائع کی مقرر کردہ قیمت سے زیادہ یا مشتری کی پیش کردہ قیمت سے کم پر قبول کرنا درست ہے۔
4۔ اتحادِ مجلس ہونا:
پس ایجاب اور قبول ایک ہی مجلس میں ہونا ضروری ہے، لہٰذا مجلس کے ختم ہوجانے یا مجلس کے بدل جانے کے بعد کیا جانے والا قبول معتبر نہیں ہوگا۔
5۔ ایجاب و قبول کا ایک دوسرے کو سنائی دینا:
پس اگر بائع یا مشتری دوسرے کا کلام نہ سن سکے تو بیع منعقد نہیں ہوگی، کیونکہ صرف الفاظ کا ادا کرنا کافی نہیں بلکہ دوسرے فریق تک ان کا پہنچنا بھی ضروری ہے۔
6۔ معقود علیہ کا مال ہونا:
پس ایسی چیز کی بیع منعقد نہیں ہوگی جو مال ہی نہ ہو، جیسے مردار، خون، آزاد انسان، مسلمان کے حق میں شراب و خنزیر، نہر یا کنویں کا پانی، قبل از احراز شکار، گھاس اور لکڑیاں وغیرہ۔
7۔ معقود علیہ کا متقوم ہونا:
پس ایسی چیز کی بیع منعقد نہیں ہوگی جس کی شرعاً مالیت معتبر نہ ہو، اگرچہ بعض لوگوں کے نزدیک اس میں نفع پایا جاتا ہو۔
8۔ معقود علیہ کا موجود ہونا:
پس معدوم چیز کی بیع منعقد نہیں ہوگی، جیسے حمل، حمل کا حمل، درخت پر پھل ظاہر ہونے سے پہلے اس کا پھل، یا تھن میں موجود دودھ۔
9۔ معقود علیہ کا مملوک ہونا:
پس جو چیز فی الحال بائع کی ملک میں نہ ہو اس کی بیع منعقد نہیں ہوگی، اگرچہ بعد میں وہ اس کا مالک بن جائے، البتہ سلم، فضولی کی بیع اور بعض مستثنیات اس سے خارج ہیں۔
10۔ معقود علیہ کا بائع کی ملک ہونا (جب اپنے لیے بیچ رہا ہو):
پس جو شخص اپنی طرف سے بیع کررہا ہو وہ اسی چیز کو فروخت کرسکتا ہے جو اس کی ملک ہو، لہٰذا غیر مملوک چیز کی بیع اپنے لیے درست نہیں ہوگی۔(اگر بیع دوسرے کے لیے کر رہا ہو جیسے فضولی تو ملکیت کا ہونا شرط انعقاد نہیں ہے)
11۔ معقود علیہ کا مقدور التسلیم ہونا:
پس ایسی چیز کی بیع منعقد نہیں ہوگی جس کا سپرد کرنا ممکن نہ ہو، جیسے بھاگا ہوا غلام، ہوا میں اڑنے والا پرندہ، یا پانی میں آزاد مچھلی، البتہ جو چیز قبضہ میں ہو اس کی بیع درست ہوگی۔
خلاصہ:
انعقادِ بیع کے لیے چار بنیادی امور ضروری ہیں:
ان میں سے کسی بنیادی شرط کے فقدان سے بیع منعقد نہیں ہوتی۔
(شرائط نفاذ سے مراد وہ شرائط ہیں جن کے پائے جانے سے بیع نافذ ہوتی ہے، اور نہ پائے جانے سے بیع موقوف ہوتی ہے، آئندہ اگر اجازت ملے تو نافذ ہوگی ورنہ ختم ہوجائے گی۔)
۱۔ بائع کا مالک یا صاحبِ ولایت ہونا:
پس جو شخص نہ خود مبیع کا مالک ہو اور نہ مالک کی طرف سے شرعاً یا عرفاً تصرف کا اختیار رکھتا ہو، اس کی بیع نافذ نہیں ہوگی۔ لہٰذا فضولی کی بیع نافذ نہیں ہوتی بلکہ اجازتِ مالک پر موقوف رہتی ہے۔ البتہ وکیل، باپ، دادا، ان کے وصی اور قاضی وغیرہ اپنی حدودِ ولایت میں بیع کرسکتے ہیں، اس لیے ان کی بیع نافذ ہوگی۔
۲۔ مبیع میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہونا:
پس اگر مبیع کے ساتھ کسی تیسرے شخص کا ایسا حق وابستہ ہو جو بیع کے نفاذ میں مانع ہو تو بیع نافذ نہیں ہوگی۔ لہٰذا مرہون (رہن رکھی ہوئی چیز) اور مؤجرہ (کرایہ پر دی ہوئی چیز) کی بیع بلا اجازتِ صاحبِ حق نافذ نہیں ہوگی۔ نیز اگر مشتری کو اس حق کا علم نہ ہو تو اسے فسخ کا اختیار ہوگا، البتہ مرتهن (رہن لینے والے) اور مستأجر (کرایہ دار) کو فسخ کا اختیار نہیں ہوگا[5]۔
۳: رضامندی کا ہونا
بیع کے نافذ ہونے کے لیے رضامندی ضروری ہے پس اگر عاقدین رضامند نہ ہوں جیسے مکرہ کی بیع یہ موقوف اور فاسد ہوگی ۔ فاسد اس لیے کہ رضامندی صحت کی شرائط میں بھی شامل ہے[6]۔
(یعنی وہ شرائط جن کے پائے جانے سے بیع صحیح ہوتی ہے اور نہ پائے جانے سے بیع فاسد ہوتی ہے، بیع فاسد قبضہ کے بعد ملکیت کا فائدہ دیتی ہے،قبضہ سے پہلے نہیں۔)
شرائطِ عامہ) یعنی وہ شرائط جو تمام ابواب بیوع سے متعلق ہیں):
شرائطِ خاصہ
یعنی وہ شرائط جو بعض مخصوص ابوابِ بیوع کے ساتھ خاص ہیں:
1۔ بیعِ مؤجل میں اجل کا معلوم ہونا:
پس ادھار بیع میں مدت واضح اور متعین ہونی چاہیے، ورنہ بیع فاسد ہوگی۔
2۔ منقولی اشیاء اور دین میں قبضہ کا پایا جانا:
پس منقول مبیع کی خرید کے بعد آگے فروخت کرنے، دین کی بیع، سلم کے مسلم فیہ اور رأس المال وغیرہ میں قبضہ شرط ہے، لہٰذا قبضہ سے پہلے ان کی بیع فاسد ہوگی۔
3۔ دین کو غیر بائع کے ذمہ موجود دین کے بدلے فروخت نہ کرنا:
پس کسی تیسرے شخص کے ذمہ واجب قرض کے بدلے کوئی چیز بیچنا صحیح نہیں، البتہ اگر دین خود بائع کے ذمہ ہو تو جائز ہے۔
4۔ اموالِ ربویہ میں برابری کا ہونا:
پس جن چیزوں میں شرعاً مماثلت شرط ہے وہاں دونوں عوضوں کا برابر ہونا ضروری ہے، ورنہ بیع صحیح نہیں ہوگی۔
5۔ شبہِ ربا سے خالی ہونا:
پس جس معاملہ میں ربا یا شبہِ ربا پایا جائے وہ صحیح نہیں ہوگا۔
6۔ عقدِ سلم کی مخصوص شرائط کا پایا جانا:
پس بیعِ سلم میں وہ تمام شرائط موجود ہونی چاہییں جو فقہاء نے سلم کے لیے مقرر کی ہیں، ورنہ عقد صحیح نہیں ہوگا۔
7۔ بیعِ صرف میں مجلس کے اندر قبضہ حسی ہونا:
پس سونے، چاندی اور دیگر صرفی معاملات میں مجلس کے ختم ہونے سے پہلے دونوں جانب قبضہ ضروری ہے، ورنہ بیع صحیح نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ یہاں قبض بالبراجم (حسی قبضہ) ضروری ہے تخلیہ کافی نہیں ہے۔
8۔ مرابحہ، تولیہ، شرکت اور وضیعہ میں پہلے ثمن کا معلوم ہونا:
پس ان تمام بیوع میں اصل خریداری کی قیمت کا معلوم ہونا شرط ہے، ورنہ عقد صحیح نہیں ہوگا[7]۔
(شرائط لزوم کے پائے جانے سے بیع لازم ہوتی ہے یعنی دوسرے فریق کی رضامندی کے بغیر اسے فسخ نہیں کیا جاسکتا ہے، اور اگر نہ پائی جائے تو دوسرے فریق کے نہ چاہتے ہوئے بھی بیع فسخ کی جاسکتی ہے۔)
بیع کے لازم ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے خیار سے خالی ہو۔
لہٰذا جب تک کسی فریق کو فسخِ بیع کا اختیار حاصل ہو، بیع لازم نہیں ہوتی، بلکہ غیر لازم رہتی ہے۔
خیارات کل سترہ ہیں جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
اقسامِ خیارات:
1۔ خیارِ شرط:
عقد کے وقت کسی متعین مدت تک بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار حاصل کرنا۔
2۔ خیارِ رؤیت:
بغیر دیکھے خریدی ہوئی چیز کو دیکھنے کے بعد قبول یا رد کرنے کا اختیار۔
3۔ خیارِ عیب:
مبیع میں پوشیدہ عیب ظاہر ہونے پر بیع فسخ کرنے یا مقررہ احکام کے مطابق رجوع کا اختیار۔
4۔ خیارِ غبن مع تغریر:
فاحش نقصان کے ساتھ دھوکہ دہی پائی جائے تو مغبون فریق کو فسخ کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
5۔ خیارِ نقد:
متعین مدت میں ثمن ادا نہ ہونے کی صورت میں بیع فسخ کرنے کا اختیار۔
6۔ خیارِ کمیت (مقدار):
مبیع کی مقدار عقد میں بیان کردہ مقدار کے خلاف نکل آئے تو اختیارِ فسخ پیدا ہوتا ہے۔
7۔ خیارِ استحقاق:
مبیع کا کوئی حصہ یا پورا مبیع کسی دوسرے کے حق میں مستحق نکل آئے تو فسخ کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
8۔ خیارِ تغریرِ فعلی:
بائع کے عملی دھوکے کی وجہ سے پیدا ہونے والا خیار، جیسے تصریہ (جانور کا دودھ روک کر زیادہ دودھ والا ظاہر کرنا)۔
9۔ خیارِ کشفِ حال:
ایسی بیع میں جہاں عقد کے وقت مقدار یا حقیقت پوری طرح معلوم نہ ہو اور بعد میں حقیقت منکشف ہو جائے، وہاں اختیار پیدا ہوتا ہے۔
10۔ خیارِ خیانت در مرابحہ:
مرابحہ میں بائع کی طرف سے اصل قیمت کے بارے میں خیانت ظاہر ہونے پر حاصل ہونے والا خیار۔
11۔ خیارِ خیانت در تولیہ:
تولیہ میں اصل ثمن کے بارے میں غلط بیانی یا خیانت ظاہر ہونے پر حاصل ہونے والا خیار۔
12۔ خیارِ فواتِ وصفِ مرغوب:
مبیع میں کوئی مطلوب و مقصود وصف موجود نہ نکلے تو فسخ کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
13۔ خیارِ تفریقِ صفقہ:
مبیع کا بعض حصہ ہلاک یا ناقابلِ تسلیم ہوجانے سے عقد کا بعض باقی اور بعض ختم ہوجائے تو اختیار پیدا ہوتا ہے۔
14۔ خیارِ اجازۂ فضولی:
فضولی کی موقوف بیع میں مالک کو اجازت یا عدمِ اجازت کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
15۔ خیارِ ظہورِ رہن:
مبیع بعد میں مرہون (رہن رکھی ہوئی) نکل آئے تو مشتری کو اختیار حاصل ہوتا ہے۔
16۔ خیارِ ظہورِ اجارہ:
مبیع بعد میں مستأجرہ (کرایہ پر دی ہوئی) نکل آئے تو مشتری کو اختیار حاصل ہوتا ہے۔
17۔ خیارِ انتظارِ اجازتِ صاحبِ حق:
ایسی موقوف بیع میں جس میں مرتهن، مستأجر یا صاحبِ حق کی اجازت درکار ہو، مشتری کو اجازت کے انتظار یا فسخ کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
یہ تمام خیارات بیع کے لزوم میں مانع ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں سے کسی خیار کے باقی رہنے کی صورت میں بیع لازم نہیں ہوتی، اور خیار کے ختم ہونے پر لازم ہوجاتی ہے[8]۔
بیع کا اصلی حکم یہ ہے کہ مبیع میں مشتری کی ملکیت اور ثمن میں بائع کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔
لہٰذا بیعِ بات (لازم و نافذ) میں عقد ہوتے ہی مبیع مشتری کی اور ثمن بائع کی ملک بن جاتا ہے، جبکہ بیعِ موقوف میں یہ ملکیت اجازت کے بعد ثابت ہوتی ہے۔
فوائد قیود:
[1] الاختیار لتعلیل المختار ۲/۳
[2] فقہ البیوع ۱/۳
[3] البحر الرائق: 227/ 2، رد المحتارلابن عابدين: 3/ 4.، الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید ۴/۲۷۸۶
[4] رد المحتار ۴/۵۰۴ فقہ البیوع ۱/۶۹
[5] بدائع الصنائع ۵/۱۳۵،۱۳۶، رد المحتار ۴/۵۰۵
[6] در المحتار 4/503
[7] رد المحتار ۴/۵۰۵ والہندیۃ ۳/۳
[8] الدر و الرد ۴/۵۶۶، ۵۶۵
[9] رد المحتار ۴/۵۰۶