8484800418
islamstudy@gmail.com
ضابطہ: طہارت حقیقہ (نجاست کو دور کرنے ) کے لیے کوئی بھی پاک مائع جس میں نجاست کے دور کرنے کی صلاحیت ہو کافی ہے، جب کہ طہارت حکمیہ (وضو اور غسل) کے لیے ماء مطلق کا ہونا ضروری ہے۔
پس سرکہ ، گلاب کے پانی اور پیٹرول سے کپڑا پاک کرنا تو جائز ہے، مگر وضو اور غسل جائز نہیں۔
درخت اور پھل کے پانی جن میں نجاست ختم کرنے کی صلاحیت ہو ان سے پاک کرنا جائز نہیں لیکن وضو یا غسل جائز نہیں ہے۔
برف کے پانی اور اولوں کے پانی سے وضواور غسل بھ جائز ہے۔
نمک سے نکلے ہوئے پانی سے صرف طہارت حقیقہ جائز ہے، وضو اور غسل جائز نہیں ۔
ماء مستعمل سے وضواور غسل جائز نہیں ہے مگر کپڑے یابدن کو پاک کرنا جائز ہے۔
ضابطہ: ماء مطلق اس وقت تک باقی رہتاہے جب تک کسی اور چیز سے کامل امتزاج یا اختلاط نہ ہوجائے یا اسے رفع حدث یا قربت کی نیت سے استعمال نہ کیا جائے[1]۔
کامل امتزاج یہ ہے کہ کوئی چیز پانی میں اس طرح گھل جائے کہ الگ نہ رہےجیسے تربوز پانی کو جذب کرلے، پودا پانی کو جذب کرلے۔ یاایسی چیز سے پکادیا جائے جس سے نظافت مقصود نہ ہو ، جیسے پانی کو چنے میں یا دال میں پکادیا جائے تو ماء مطلق نہیں رہے گا، ہاں اگر بیری کے پانی میں پکایا جائے تو اس سے وضو اور غسل جائز ہوگا، کیوں کہ یہ پکانا تنظیف کے لیے ہے۔
کا مل اختلاط یہ ہے کہ اگر مختلط (ملنے والی شئ) جامد ہے تو پانی اس حدتک گاڑھا ہوجائے کہ پانی کا نام باقی نہ رہے جیسے نبیذ تمر۔
اور اگر مختلط مائع (بہنے والا) ہے تو اگر مائع مخالف (یعنی اس کے اوصاف ثلاثہ : رنگ بو مزہ پانی کے مخالف ہے جیسےسرکہ) ہے تو پانی کے اوصاف ثلاثہ میں اکثر کےبدل جانے سے اور اگر مائع موافق (یعنی اس مائع کے کچھ اوصاف پانی کے موافق ہوں کچھ مخالف ہوں جیسے دودھ رنگ اور مزہ میں پانی کے مخالف ہے مگر بو نہ ہونے میں موافق ہے) تو پانی کے کسی ایک وصف کے بدل جانے سے، اور اگر پانی کے ہی جیسا ہے (جیسا کہ ماء مستعمل ) تو خالص پانی اگر نصف یا اس سے کم ہے تو ماء مطلق سے خارج ہوجائے گا[2]۔
تفریعات
ضابطہ: نجس چیز بہتے پانی سے دھونے یا اس پر اوپر سے پانی بہانے سے بالاتفاق پاک ہو جاتی ہے۔
البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اگر نجس کپڑے یا بدن کو تین برتنوں میں دھویا جائے تو کیا یہ طریقہ اوپر سے پانی بہانے کے قائم مقام ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیل اگلے ضابطے میں ہے۔
تفریعات:
1) نجاست کو بہتے پانی میں دھویا گیا → بالاتفاق پاک۔
2) نجاست پر اوپر سے پانی بہایا گیا → بالاتفاق پاک۔
3) نجس کپڑا یا بدن تین برتنوں میں دھویا گیا → عند أبي حنيفة ومحمد: پاک (تیسرے برتن سے نکلتے وقت)، عند أبي يوسف: بدن پاک نہیں جب تک صب نہ ہو۔
ضابطہ ۲: پاک مائعات (پانی کے علاوہ بہنے والی چیز) نجاستِ حقیقیہ کو کپڑے اور بدن سے دور کر دیتے ہیں: امام ابو حنیفہ کے نزدیک بلا شرط، امام ابو یوسف کے نزدیک صب (اوپر سے بہانے) کی شرط کے ساتھ، اور امام محمد کے نزدیک سرے سے پاک نہیں کرتے[4]۔
تفریعات:
1) نجس کپڑا سرکے سے دھویا گیا → عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: صب ہو تو پاک ورنہ ناپاک، عند محمد: ناپاک۔
2) بدن کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا → عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: صب ہو تو پاک ورنہ ناپاک، عند محمد: ناپاک۔
3) نجس چیز کو پاک مائع میں ڈبو دیا گیا → عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: ناپاک (صب مفقود)، عند محمد: ناپاک (مائع مطهر نہیں)۔
ضابطہ :نظر نہ آنی والی(سوکھنے کےبعد) نجاست (جیسے پیشاب کا اثر) میں دھونے کی تعداد معتبر ہے، جبکہ نظر آنے والی نجاست (جیسے خون) میں اصل شرط نجاست کا ختم ہونا ہے، تعداد معتبر نہیں۔
تفریعات:
1) غیر مرئی نجاست(پیشاب) → تین مرتبہ دھونا ضروری۔
2) مرئی نجاست (خون وغیرہ) → جب نجاست ختم ہو جائے تو پاک، چاہے ایک بار میں ہو جائے۔
3) نجاست ختم ہو جائے مگر نشان باقی ہو → اگر نشان زائل ہو سکتا ہو تو ختم کرنا ضروری، اگر زائل نہ ہو سکتا ہو تو باقی رہنا مضر نہیں۔
ضابطہ:.حکمی نجاست (حدث و جنابت) ایک مرتبہ غسل سے ختم ہو جاتی ہے، اس میں تعداد شرط نہیں۔
تفریعات:
1) وضو یا غسل میں تین مرتبہ دھونا شرط نہیں۔
2) ایک مرتبہ پانی بہہ جائے تو طہارت حاصل۔
3) اس کا سبب یہ ہے کہ پانی نجاستِ حکمیہ کو فوراً دور کر دیتا ہے۔
ضابطہ: محلِ متنجس تین طرح کے ہیں: (1) جو نجاست جذب نہ کرے، وہ زوالِ عینِ نجاست سے پاک ہو جاتا ہے۔ (2) جو معمولی جذب کرے، وہ زوالِ عین یا غسل سے پاک ہو جاتا ہے۔ (3) جو نجاست کو زیادہ جذب کرے، اس کی طہارت عصر (نچوڑنے) سے ہوگی، اور اگر عصر ممکن نہ ہو تو ظاہری نجاست کی صورت میں تین مرتبہ دھونا کافی ہے، جبکہ باطن میں سرایتِ نجاست کی صورت میں امام ابو یوسفؒ کے نزدیک تین مرتبہ بھگو کر خشک کرنے سے پاک ہو جائے گا، اور امام محمدؒ کے نزدیک پاک نہیں ہوگا۔
تشریح و تفریع:
محل متنجس (جس چیز پر نجاست لگی ہو) وہ تین قسم کے ہیں، اور تینوں کے پاکی کے طریقے مختلف ہیں۔
امام کاسانی فرماتے ہیں:امام محمد کا قول زیادہ قیاسی (اقیس) ہے اور امام ابو یوسف کا قول زیادہ آسان (اوسع) ہے۔
ضابطہ : (الف) ہر وہ چیز جو انسان کے بدن سے نکل کر وضو یا غسل کو لازم کرے نجاستِ غلیظہ ہے۔ (ب) حرام جانور کی لید اور پیشاب نجاست غلیظہ ہے، سوائے چمگادڑ کے پیشاب کے۔ (ج) وہ پرندے جو فضا میں پاخانہ نہیں گراتے (جیسے بطخ اور مرغی) ان کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے۔(د) شراب، بہنے والا خون (سوائے شہید کے بدن پر موجود خون کے)، مردار اور اس کے اجزاء، انسانی و حیوانی فضلات، پیپ، مواد، منہ بھر قے—یہ سب نجاستِ غلیظہ شمار ہوں گے۔
تفریعات
ضابطہ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا پیشاب، نیز گھوڑے کا پیشاب، اور ان پرندوں کی بیٹ جن کا گوشت حلال نہیں — یہ سب نجاستِ خفیفہ شمار ہوتے ہیں[5]۔
حلال جانوروں کا پیشاب گائے، بکری، اونٹ، بھیڑ وغیرہ کا پیشاب نجاستِ خفیفہ ہے
گھوڑے کا پیشاب گھوڑا اگرچہ مأکول اللحم نہیں، مگر اس کا پیشاب تخفیف کے ساتھ نجس قرار دیا گیا ہے
غیر مأکول پرندوں کی بیٹ :جو پرندے حلال نہیں، ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ ہے۔
ضابطہ: نجاست غلیظہ اگر جسم والی ہو ایک درھم وزن یعنی کے برابر کپڑے اور بدن میں معاف ہے، اور اگر سیال ہے تو ہتھیلی کی چوڑائی کے برابر۔ اور نجاست خفیفہ جس عضو پر لگی ہو اس کے چوتھائی سے کم ہو تو معاف ہے۔ مگر بلاعذر اس کاازلہ نہ کرنا مکروہ ہے۔
پس قلیل پانی میں اگر نجاست گرجائے چاہے خفیفہ ہویا غلیظہ ہو اس سے پورا پانی ناپاک ہوجائے گا۔
ضابطہ۸: اگر نجاست غلیظہ اور خفیفہ دونوں ایک ساتھ لگی ہوں تو خفیفہ غلیظہ کے تابع ہوں گی۔
پس اگر کسی کےبدن پر خون اور گوبر لگا ہو تو نجاست غلیظہ کے احکام مرتب ہوں گے۔
ضابطہ۹: حرج اور عموم بلوی کے پیش نظر مسائل طہارت میں توسع برتا گیا ہے[6]۔
تفریعات:
ضابطہ: جو حدث نہیں ہے نجس نہیں ہے[7]۔
پس خون جو نکل کر بہا نہ ہو پاک،قے جو منہ بھر کر نہ ہوئی ہو وہ پاک ہے[8].
ضابطہ: نجاست جب تک اپنے معدن میں ہو اس پر نجاست کے احکام جاری نہیں ہوتے ۔
لہذا بدن کے اندر موجود خون کی وجہ سے نجاست کا حکم نہیں لگتا۔ انڈے کی زردی اگر خون میں تبدیل ہوجائے تو اس کو نجس نہیں کہا جائے گا[9]۔
[1] الدر المختار و رد المحتار ۱/182حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ۲۴، ۲۵
[2] المصدر السابق
[3] الدر المختار مع الرد ۱/۱۹۸، ۱۹۹
[4] بدائع الصىائع 1 /87
[5] الفتاوی الہندیۃ ۱ /۴۶)
[6] ففی النہایۃ ۱/127: «وللضرورة أثر في إسقاط حكم النجاسة.» و انظر الدر علي الرد 1/324و 325
[7] الوقاية مع شرحه 2/31
[8] الدر المختار 24
[9] المبسوط للسرخسی ۱/۲۷و ۲۴/۲۷