8484800418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

12

Jun

طہارت کے متعلق اصول و ضوابط اور تفریعات

ضابطہ: طہارت حقیقہ (نجاست کو دور کرنے ) کے لیے کوئی بھی پاک مائع جس میں نجاست کے دور کرنے کی صلاحیت ہو کافی ہے،  جب کہ طہارت حکمیہ (وضو اور غسل) کے لیے ماء مطلق   کا ہونا ضروری ہے۔

       پس  سرکہ ، گلاب کے پانی اور پیٹرول سے کپڑا پاک کرنا تو جائز ہے، مگر وضو اور غسل جائز نہیں۔

         درخت اور پھل کے پانی جن میں نجاست ختم کرنے کی صلاحیت ہو ان سے پاک کرنا جائز نہیں لیکن وضو یا غسل جائز نہیں ہے۔

برف کے پانی اور اولوں کے پانی سے وضواور غسل بھ جائز ہے۔

نمک سے نکلے ہوئے پانی سے صرف طہارت حقیقہ جائز ہے، وضو اور غسل جائز نہیں ۔

ماء مستعمل سے وضواور غسل جائز نہیں ہے مگر کپڑے یابدن کو پاک کرنا جائز ہے۔

 

ضابطہ: ماء مطلق اس وقت تک باقی رہتاہے جب تک کسی اور چیز سے کامل امتزاج یا اختلاط نہ ہوجائے یا  اسے رفع حدث یا قربت کی نیت سے استعمال  نہ کیا جائے[1]۔

کامل امتزاج یہ ہے کہ کوئی چیز پانی میں اس طرح گھل جائے کہ الگ نہ رہےجیسے تربوز پانی کو جذب کرلے، پودا پانی کو جذب کرلے۔ یاایسی چیز سے پکادیا جائے جس سے نظافت مقصود نہ ہو ، جیسے پانی کو چنے میں یا دال میں پکادیا جائے تو ماء مطلق نہیں رہے گا، ہاں اگر بیری کے پانی میں پکایا جائے تو اس سے وضو اور غسل جائز ہوگا، کیوں کہ یہ پکانا تنظیف کے لیے ہے۔

کا مل اختلاط  یہ ہے کہ  اگر مختلط (ملنے والی شئ) جامد ہے تو پانی اس حدتک گاڑھا ہوجائے کہ پانی کا نام باقی نہ رہے جیسے نبیذ تمر۔

اور اگر مختلط مائع (بہنے والا) ہے تو اگر مائع مخالف (یعنی اس کے اوصاف ثلاثہ : رنگ بو مزہ پانی کے مخالف ہے جیسےسرکہ) ہے تو پانی کے اوصاف ثلاثہ میں اکثر کےبدل جانے سے اور اگر مائع موافق (یعنی اس مائع کے کچھ اوصاف پانی کے موافق ہوں کچھ مخالف ہوں جیسے دودھ رنگ اور مزہ میں پانی کے مخالف ہے مگر بو نہ ہونے میں موافق ہے) تو پانی کے کسی ایک وصف کے بدل جانے سے، اور اگر پانی کے  ہی جیسا ہے (جیسا کہ ماء مستعمل ) تو خالص پانی اگر نصف یا اس سے کم ہے تو ماء مطلق سے خارج ہوجائے گا[2]۔

تفریعات

  • اگر پانی میں تربوز رکھ دیا جائے اور وہ پانی جذب کرلے تو وہ پانی ماء مطلق نہیں رہے گا۔
  • اگر پودے یا گھاس پانی کو جذب کرلیں تو باقی ماندہ پانی ماء مطلق نہیں رہے گا۔
  • اگر پانی کو چنے، دال یا کسی کھانے کی چیز میں پکایا جائے تو وہ ماء مطلق نہیں رہے گا کیونکہ پکانے میں تنظیف مقصود نہیں۔
  • اگر پانی کو بیری کے پتوں میں پکایا جائے تو وہ ماء مطلق باقی رہے گا کیونکہ یہ پکانا تنظیف کے لیے ہے، لہٰذا وضو و غسل جائز ہوگا۔
  • اگر پانی میں آٹا، مٹی یا کوئی ٹھوس چیز اتنی مل جائے کہ پانی گاڑھا ہو کر پانی نہ کہلائے تو وہ ماء مطلق نہیں رہے گا۔
  • اگر کھجور کا نبیذ اتنا گاڑھا ہو جائے کہ اسے پانی نہ کہا جائے تو اس سے وضو جائز نہیں ہوگا۔
  • اگر کسی مخالف مائع (جیسے سرکہ) کے ملنے سے پانی کے تین اوصاف میں سے اکثر بدل جائیں تو پانی ماء مطلق سے خارج ہو جائے گا۔
  • اگر مخالف مائع ملنے کے باوجود پانی کے اکثر اوصاف باقی رہیں تو پانی ماء مطلق رہے گا۔
  • اگر موافق مائع (جیسے دودھ) ملنے سے پانی کے کسی ایک وصف میں تبدیلی آجائے تو پانی ماء مطلق نہیں رہے گا۔
  • اگر دودھ ملنے کے باوجود پانی کے اوصاف میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو پانی ماء مطلق باقی رہے گا۔
  • اگر مستعمل پانی خالص پانی سے نصف یا اس سے زیادہ مل جائے تو وہ ماء مطلق نہیں رہے گا۔
  • اگر خالص پانی مستعمل پانی سے نصف سے زیادہ ہو تو پورا پانی ماء مطلق شمار ہوگا اور اس سے وضو جائز ہوگا۔
  • اگر کسی پانی سے وضو یا غسل کر لیا جائے خواہ وہ وواجب غسل و وضو ہو یا سنت و مستحب وہ ماء مستعمل کہلائے گا۔
  • اگر سنت کی نیت سے کھانے سے قبل ہاتھ دھونے کے لیے استعمال کیا جائے تو ماء مستعمل کہلائے گا۔
  • اگر کوئی یونہی ہاتھ دھوئے یا تعلیم  یا ٹھنڈک حاصل کرنے کے للیے وضو  کرے تو وہ پانی مستعمل نہیں کہلائے گا[3]۔

 

ضابطہ: نجس چیز بہتے پانی سے دھونے یا اس پر اوپر سے پانی بہانے سے بالاتفاق پاک ہو جاتی ہے۔
البتہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اگر نجس کپڑے یا بدن کو تین برتنوں میں دھویا جائے تو کیا یہ طریقہ اوپر سے پانی بہانے کے قائم مقام ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیل اگلے ضابطے میں ہے۔

تفریعات:

1) نجاست کو بہتے پانی میں دھویا گیا بالاتفاق پاک۔

2) نجاست پر اوپر سے پانی بہایا گیا بالاتفاق پاک۔

3) نجس کپڑا یا بدن تین برتنوں میں دھویا گیا عند أبي حنيفة ومحمد: پاک (تیسرے برتن سے نکلتے وقت)، عند أبي يوسف: بدن پاک نہیں جب تک صب نہ ہو۔

ضابطہ ۲: پاک مائعات (پانی کے علاوہ بہنے والی چیز)  نجاستِ حقیقیہ کو کپڑے اور بدن سے دور کر دیتے ہیں: امام ابو حنیفہ کے نزدیک بلا شرط، امام ابو یوسف کے نزدیک صب (اوپر سے بہانے) کی شرط کے ساتھ، اور امام محمد کے نزدیک سرے سے پاک نہیں کرتے[4]۔

تفریعات:

1) نجس کپڑا سرکے سے دھویا گیا عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: صب ہو تو پاک ورنہ ناپاک، عند محمد: ناپاک۔

2) بدن کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: صب ہو تو پاک ورنہ ناپاک، عند محمد: ناپاک۔

3) نجس چیز کو پاک مائع میں ڈبو دیا گیا عند أبي حنيفة: پاک، عند أبي يوسف: ناپاک (صب مفقود)، عند محمد: ناپاک (مائع مطهر نہیں)۔

 

ضابطہ :نظر نہ آنی والی(سوکھنے کےبعد)  نجاست (جیسے پیشاب کا اثر) میں دھونے کی تعداد معتبر ہے، جبکہ نظر آنے والی نجاست (جیسے خون) میں اصل شرط نجاست کا ختم ہونا ہے، تعداد معتبر نہیں۔

تفریعات:

1) غیر مرئی نجاست(پیشاب) تین مرتبہ دھونا ضروری۔
2) مرئی نجاست (خون وغیرہ) جب نجاست ختم ہو جائے تو پاک، چاہے ایک بار میں ہو جائے۔
3) نجاست ختم ہو جائے مگر نشان باقی ہو اگر نشان زائل ہو سکتا ہو تو ختم کرنا ضروری، اگر زائل نہ ہو سکتا ہو تو باقی رہنا مضر نہیں۔


ضابطہ:.حکمی نجاست (حدث و جنابت) ایک مرتبہ غسل سے ختم ہو جاتی ہے، اس میں تعداد شرط نہیں۔

تفریعات:

1) وضو یا غسل میں تین مرتبہ دھونا شرط نہیں۔
2) ایک مرتبہ پانی بہہ جائے تو طہارت حاصل۔
3) اس کا سبب یہ ہے کہ پانی نجاستِ حکمیہ کو فوراً دور کر دیتا ہے۔

 

ضابطہ: محلِ متنجس تین طرح کے ہیں: (1) جو نجاست جذب نہ کرے، وہ زوالِ عینِ نجاست سے پاک ہو جاتا ہے۔ (2) جو معمولی جذب کرے، وہ زوالِ عین یا غسل سے پاک ہو جاتا ہے۔ (3) جو نجاست کو زیادہ جذب کرے، اس کی طہارت عصر (نچوڑنے) سے ہوگی، اور اگر عصر ممکن نہ ہو تو ظاہری نجاست کی صورت میں تین مرتبہ دھونا کافی ہے، جبکہ باطن میں سرایتِ نجاست کی صورت میں امام ابو یوسفؒ کے نزدیک تین مرتبہ بھگو کر خشک کرنے سے پاک ہو جائے گا، اور امام محمدؒ کے نزدیک پاک نہیں ہوگا۔

تشریح و تفریع:

محل متنجس (جس چیز پر نجاست لگی ہو) وہ تین قسم کے ہیں، اور تینوں کے پاکی کے طریقے مختلف ہیں۔

  • (1) جو نجاست کو بالکل جذب نہ کرے، وہ زوالِ عینِ نجاست سے پاک ہو جاتا ہے۔
    مثلاً شیشہ، آئینہ، چاقو، تلوار، پالش شدہ دھات یا پلاسٹک کی ہموار سطح پر نجاست لگ جائے، تو نجاست کا اثر اور مادہ صاف کر دینے سے وہ پاک ہو جاتی ہے؛ کیونکہ نجاست اس کے اندر سرایت نہیں کرتی۔
  • (2) جو نجاست کو معمولی طور پر جذب کرے، وہ زوالِ عین یا غسل سے پاک ہو جاتا ہے۔
    مثلاً لکڑی کا تختہ، دروازہ، یا چمڑے کی بعض اشیاء جن میں نجاست گہرائی تک سرایت نہیں کرتی، ان پر نجاست لگ جائے تو دھونے یا نجاست کے اثر کو زائل کرنے سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے۔
  • (3) جو نجاست کو کثرت سے جذب کرے، اس کی طہارت عصر (نچوڑنے) سے ہوگی۔
    مثلاً کپڑا، قالین، کمبل، اسفنج اور روئی وغیرہ۔ اگر ان پر نجاست لگ جائے تو دھونے کے بعد نچوڑنا ضروری ہوگا تاکہ نجس پانی خارج ہو جائے۔
  • اگر نچوڑنا ممکن نہ ہو تو دو صورتیں ہیں:
  • (الف) نجاست صرف ظاہر میں لگی ہو:
    جیسے موٹا بوریا، چٹائی یا ایسا قالین جس میں نجاست اندر نہ اتری ہو، تو اسے تین مرتبہ دھو لینے سے پاک سمجھا جائے گا۔
  • (ب) نجاست اندر سرایت کر گئی ہو:
    جیسے گدا، کچا برتن یا ایسا مواد جس کے اندر نجاست جذب ہو گئی ہو اور نچوڑنا بھی ممکن نہ ہو؛ تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک اسے تین مرتبہ پانی میں بھگو کر ہر مرتبہ خشک کیا جائے گا، جبکہ امام محمدؒ کے نزدیک ایسی چیز پاک نہیں ہو سکتی۔

 امام کاسانی فرماتے ہیں:امام محمد کا قول زیادہ قیاسی (اقیس) ہے اور امام ابو یوسف کا قول زیادہ آسان (اوسع) ہے۔

 

 

 

ضابطہ :  (الف) ہر وہ چیز جو انسان کے بدن سے نکل کر وضو یا غسل کو لازم کرے نجاستِ غلیظہ ہے۔ (ب) حرام جانور کی لید اور پیشاب نجاست غلیظہ ہے، سوائے چمگادڑ کے پیشاب کے۔ (ج)  وہ پرندے جو فضا میں پاخانہ نہیں گراتے (جیسے بطخ اور مرغی) ان کی بیٹ نجاستِ غلیظہ ہے۔(د)  شراب، بہنے والا خون (سوائے شہید کے بدن پر موجود خون کے)، مردار اور اس کے اجزاء، انسانی و حیوانی فضلات، پیپ، مواد، منہ بھر قے—یہ سب نجاستِ غلیظہ شمار ہوں گے۔

 

تفریعات

  1. انسانی خارج ہونے والی نجاستیں: پاخانہ، پیشاب، منی، حیض، نفاس، استحاضہ، منہ بھر قے — سب نجاستِ غلیظہ ہیں۔ مثال: بچے کا پیشاب بھی اسی حکم میں داخل ہے۔البتہ ریح اس سے مستثنی ہے۔
  2. بہنے والا خون:ہر بہنے والا خون نجاستِ غلیظہ ہے، سوائے شہید کے بدن پر موجود خون کے۔ جیسے زخم سے بہنے والا خون
  3. پیپ اور مواد: پیپ، صديد اور زخم کا مواد خون کے حکم میں ہے۔ مثال: پھوڑے سے نکلنے والا مادہ۔
  4. شراب:خمر نجاستِ غلیظہ ہے۔
  5. بہتے خون والے مردار اور اس کے اجزاء: وہ مردار جانورجن میں بہتا ہوا خون ہے   اور ان کے وہ اجزاء جن میں زندگی ہوتی ہے نجاست غلیظہ ہیں۔البتہ جن میں حیات نہیں ہوتی جیسے بال، ناخون ہڈیاں وغیرہ وہ پاک ہیں سوائے خنزیر کے ۔ کیوں کہ وہ نجس العین ہے۔اسی طرح وہ مرادار جانور جن میں بہتا ہوا خون نہیں  ہے جیسے مکھی، بھڑ کیکڑا و غیرہ وہ نجس نہیں ہیں۔
  6. ناجائز جانوروں کا فضلہ:ہر غیر مأکول اللحم جانور کا پیشاب اور لید نجاستِ غلیظہ ہے۔ مثال: کتے کی لید، گدھے کا پیشاب۔سوائے چمگادڑ کے پیشاب کے کہ وہ ضرورت کی وجہ سے معاف ہے۔
  7. ہوا میں جو پرندے بیٹ نہیں کرتے : جیسے بطخ، مرغی، ہنس کی بیٹ اور پیشاب نجاستِ غلیظہ ہے۔
  8. بلی اور چوہے کا پیشاب (اصل حکم)اصل روایت میں بلی اور چوہے کا پیشاب نجس ہے، مگر بلی کے پیشاب میں کپڑوں پر ضرورت کی بنا پر عفو (رخصت) ہے۔
  9. چوہے کی لید غلّہ (مثلاً گیہوں) میں معاف ہے، مگر کپڑوں اور مائعات میں نہیں۔

 

 

ضابطہ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا پیشاب، نیز گھوڑے کا پیشاب، اور ان پرندوں کی بیٹ جن کا گوشت حلال نہیں — یہ سب نجاستِ خفیفہ شمار ہوتے ہیں[5]۔

تفریعات

حلال جانوروں کا پیشاب گائے، بکری، اونٹ، بھیڑ وغیرہ کا پیشاب نجاستِ خفیفہ ہے
گھوڑے کا پیشاب گھوڑا اگرچہ مأکول اللحم نہیں، مگر اس کا پیشاب تخفیف کے ساتھ نجس قرار دیا گیا ہے
غیر مأکول پرندوں کی بیٹ :جو پرندے حلال نہیں، ان کی بیٹ نجاستِ خفیفہ  ہے۔

 

  ضابطہ: نجاست غلیظہ اگر جسم والی ہو ایک درھم وزن یعنی کے برابر کپڑے اور بدن میں معاف ہے، اور اگر سیال ہے تو ہتھیلی کی چوڑائی کے برابر۔ اور نجاست خفیفہ جس عضو پر لگی ہو اس کے چوتھائی سے کم ہو تو معاف ہے۔ مگر بلاعذر اس کاازلہ نہ کرنا مکروہ ہے۔

پس  قلیل پانی میں اگر نجاست گرجائے چاہے خفیفہ ہویا غلیظہ ہو اس سے پورا پانی ناپاک ہوجائے گا۔

 

ضابطہ۸: اگر نجاست غلیظہ اور خفیفہ دونوں ایک ساتھ لگی ہوں تو خفیفہ غلیظہ کے تابع ہوں گی۔

پس اگر کسی کےبدن پر خون  اور گوبر لگا ہو تو نجاست غلیظہ کے احکام مرتب ہوں گے۔

 

ضابطہ۹: حرج اور عموم بلوی کے پیش نظر مسائل طہارت میں توسع برتا گیا ہے[6]۔

تفریعات:

  • مچھلی کا خون پاک ہے اور اس سے کپڑا یا بدن ناپاک نہیں ہوتا۔
  • خچر اور گدھے کا تھوک) بھی طہارت کے حکم میں شامل ہے۔
  • سوئی کے ناکوں جیسی باریک چھینٹیں اگر کپڑے یا بدن پر لگ جائیں تو معاف ہیں، اور اگر پانی لگنے سے یہ پھیل بھی جائیں تو بھی ضرورت کی وجہ سے معاف ہی رہیں گی، البتہ قلیل پانی میں گرنے سے اسے ناپاک کر دیں گی۔
  • راستے کا کیچڑ  اور مٹی عمومِ بلویٰ کی وجہ سے معاف قرار دی گئی ہے۔
  • پرندوں کی بیٹ اصلاً ناپاک ہے لیکن ٹنکی یا کنویں کے پانی میں گرنے سے اسے ناپاک نہیں کرتی جب تک نجاست کا اثر غالب نہ آ جائے، کیونکہ اس سے بچنا مشکل ہے۔
  • چوہے کی مینگنی اور پیشاب سے پانی اور کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے، لیکن اگر مینگنی گندم کے ساتھ پس کر آٹے میں شامل ہو جائے یا تیل میں گر جائے تو ضرورت کی بنا پر وہ ناپاک نہیں کہلائے گا۔
  • ناپاک کپڑے دھونے کی چھینٹیں اگر معمولی مقدار میں کپڑے یا بدن پر پڑ جائیں تو ضرورت کی وجہ سے معاف ہیں، مگر پاک پانی کے برتن میں گرنے سے پانی ناپاک ہو جائے گا۔
  • بلی کا جھوٹا حرج کی وجہ سے پاک ہے اور اس میں صرف کراہتِ تنزیہی پائی جاتی ہے۔
  • بلی کا پیشاب کثرتِ اختلاط کی وجہ سے اگر کپڑوں پر لگ جائے تو معاف ہے، لیکن برتن کے معاملے میں یہ رعایت نہیں ہے۔
  • دھوتے وقت بکری کی مینگنی اگر دودھ میں گر جائے تو بوجہ حرج و ضرورت دودھ پاک رہے گا، بشرطیکہ وہ اس میں ٹوٹ کر نہ ملے۔
  • پانی میں ہاتھ ڈالنا یعنی اگر کوئی بے وضو یا جنبی شخص پانی میں گری ہوئی چیز نکالنے کے ارادے سے ہاتھ ڈال دے تو ضرورت کی بنا پر وہ پانی مستعمل نہیں ہوگا۔

ضابطہ: جو حدث نہیں ہے نجس نہیں ہے[7]۔

پس خون جو نکل کر بہا نہ ہو پاک،قے جو منہ بھر کر نہ ہوئی ہو وہ پاک ہے[8].

ضابطہ: نجاست جب تک اپنے معدن میں ہو اس پر نجاست کے احکام جاری نہیں ہوتے ۔

لہذا بدن کے اندر موجود خون کی وجہ سے نجاست  کا حکم نہیں لگتا۔ انڈے کی زردی اگر خون میں تبدیل ہوجائے تو اس کو نجس نہیں کہا جائے گا[9]۔

 

[1]  الدر المختار و رد المحتار ۱/182حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی ۲۴، ۲۵

[2] المصدر السابق

[3] الدر المختار مع الرد ۱/۱۹۸، ۱۹۹

[4]  بدائع الصىائع 1 /87

[5]  الفتاوی الہندیۃ ۱ /۴۶)

[6]  ففی النہایۃ ۱/127: «وللضرورة أثر في إسقاط حكم النجاسة.» و انظر الدر علي الرد 1/324و 325

[7]  الوقاية مع شرحه 2/31

[8] الدر المختار 24

[9]  المبسوط للسرخسی ۱/۲۷و ۲۴/۲۷

Share This Blog