8484800418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

10

Jun

،کتاب الطہارة: طہارت کی تعریف، شرائط، اقسام اور احکام

کتاب الطہارة

طہارت کی لغوی  تعریف:طہارت لغت میں طَهُرَ سے ماخوذ مصدر ہے جس کے معنی صفائی اور پاکیزگی کے ہیں۔
طہارت کی شرعی تعریف:  طہارت سے مراد حدث اور خبث سے پاک ہونا ہے۔

حدث: یعنی معنوی ناپاکی جیسے بے وضوہونا، جسے حدث اصغر کہتے ہیں۔اور جنبی ہونا جسے ’’حدث اکبر‘‘ کہتے ہیں۔
خبث : ظاہری ناپاکی جیسے پیشاب، پاخانہ، گوبر، خون وغیرہ۔[1]

محل میں نظافت کے ثابت ہونے کا بیان

کسی محل میں نظافت کا ثابت ہونا ایک ایسی صفت ہے جو ہر گھڑی پیدا ہوتی رہتی ہے۔
اس کا پیدا ہونا صرف اس کے ضد یعنی گندگی کے موجود ہونے کی وجہ سے رکا رہتا ہے۔
پس جب گندگی زائل ہو جائے اور ناپاک چیز کی عین کو دور کر دینے سے اس کا دوبارہ پیدا ہونا ممکن نہ رہے تو نظافت حاصل ہو جاتی ہے۔[2]

طہارت کے ارکان

طہارت کے ارکان یہ ہیں:

  • غسل  (حدث اصغر اور اکبر میں)
  • مسح (تیمم میں اور سر کے مسح میں)
  • نجاست کا زائل ہونا [3](حقیقی نجاست میں)

ارکانِ طہارت کی تفصیل

  • حدثِ اصغر میں:
    تین اعضا کو دھونا اور سر کے چوتھائی حصے کا مسح کرنا رکن ہے۔
  • حدثِ اکبر میں:
    پورے بدن کو دھونا رکن ہے۔
  • مرئی حقیقی نجاست میں:
    نجاست کی عین کو زائل کرنا رکن ہے۔
  • غیر مرئی نجاست میں:
    محل  (جس جگہ نجاست لگی ہو) کو تین مرتبہ دھونا ضروری ہے، اور اگر چیز نچوڑنے کے قابل ہو تو ہر مرتبہ نچوڑنا بھی لازم ہے، جبکہ جو چیز نچوڑنے کے قابل نہ ہو اسے خشک کرنا ہوگا[4]۔

شرائطِ طہارت

طہارت کی شرائط دو قسم کی ہیں:

  1. شرائطِ وجوب   
  2. شرائطِ صحت  

شرائطِ وجوب

 یعنی وہ شرائط جن کے پائے جانے پر وضو یا غسل واجب ہوتا ہے

شرائطِ وجوب چھ ہیں:

  1. اسلام
  2. تکلیف
  3. مطہِّر کے استعمال کی قدرت
  4. حدث کا موجود ہونا
  5. حیض و نفاس جیسے موانع کا نہ ہونا
  6. وقت کا تنگ ہونا

فوائد قیود: پس طہارت واجب نہیں ہوتی: کافر پر، نابالغ پر، مجنون پر، مطہِّر کے استعمال سے عاجز پر، جسے پانی اور مٹی دونوں میسر نہ ہوں، پاک شخص پر، حائضہ پر، نفساء پر، اور جب وقت کشادہ ہو۔ [5]

شرائطِ صحت:

یعنی وہ شرائط جن کے پائے جانے پر وضو یاغسل معتبر ہوتا ہے۔

شرائطِ صحت دو ہیں:

  1. مطہِّر (پانی یا مٹی) کے ذریعے محل کو پوری طرح شامل کرنا
  2. حیض و نفاس اور نواقض وضو جیسے موانع کا نہ ہونا ۔ (مگر معذور کے حق میں عذر والا ناقض  وقت کے باقی رہنے تاک مانع نہیں ہے)۔
  3. اسی طرح اعضاء وضو پر کوئی ایسی چیز لگی ہو جو پانی پہنچنے سے مانع ہو جیسے آٹا، گوند تو اس کو چھڑانا ضروری ہے، الا یہ کہ اس میں حرج ہو یعنی وہ نکالنے سے نہ نکلتی ہو یا بغرض علاج لگائی گئی ہو جیسے جبیرہ ۔

فوائد قیود: پس اگر محل کو مکمل طور پر مطہِّر نہ پہنچے یا حیض و نفاس موجود ہوں، یا بول وبراز اور خون کا نکلنا جاری ہو  تو طہارت صحیح نہیں ہوگی۔

شرائط کا منظوم خلاصہ

علامہ شامی نے دونوں قسم کی شرائط کو اس شعر میں جمع کیا ہے:

شرط الوجوب جاء ضمن ست                                                                                   تکلیف اسلام  وضیق وقت

و قدرۃ الماء الطہور الکافی                                                                                                     و حدث مع انتفاء المنافی

و اثنان للصحۃ تعمیم المحل                                                                                                 بالماء مع فقد المنافی للعمل

شرطِ وجوبِ  چھ امور کے ضمن میں آتےہیں:
مکلف ہونا، مسلمان ہونا، وقت کی تنگی،  پانی کے استعمال کی قدرت، کافی پاک پانی کا ہونا، اور حدث کا ہونا، موانع کے نہ ہونے کے ساتھ۔
اور صحت کے لیے دو شرطیں ہیں: محل کو پانی سے پوری طرح شامل کرنا اور عمل کے لیے موانع کا نہ ہونا۔[6]

حکمِ طہارت

طہارت کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذریعے ایسی چیزیں مباح ہو جاتی ہیں جو اس کے بغیر جائز نہیں۔

فوائد قیود: پس طہارت حاصل ہونے کے بعد وہ عبادات اور اعمال جائز ہو جاتے ہیں جو اس کے بغیر جائز نہ تھے[1]۔

صفتِ طہارت (حکم کے اعتبار سے)

فرض: طہارت نماز کے لیے، خواہ فرض ہو یا نفل، فرض ہے۔
واجب:   طواف کے لیے واجب ہے۔
سنت:  سونے کے لیے سنت ہے۔
اور تیس سے زائد مقامات پر مندوب ہے۔

طہارت کے مندوب مواقع: نیند سے بیدار ہونے کے وقت ، ہمیشہ باوضو رہنے کے لیے ، مجلس بدلنے پر وضو کے بعد دوبارہ وضو کے لیے ، میت کو غسل دینے اور اسے اٹھانے کے لیے ، ہر نماز کے وقت ، غسلِ جنابت سے پہلے ، جنب کے لیے کھانے، پینے، سونے اور جماع کے وقت ،غصہ کے وقت ، حدیث پڑھنے اور روایت کرنے کے وقت ، علم کی تعلیم کے وقت ، اذان کے لیے ، خطبہ کے لیے ، نکاح کے لیے ۔ نبی ﷺ کے روضہ اطہر کی  زیارت کے لیے، وقوف اور سعی کے لیے ،جھوٹ، غیبت، قہقہہ، بری شاعری اور گاجر کھانے کے بعد ، ہر گناہ کے بعد ،علماء کے اختلاف سے نکلنے کے لیے، جیسے شرمگاہ کو چھونے اور عورت کو چھونے کے مسئلہ میں[2]۔

 

[1] الدر المختار علی رد المحتار ۱/۱۹۰

[2] الرد و الدر ۱/۱۹۶،۱۹۷، ۱۹۸، ۱۹۹

 

 

[1] رد المحتار ۱/۱۹۳، ۱۹۴

 

[2] رد المحتار ۱/۱۹۸)

 

[3] البحر الرائق ۱/۲۳

 

[4  الدر المختار علی الرد ۱/۸۹

 

[5]  بدائع الصنائع ۱/۱۳

 

[56] الدر المختار مع رد المحتار ۱۶/۱۸۹

Share This Blog