8484800418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

05

May

عید کی مبارکبا دینا

 

عید کی مبارکباد کی شرعی حیثیت

عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ خوشی، شادمانی اور مسرت کا عظیم موقع ہے۔ اس مبارک دن ایک دوسرے کو مبارکباد دینا ایک مستحسن عمل ہے(1)۔ یہ طرزِ عمل بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول بھی ہے، بلکہ ایک حدیث(2) میں پڑوسی کے حقوق میں یہ بات بھی ذکر ہوئی ہے کہ جب اسے کوئی خوشی پہنچے تو اسے مبارکباد دی جائے۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے عید کی مبارکباد دینے کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا یہ مکروہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں۔

ذیل میں چند روایات ذکر کی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کی مبارکباد دینا صحابہ و تابعین سے ثابت ہے۔


صحابہ کرام سے عید کی مبارکباد

(1)123 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺰا اﻟﺘﻮﺯﻱ، ﺛﻨﺎ ﺑﻮ ﻫﻤﺎ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺠﺎ، ﺛﻨﺎ ﺑﻘﻴﺔ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ، ﺧﺒﺮﻧﻲ ﺑﻲ ﻗﺎ: " ﻟﻘﻴﺖاﺛﻠﺔ ﻳﻮ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﻠﺖ: ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻚ ﻓﻘﺎ: ﻧﻌﻢ، ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻚ "(المعجم الكبير123) (3)

قال الہیثمی فی المجمع: ﺭﻭا اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ ﺣﺒﻴﺐ ﻗﺎ اﻟﺬﻫﺒﻲ: ﻣﺠﻬﻮ، ﻗﺪ ﻛﺮ اﺑﻦ ﺣﺒﺎ ﻓﻲ اﻟﺜﻘﺎ، ﻭﺃﺑﻮ ﻟﻢ ﻋﺮﻓﻪ۔   (مجمع الزوائد206/2)

عمر الانصارى کہتے ہیں کہ عید کے دن میری واثلۃ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا تقبل اللہ منا ومنک (اللہ قبول کرے مجھ سے اور آپ سے)، تو حضرت واثلة بن الاسقع نے بھی یہی جملہ جواب میں دہرایا۔


مزید شواہد

مذکورہ روایت کی سند حبیب بن عمر کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم یہ مضر نہیں کیونکہ اس کے متعدد متابع اور شواہد موجود ہیں:

(2) 928 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺑﻮ ﻳﺪ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺣﺎﺗﻢ اﻟﻤﺮاﺩﻱ، ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ اﻟﺘﻨﻴﺴﻲ، ﺛﻨﺎ ﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎ، ﻋﻦ اﻷﺣﻮ ﺑﻦ ﺣﻜﻴﻢ، ﻋﻦ اﺷﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﺃﻥ ﺑﺎ ﻣﺎﻣﺔ اﻟﺒﺎﻫﻠﻲ، ﻭﻭاﺛﻠﺔ ﺑﻦ اﻷﺳﻘﻊ، ﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﻟﻘﻴﺎ ﻓﻲ ﻳﻮ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﺎﻻ: «ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻚ»                             (الدعاء للطبراني 928)

(3)قال الطحاوي في مختصر اختلاف العلماء(385/4): وحدثنا يحيى بن عثمان قال حدثنا نعيم قال حدثنا محمد بن حرب عن محمد بن زياد الألهاني قال: كنا نأتي أبا أمامة وواثلة بن الأسقع في الفطر والأضحى ونقول لهما :  تقبل الله منا ومنكم فيقولان: ومنا ومنكم"

قال أحمد بن حنبل: إسناده جيد "[الجوہر النقي319,320)

قال الطحاوی رحمه الله: ولا يعلم عن أحد من الصحابة في ذلك كراهة ولا إباحة، غير ما روي عن أبي أمامة وواثلة اه

(4) قال الحافظ ابن حجر في الفتح :"وروينا في المحامليات بإسناد حسن عن جبير بن نفير قال : كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا التقوا يوم العيد يقول بعضهم لبعض : تقبل الله منا ومنك" (فتح الباری 446/2)

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید کے دن ایک دوسرے سے ملتے تو کہتے تھے:
"
تقبل الله منا ومنكم"


تابعین سے بھی ثبوت

متعددتابعین سے بھیعید کی مبارکباد دینا منقول ہے، جیسے:
عمر بن عبد العزیز، یونس بن عبید، عبد الله بن بسر، عبد الرحمن بن عائذ، جبير بن نفير، خالد بن معدان، حوشب بن عقیل اور حسن بصری رحمہم اللہ۔

(۱) روى أبو القاسم الأصبهاني في الترغيب والترهيب(251/1)  فقال: أخبرنا الحسين بن أحمد السمرقندي؛ أنا أبو العباس المستغفري، أنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن أبي توبة المروزي، ثنا عبد الله بن محمود، ثنا يحيى بن أكثم، ثنا حاجب بن الوليد، ثنا مبشر بن إسماعيل الحلبي، عن صفوان بن عمرو السكسكي قال: سمعت عبد الله بن بسر وعبد الرحمن بن عائذ، وجبير بن نفير وخالد بن معدان يقال لهم في أيام الأعياد: (تقبل الله منا ومنكم، ويقولون ذلك لغيرهم)  وأخرجه ابن عساكر (24/154) عن بشر بن إسماعيل عن إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو السكسكي عنهم.

 (۲) قال الطبرانی: ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ اﻟﻤﻌﻤﺮ، ﺛﻨﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ اﻟﻤﺪﻳﻨﻲ، ﺛﻨﺎ ﺑﻮ اﻭﺩ ﺳﻠﻴﻤﺎ ﺑﻦ اﻭﺩ، ﺛﻨﺎ ﺷﻌﺒﺔ، ﻗﺎ: ﻟﻘﻴﻨﻲ ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ ﻓﻲ ﻳﻮ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﺎ: «ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻚ».

(۳) و قال:  ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺛﻌﻠﺐ اﻟﻨﺤﻮ اﻟﺒﺼﺮ، ﺛﻨﺎ ﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮ اﻟﺴﻠﻴﻤﻲ، ﺛﻨﺎ ﻣﺴﻜﻴﻦ ﺑﻮ ﻓﺎﻃﻤﺔ، ﺛﻨﺎ ﺣﻮﺷﺐ ﺑﻦ ﻋﻘﻴﻞ، ﻗﺎ: ﻟﻘﻴﺖ اﻟﺤﺴﻦ ﻓﻲ ﻳﻮ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﻠﺖ: «§ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻚ» ، ﻓﻘﺎ: «ﻧﻌﻢ، ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻚ». (الدعاء للطبراني /الدعاء في العيدين920‘930)

 

متعدد فقہی کتب میں بھی اس کے مستحسن و مستحب ہونے کی صراحت موجود ہے۔


فقہاء کی تصریحات

حاشیة الطحطاوي

اﻟﺘﻬﻨﺌﺔ ﺑﻘﻮﻟﻪ ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻜﻢ ﻻ ﺗﻨﻜﺮ ﺑﻞ ﻣﺴﺘﺤﺒﺔ ﻟﻮﺭﻭﺩ اﻷﺛﺮ ﺑﻬﺎ ﻛﻤﺎ ﺭﻭا اﻟﺤﺎﻓﻆ اﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﻦ ﺗﺤﻔﺔ ﻋﻴﺪاﻷﺿﺤﻰ ﻷﺑﻲ اﻟﻘﺎﺳﻢ اﻟﻤﺴﺘﻤﻠﻲ ﺑﺴﻨﺪ ﺣﺴﻦ ﻛﺎ ﺻﺤﺎ ﺳﻮ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺳﻠﻢ ﺇﺫا اﻟﺘﻘﻮا ﻳﻮ اﻟﻌﻴﺪ ﻳﻘﻮ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻟﺒﻌﺾ ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻜﻢ ﻗﺎ ﻭﺃﺧﺮﺟﻪ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻳﻀﺎ ﻓﻲ اﻟﺪﻋﺎء ﺑﺴﻨﺪ ﻗﻮ اـ                       (حاشية الطحطاوي 530/1)

درمختار میں ہے:  ﻧﺪ ﻛﻮﻧﻪ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻖ ﺧﺮ ﻭﺇﻇﻬﺎ اﻟﺒﺸﺎﺷﺔ ﻭﺇﻛﺜﺎ اﻟﺼﺪﻗﺔ اﻟﺘﺨﺘﻢ اﻟﺘﻬﻨﺌﺔ ﺑﺘﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻣﻨﻜﻢ ﻻ ﺗﻨﻜﺮ

وقال في حاشيته رد المحتار: (ﻗﻮﻟﻪ ﻻ ﺗﻨﻜﺮ) ﺧﺒﺮ ﻗﻮﻟﻪ اﻟﺘﻬﻨﺌﺔ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻗﺎ ﻛﺬﻟﻚ ﻷﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺤﻔﻆ ﻓﻴﻬﺎ ﺷﻲء ﻋﻦ ﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻭﺃﺻﺤﺎﺑﻪ، ﻭﺫﻛﺮ ﻓﻲ اﻟﻘﻨﻴﺔ ﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﻨﻘﻞ ﻋﻦ ﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﻛﺮاﻫﺔ ﻋﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﻧﻪ ﻛﺮﻫﻬﺎ، ﻋﻦ اﻷﻭﺯاﻋﻲ ﻧﻬﺎ ﺑﺪﻋﺔ، ﻗﺎ اﻟﻤﺤﻘﻖ اﺑﻦ ﻣﻴﺮ ﺣﺎ: ﺑﻞ اﻷﺷﺒﻪ ﻧﻬﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﻣﺴﺘﺤﺒﺔ ﻓﻲ اﻟﺠﻤﻠﺔ 

رد المحتار 170/2


"عید مبارک" کہنا کیسا ہے؟

مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہوئی کہ عید کی مبارکباد کے لیے "تقبل اللہ منا ومنکم" کہنا صحابہ و تابعین سے ثابت ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ "عید مبارک" کہنا کیسا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اظہارِ تہنیت کا ایک جملہ ہے۔ چونکہ اصل تہنیت مشروع ہے، اس لیے اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ خصوصاً جبکہ دیگر مواقع پر مبارکباد کے کلمات (جیسے بارک اللہ) شادی وغیرہ کے مواقع پر منقول بھی ہیں۔

حاشیۃ الطحطاوي میں ہے:
اﻟﻤﺘﻌﺎﻣﻞ ﺑﻪ ﻓﻲ اﻟﺒﻼ اﻟﺸﺎﻣﻴﺔاﻟﻤﺼﺮﻳﺔ ﻗﻮ اﻟﺮﺟﻞ ﻟﺼﺎﺣﺒﻪ ﻋﻴﺪ ﻣﺒﺎﺭﻙ ﻋﻠﻴﻚ...

رد المحتار میں ہے:
ﻭاﻟﻤﺘﻌﺎﻣﻞ ﻓﻲ اﻟﺒﻼﺩ اﻟﺸﺎﻣﻴﺔﻭاﻟﻤﺼﺮﻳﺔ ﻋﻴﺪ ﻣﺒﺎﺭﻙ ﻋﻠﻴﻚ...


خلاصہ

لہٰذا "عید مبارک" کہنا بالکل درست ہے، البتہ سلف کی اتباع میں "تقبل اللہ منا ومنکم" کہنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔

و كتبه العبد رشيد الدين المعروفي عفا الله عنه

Share This Blog