8484800418
islamstudy@gmail.com
عید کی مبارکباد کی شرعی حیثیت
عید اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ خوشی، شادمانی اور مسرت کا عظیم موقع ہے۔ اس مبارک دن ایک دوسرے کو مبارکباد دینا ایک مستحسن عمل ہے(1)۔ یہ طرزِ عمل بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول بھی ہے، بلکہ ایک حدیث(2) میں پڑوسی کے حقوق میں یہ بات بھی ذکر ہوئی ہے کہ جب اسے کوئی خوشی پہنچے تو اسے مبارکباد دی جائے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے عید کی مبارکباد دینے کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا یہ مکروہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں۔
ذیل میں چند روایات ذکر کی جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کی مبارکباد دینا صحابہ و تابعین سے ثابت ہے۔
صحابہ کرام سے عید کی مبارکباد
(1)123 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺰﺩاﺩ اﻟﺘﻮﺯﻱ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻫﻤﺎﻡ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑﻦ ﺷﺠﺎﻉ، ﺛﻨﺎ ﺑﻘﻴﺔ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ، ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﺃﺑﻲ ﻗﺎﻝ: " ﻟﻘﻴﺖﻭاﺛﻠﺔ ﻳﻮﻡ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﻠﺖ: ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ ﻓﻘﺎﻝ: ﻧﻌﻢ، ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ "(المعجم الكبير123) (3)
قال الہیثمی فی المجمع: ﺭﻭاﻩ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ ﻭﺣﺒﻴﺐ ﻗﺎﻝ اﻟﺬﻫﺒﻲ: ﻣﺠﻬﻮﻝ، ﻭﻗﺪ ﺫﻛﺮﻩ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ﻓﻲ اﻟﺜﻘﺎﺕ، ﻭﺃﺑﻮﻩ ﻟﻢ ﺃﻋﺮﻓﻪ۔ (مجمع الزوائد206/2)
عمر الانصارى کہتے ہیں کہ عید کے دن میری واثلۃ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا تقبل اللہ منا ومنک (اللہ قبول کرے مجھ سے اور آپ سے)، تو حضرت واثلة بن الاسقع نے بھی یہی جملہ جواب میں دہرایا۔
مزید شواہد
مذکورہ روایت کی سند حبیب بن عمر کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم یہ مضر نہیں کیونکہ اس کے متعدد متابع اور شواہد موجود ہیں:
(2) 928 - ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺯﻳﺪ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺣﺎﺗﻢ اﻟﻤﺮاﺩﻱ، ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ اﻟﺘﻨﻴﺴﻲ، ﺛﻨﺎ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺵ، ﻋﻦ اﻷﺣﻮﺹ ﺑﻦ ﺣﻜﻴﻢ، ﻋﻦ ﺭاﺷﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﺃﻥ ﺃﺑﺎ ﺃﻣﺎﻣﺔ اﻟﺒﺎﻫﻠﻲ، ﻭﻭاﺛﻠﺔ ﺑﻦ اﻷﺳﻘﻊ، ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﻟﻘﻴﺎﻩ ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﺎﻻ: «ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ» (الدعاء للطبراني 928)
(3)قال الطحاوي في مختصر اختلاف العلماء(385/4): وحدثنا يحيى بن عثمان قال حدثنا نعيم قال حدثنا محمد بن حرب عن محمد بن زياد الألهاني قال: كنا نأتي أبا أمامة وواثلة بن الأسقع في الفطر والأضحى ونقول لهما : تقبل الله منا ومنكم فيقولان: ومنا ومنكم"
قال أحمد بن حنبل: إسناده جيد "[الجوہر النقي319,320)
قال الطحاوی رحمه الله: ولا يعلم عن أحد من الصحابة في ذلك كراهة ولا إباحة، غير ما روي عن أبي أمامة وواثلة اه
(4) قال الحافظ ابن حجر في الفتح :"وروينا في المحامليات بإسناد حسن عن جبير بن نفير قال : كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا التقوا يوم العيد يقول بعضهم لبعض : تقبل الله منا ومنك" (فتح الباری 446/2)
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید کے دن ایک دوسرے سے ملتے تو کہتے تھے:
"تقبل الله منا ومنكم"
تابعین سے بھی ثبوت
متعددتابعین سے بھیعید کی مبارکباد دینا منقول ہے، جیسے:
عمر بن عبد العزیز، یونس بن عبید، عبد الله بن بسر، عبد الرحمن بن عائذ، جبير بن نفير، خالد بن معدان، حوشب بن عقیل اور حسن بصری رحمہم اللہ۔
(۱) روى أبو القاسم الأصبهاني في الترغيب والترهيب(251/1) فقال: أخبرنا الحسين بن أحمد السمرقندي؛ أنا أبو العباس المستغفري، أنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن أبي توبة المروزي، ثنا عبد الله بن محمود، ثنا يحيى بن أكثم، ثنا حاجب بن الوليد، ثنا مبشر بن إسماعيل الحلبي، عن صفوان بن عمرو السكسكي قال: سمعت عبد الله بن بسر وعبد الرحمن بن عائذ، وجبير بن نفير وخالد بن معدان يقال لهم في أيام الأعياد: (تقبل الله منا ومنكم، ويقولون ذلك لغيرهم) وأخرجه ابن عساكر (24/154) عن بشر بن إسماعيل عن إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو السكسكي عنهم.
(۲) قال الطبرانی: ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ اﻟﻤﻌﻤﺮﻱ، ﺛﻨﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ اﻟﻤﺪﻳﻨﻲ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺩاﻭﺩ، ﺛﻨﺎ ﺷﻌﺒﺔ، ﻗﺎﻝ: ﻟﻘﻴﻨﻲ ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﺎﻝ: «ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ».
(۳) و قال: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺛﻌﻠﺐ اﻟﻨﺤﻮﻱ اﻟﺒﺼﺮﻱ، ﺛﻨﺎ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ اﻟﺴﻠﻴﻤﻲ، ﺛﻨﺎ ﻣﺴﻜﻴﻦ ﺃﺑﻮ ﻓﺎﻃﻤﺔ، ﺛﻨﺎ ﺣﻮﺷﺐ ﺑﻦ ﻋﻘﻴﻞ، ﻗﺎﻝ: ﻟﻘﻴﺖ اﻟﺤﺴﻦ ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﻋﻴﺪ ﻓﻘﻠﺖ: «§ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ» ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻧﻌﻢ، ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻚ». (الدعاء للطبراني /الدعاء في العيدين920‘930)
متعدد فقہی کتب میں بھی اس کے مستحسن و مستحب ہونے کی صراحت موجود ہے۔
فقہاء کی تصریحات
حاشیة الطحطاوي
ﻭاﻟﺘﻬﻨﺌﺔ ﺑﻘﻮﻟﻪ ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻜﻢ ﻻ ﺗﻨﻜﺮ ﺑﻞ ﻣﺴﺘﺤﺒﺔ ﻟﻮﺭﻭﺩ اﻷﺛﺮ ﺑﻬﺎ ﻛﻤﺎ ﺭﻭاﻩ اﻟﺤﺎﻓﻆ اﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﻦ ﺗﺤﻔﺔ ﻋﻴﺪاﻷﺿﺤﻰ ﻷﺑﻲ اﻟﻘﺎﺳﻢ اﻟﻤﺴﺘﻤﻠﻲ ﺑﺴﻨﺪ ﺣﺴﻦ ﻭﻛﺎﻥ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا اﻟﺘﻘﻮا ﻳﻮﻡ اﻟﻌﻴﺪ ﻳﻘﻮﻝ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻟﺒﻌﺾ ﺗﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻜﻢ ﻗﺎﻝ ﻭﺃﺧﺮﺟﻪ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﺃﻳﻀﺎ ﻓﻲ اﻟﺪﻋﺎء ﺑﺴﻨﺪ ﻗﻮﻱ اﻩـ (حاشية الطحطاوي 530/1)
درمختار میں ہے: ﻭﻧﺪﺏ ﻛﻮﻧﻪ ﻣﻦ ﻃﺮﻳﻖ ﺁﺧﺮ ﻭﺇﻇﻬﺎﺭ اﻟﺒﺸﺎﺷﺔ ﻭﺇﻛﺜﺎﺭ اﻟﺼﺪﻗﺔ ﻭاﻟﺘﺨﺘﻢ ﻭاﻟﺘﻬﻨﺌﺔ ﺑﺘﻘﺒﻞ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﺎ ﻭﻣﻨﻜﻢ ﻻ ﺗﻨﻜﺮ
وقال في حاشيته رد المحتار: (ﻗﻮﻟﻪ ﻻ ﺗﻨﻜﺮ) ﺧﺒﺮ ﻗﻮﻟﻪ ﻭاﻟﺘﻬﻨﺌﺔ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻗﺎﻝ ﻛﺬﻟﻚ ﻷﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﺤﻔﻆ ﻓﻴﻬﺎ ﺷﻲء ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻭﺃﺻﺤﺎﺑﻪ، ﻭﺫﻛﺮ ﻓﻲ اﻟﻘﻨﻴﺔ ﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﻨﻘﻞ ﻋﻦ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﻛﺮاﻫﺔ ﻭﻋﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺃﻧﻪ ﻛﺮﻫﻬﺎ، ﻭﻋﻦ اﻷﻭﺯاﻋﻲ ﺃﻧﻬﺎ ﺑﺪﻋﺔ، ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻤﺤﻘﻖ اﺑﻦ ﺃﻣﻴﺮ ﺣﺎﺝ: ﺑﻞ اﻷﺷﺒﻪ ﺃﻧﻬﺎ ﺟﺎﺋﺰﺓ ﻣﺴﺘﺤﺒﺔ ﻓﻲ اﻟﺠﻤﻠﺔ
رد المحتار 170/2
"عید مبارک" کہنا کیسا ہے؟
مذکورہ دلائل سے یہ بات واضح ہوئی کہ عید کی مبارکباد کے لیے "تقبل اللہ منا ومنکم" کہنا صحابہ و تابعین سے ثابت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ "عید مبارک" کہنا کیسا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اظہارِ تہنیت کا ایک جملہ ہے۔ چونکہ اصل تہنیت مشروع ہے، اس لیے اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ خصوصاً جبکہ دیگر مواقع پر مبارکباد کے کلمات (جیسے بارک اللہ) شادی وغیرہ کے مواقع پر منقول بھی ہیں۔
حاشیۃ الطحطاوي میں ہے:
ﻭاﻟﻤﺘﻌﺎﻣﻞ ﺑﻪ ﻓﻲ اﻟﺒﻼﺩ اﻟﺸﺎﻣﻴﺔﻭاﻟﻤﺼﺮﻳﺔ ﻗﻮﻝ اﻟﺮﺟﻞ ﻟﺼﺎﺣﺒﻪ ﻋﻴﺪ ﻣﺒﺎﺭﻙ ﻋﻠﻴﻚ...
رد المحتار میں ہے:
ﻭاﻟﻤﺘﻌﺎﻣﻞ ﻓﻲ اﻟﺒﻼﺩ اﻟﺸﺎﻣﻴﺔﻭاﻟﻤﺼﺮﻳﺔ ﻋﻴﺪ ﻣﺒﺎﺭﻙ ﻋﻠﻴﻚ...
خلاصہ
لہٰذا "عید مبارک" کہنا بالکل درست ہے، البتہ سلف کی اتباع میں "تقبل اللہ منا ومنکم" کہنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
و كتبه العبد رشيد الدين المعروفي عفا الله عنه