8484800418
islamstudy@gmail.com
سوال :
ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک صحابی کے پاس ایک گدھا تھا جسے وہ سواری کے لیے استعمال کرتے تھے اچانک مرگیا، وہ صحابی کھڑے ہوئے، اور دورکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا مانگی تو اللہ نے اسے زندہ کردیا؛ کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟
جواب:
جی ہاں، صحیح اور ثابت ہے.
امام بیھقی نے دلائل النبوۃ میں بسند صحیح ابوسبرہ نخعی سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں : یمن سے ایک شخص (آپ کا نام نباتہ بن یزید تھا) تشریف لائے، جب وہ راستہ میں تھے ان کی سواری (گدھا) ہلاک ہوگیی، چنانچہ اسی وقت وہ کھڑے ہوئے، وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر کہا : اے اللہ! میں تیری راہ میں تیری رضاجوئی کے لیے جہاد میں نکلا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے، اور جو قبروں میں ہیں انہیں تو دوبارہ زندہ کرے گا، آج کسی کا بار احسان مجھ پر نہ ڈال، میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ میرے گدھے کو زندہ کردے، چنانچہ وہ گدھا کان جھاڑتے ہوئے اٹھا(1)
بیھقی اور ابن ابی الدنیا نے دوسری سند سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جب وہ زندہ ہوگیا، تو صحابی نے اس پر زین کسی اور لگام لگائ، پھر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ کہا میرے ساتھ عجیب معاملہ ہوا وہ یہ کہ اللہ نے میری اس سواری کو مرنے کے دوبارہ زندہ کیا، شعبی فرماتے ہیں : میں نے اس گدھے کو کناسہ (کوفہ میں ایک مشہور مقام کا نام ہے) میں بکتے ہوئے دیکھا(2)
بیہقی ہی کے دوسرے طریق میں یہ بھی وارد ہواہے، کہ راوی قصہ (مسلم بن عبداللہ بن شریک نخعی) فرماتے ہیں: جب وہ بازار میں بیچ رہے تھے اس وقت کسی نے ان سے کہا: آپ اس دراز گوش کو بیچ رہے ہیں جس کو اللہ نے مرنے کے بعد زندہ کیا. تو انہوں نے کہا کہ کیا کروں؟ اس وقت ان کے خاندان کے ایک شخص نے تین اشعار کہے جن میں مجھے یہ شعر یاد ہے :
ومنا الذی أحیا الإله حمارہ
وقد مات منه كل عضو ومفصل (3)
ترجمہ: ہم میں کچھ ایسے ہیں خدا نے ان کے درازگوش کو زندہ کیا، جب کہ اس کا ہر عضو اور جوڑ مرچکا تھا.
فائده: صاحب قصہ نباتہ بن یزید النخعي صحابی تھے یا نہیں؟ غالب گمان یہ ہے کہ یہ صحابی ہوں گے، حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کو دوسری قسم کے تحت ذکر کیاہے، اور اس قسم میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو انحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں بچے تھے، اور سن شعور میں پہنچنے سے پہلے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دنیا سے پردہ فرماگئے، چونکہ صحابہ کی عام عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں تحنیک وتبریک وغیرہ کے لیے لایا کرتے تھے، جن سے ان کے صحابی ہونے کا گمان غالب ہوتا ہے (4) اس قسم کے لوگوں کی روایت مرسل کہلاتی ہے. (5)
____________________
(1) ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﺟﺎء ﻓﻲ اﻟﻤﺠﺎﻫﺪ ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﻠﻪ اﻟﺬﻱ ﺑﻌﺚ ﺣﻤﺎﺭﻩ ﺑﻌﺪ ﻣﺎ ﻧﻔﻖ.
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ: اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺑﺮﻫﺎﻥ، ﻭﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ اﻟﻘﻄﺎﻥ، ﻭﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺸﻜﺮﻱ، ﻗﺎﻟﻮا: ﺃﻧﺒﺄﻧﺎ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺼﻔﺎﺭ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﺮﻓﺔ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺇﺩﺭﻳﺲ، ﻋﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺧﺎﻟﺪ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﺒﺮﺓ اﻟﻨﺨﻌﻲ، ﻗﺎﻝ: ﺃﻗﺒﻞ ﺭﺟﻞ ﻣﻦ اﻟﻴﻤﻦ ﻓﻠﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺑﻌﺾ اﻟﻄﺮﻳﻖ ﻧﻔﻖ ﺣﻤﺎﺭﻩ، ﻓﻘﺎﻡ ﻓﺘﻮﺿﺄ ﺛﻢ ﺻﻠﻰ ﺭﻛﻌﺘﻴﻦ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻧﻲ ﺟﺌﺖ ﻣﻦ اﻟﺪﺛﻨﻴﺔ ﻣﺠﺎﻫﺪا ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻠﻚ ﻭاﺑﺘﻐﺎء ﻣﺮﺿﺎﺗﻚ، ﻭﺃﻧﺎ ﺃﺷﻬﺪ ﺃﻧﻚ ﺗﺤﻴﻲ اﻟﻤﻮﺗﻰ، ﻭﺗﺒﻌﺚ ﻣﻦ ﻓﻲ اﻟﻘﺒﻮﺭ، ﻻ ﺗﺠﻌﻞ ﻷﺣﺪ ﻋﻠﻲ اﻟﻴﻮﻡ ﻣﻨﺔ، ﺃﻃﻠﺐ ﺇﻟﻴﻚ ﺃﻥ ﺗﺒﻌﺚ ﻟﻲ ﺣﻤﺎﺭﻱ، ﻓﻘﺎﻡ اﻟﺤﻤﺎﺭ ﻳﻨﻔﺾ ﺃﺫﻧﻴﻪ
قال البیھقی : ﻫﺬا ﺇﺳﻨﺎﺩ ﺻﺤﻴﺢ، ﻭﻣﺜﻞ ﻫﺬا ﻳﻜﻮﻥ ﻛﺮاﻣﺔ ﻟﺼﺎﺣﺐ اﻟﺸﺮﻳﻌﺔ ﺣﻴﺚ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻲ ﺃﻣﺘﻪ ﻣﺜﻞ ﻫﺬا ﻛﻤﺎ ﻣﻀﻰ ﻓﻲ اﻟﺒﺎﺏ ﻗﺒﻠﻪ، ﻭﻗﺪ ﺭﻭاﻩ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ اﻟﺬﻫﻠﻲ ﻭﻏﻴﺮﻩ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ، ﻋﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ، ﻋﻦ اﻟﺸﻌﺒﻲ، ﻭﻛﺄﻧﻪ ﺳﻤﻌﻪ ﻣﻨﻬﻤﺎ._ [دلائل النبوة للبيهقي: 48/6)
(2) قال البيهقي في الدلائل :
أﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺑﺸﺮاﻥ ﺑﺒﻐﺪاﺩ، ﺃﻧﺒﺄﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺻﻔﻮاﻥ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ، ﻭﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺠﻴﺮ، ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ، ﻗﺎﻟﻮا: ﺃﻧﺒﺄﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ، ﻋﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺧﺎﻟﺪ، ﻋﻦ اﻟﺸﻌﺒﻲ: ﺃﻥ ﻗﻮﻣﺎ ﺃﻗﺒﻠﻮا ﻣﻦ اﻟﻴﻤﻦ ﻣﺘﻄﻮﻋﻴﻦ ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﻠﻪ، ﻓﻨﻔﻖ ﺣﻤﺎﺭ ﺭﺟﻞ ﻣﻨﻬﻢ، ﻓﺄﺭاﺩﻭﻩ ﺃﻥ ﻳﻨﻄﻠﻖ ﻣﻌﻬﻢ، ﻓﺄﺑﻰ، ﻓﻘﺎﻡ ﻓﺘﻮﺿﺄ، ﻭﺻﻠﻰ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ ﺇﻧﻲ ﺟﺌﺖ ﻣﻦ اﻟﺪﺛﻨﻴﺔ ﺃﻭ ﻗﺎﻝ اﻟﺪﻓﻴﻨﺔ ﻣﺠﺎﻫﺪا ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻠﻚ، ﻭاﺑﺘﻐﺎء ﻣﺮﺿﺎﺗﻚ، ﻭﺇﻧﻲ ﺃﺷﻬﺪ ﺃﻧﻚ ﺗﺤﻴﻲ اﻟﻤﻮﺗﻰ، ﻭﺗﺒﻌﺚ ﻣﻦ ﻓﻲ اﻟﻘﺒﻮﺭ، ﻻ ﺗﺠﻌﻞ ﻷﺣﺪ ﻋﻠﻲ ﻣﻨﺔ، ﻭﺇﻧﻲ ﺃﻃﻠﺐ ﺇﻟﻴﻚ ﺃﻥ ﺗﺒﻌﺚ ﻟﻲ ﺣﻤﺎﺭﻱ، ﺛﻢ ﻗﺎﻡ ﺇﻟﻰ اﻟﺤﻤﺎﺭ ﻓﻀﺮﺑﻪ ﻓﻘﺎﻡ اﻟﺤﻤﺎﺭ ﻳﻨﻔﺾ ﺃﺫﻧﻴﻪ، ﻓﺄﺳﺮﺟﻪ ﻭﺃﻟﺠﻤﻪ، ﺛﻢ ﺭﻛﺒﻪ، ﻓﺄﺟﺮاﻩ، ﻓﻠﺤﻖ ﺑﺄﺻﺤﺎﺑﻪ، ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻣﺎ ﺷﺄﻧﻚ؟ ﻗﺎﻝ، ﻣﺎ ﺷﺄﻧﻲ ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﺑﻌﺚ ﻟﻲ ﺣﻤﺎﺭﻱ. ﻗﺎﻝ اﻟﺸﻌﺒﻲ ﻓﺄﻧﺎ ﺭﺃﻳﺖ اﻟﺤﻤﺎﺭ ﺑﻴﻊ ﺃﻭ ﻳﺒﺎﻉ ﺑﺎﻟﻜﻨﺎﺳﺔ ﻣﻮﺿﻊ ﻣﺸﻬﻮﺭ ﺑﺎﻟﻜﻮﻓﺔ
...................................
____________________
(3) وروی البیھقي أیضا قال : ﻭﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ، ﺃﻧﺒﺄﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ، ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ اﻟﻌﺒﺎﺱ ﺑﻦ ﻫﺸﺎﻡ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﺟﺪﻩ، ﻋﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺷﺮﻳﻚ اﻟﻨﺨﻌﻲ: ﺃﻥ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﺤﻤﺎﺭ ﺭﺟﻞ ﻣﻦ اﻟﻨﺨﻊ، ﻳﻘﺎﻝ ﻟﻪ: ﻧﺒﺎﺗﺔ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ، ﺧﺮﺝ ﻓﻲ ﺯﻣﻦ ﻋﻤﺮ ﻏﺎﺯﻳﺎ، ﺣﺘﻰ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﺑﺴﺮ ﻋﻤﻴﺮﺓ ﻧﻔﻖ ﺣﻤﺎﺭﻩ، ﻓﺬﻛﺮ اﻟﻘﺼﺔ ﻏﻴﺮ ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: ﻓﺒﺎﻋﻪ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻟﻜﻨﺎﺳﺔ، ﻓﻘﻴﻞ ﻟﻪ: ﺗﺒﻴﻊ ﺣﻤﺎﺭا ﺃﺣﻴﺎﻩ اﻟﻠﻪ ﻟﻚ! ﻗﺎﻝ: ﻓﻜﻴﻒ ﺃﺻﻨﻊ؟ ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺟﻞ ﻣﻦ ﺭﻫﻄﻪ ﺛﻼﺛﺔ ﺃﺑﻴﺎﺕ، ﻓﺤﻔﻈﺖ ﻫﺬا اﻟﺒﻴﺖ:
ﻭﻣﻨﺎ اﻟﺬﻱ ﺃﺣﻴﺎ اﻹﻟﻪ ﺣﻤﺎﺭه
ﻭﻗﺪ ﻣﺎﺕ ﻣﻨﻪ ﻛﻞ ﻋﻀﻮ ﻭﻣﻔﺼﻞ _
(دلائل النبوة49/6)
وذكر هذه القصة الامام ابن كثير في البداية والنهاية (170/6) والجلال السيوطي فی الخصائص الكبرى (114/2) معزوة للبيهقي وأورده الحافظ ابن حجر في القسم الثاني من الإصابة (386/6) وعزاه لابي بكر بن دريد في الأخبار المنثورة.
في ترجمة نباتة وقال : أدرك النبي صلى الله عليه وسلم، وغزا في خلافة عمر.
4/ قال الحافظ ابن حجر فی مقدمة الإصابة : اﻟﻘﺴﻢ اﻟﺜﺎﻧﻲ: ﻣﻦ ﺫﻛﺮ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻣﻦ اﻷﻃﻔﺎﻝ اﻟﺬﻳﻦ ﻭﻟﺪﻭا ﻓﻲ ﻋﻬﺪ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﺒﻌﺾ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ [ (6) ] ﻣﻦ اﻟﻨﺴﺎء ﻭاﻟﺮﺟﺎﻝ، ﻣﻤﻦ ﻣﺎﺕ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ ﺩﻭﻥ ﺳﻦ اﻟﺘﻤﻴﻴﺰ، ﺇﺫ ﺫﻛﺮ ﺃﻭﻟﺌﻚ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﻋﻠﻰ ﺳﺒﻴﻞ اﻹﻟﺤﺎﻕ، ﻟﻐﻠﺒﺔ اﻟﻈﻦ ﻋﻠﻰ ﺃﻧﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺭﺁﻫﻢ ﻟﺘﻮﻓﺮ [ (7) ] ﺩﻭاﻋﻲ ﺃﺻﺤﺎﺑﻪ ﻋﻠﻰ ﺇﺣﻀﺎﺭﻫﻢ ﺃﻭﻻﺩﻫﻢ ﻋﻨﺪﻩ ﻋﻨﺪ ﻭﻻﺩﺗﻬﻢ ﻟﻴﺤﻨﻜﻬﻢ ﻭﻳﺴﻤﻴﻬﻢ ﻭﻳﺒﺮﻙ ﻋﻠﻴﻬﻢ، ﻭاﻷﺧﺒﺎﺭ ﺑﺬﻟﻚ ﻛﺜﻴﺮﺓ ﺷﻬﻴﺮﺓ
(الإصابة في تمييز الصحابة 156/1)
(5) وقال--الحافظ--: ﻟﻜﻦ ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻫﺆﻻء ﻋﻨﻪ ﻣﻦ ﻗﺒﻴﻞ اﻟﻤﺮاﺳﻴﻞ ﻋﻨﺪ اﻟﻤﺤﻘﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺑﺎﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻭﻟﺬﻟﻚ ﺃﻓﺮﺩﺗﻬﻢ ﻋﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻘﺴﻢ اﻷﻭﻝ. (الإصابة:156/1)
-------------------------------------------------
https://telegram.me/ganjinaeilm
.