8484800418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

05

Apr

نماز کی برکت سے مردہ گدھے کے زندہ ہونے کا واقعہ: ایک تحقیقی مطالعہ

 

 

سوال :

 ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک صحابی کے پاس ایک گدھا تھا جسے وہ سواری کے لیے استعمال کرتے تھے اچانک مرگیا، وہ صحابی کھڑے ہوئے، اور دورکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالٰی سے دعا مانگی تو اللہ نے اسے زندہ کردیا؛  کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟

جواب:

جی ہاں،  صحیح اور ثابت ہے.

امام بیھقی نے دلائل النبوۃ میں بسند صحیح ابوسبرہ نخعی سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں : یمن سے ایک شخص (آپ کا نام نباتہ بن یزید تھا)  تشریف لائے، جب وہ راستہ میں تھے ان کی سواری (گدھا)  ہلاک ہوگیی، چنانچہ اسی وقت وہ کھڑے ہوئے، وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر کہا : اے اللہ!  میں تیری راہ میں تیری رضاجوئی کے لیے جہاد میں نکلا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے، اور جو قبروں میں ہیں انہیں تو دوبارہ زندہ کرے گا، آج کسی کا بار احسان مجھ پر نہ ڈال، میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ میرے گدھے کو زندہ کردے، چنانچہ وہ گدھا کان جھاڑتے ہوئے اٹھا(1)

بیھقی اور ابن ابی الدنیا نے دوسری سند سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جب وہ زندہ ہوگیا، تو صحابی نے اس پر زین کسی اور لگام لگائ، پھر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟  کہا میرے ساتھ عجیب معاملہ ہوا وہ  یہ  کہ اللہ نے میری اس سواری کو مرنے کے دوبارہ زندہ کیا، شعبی  فرماتے ہیں :  میں نے اس گدھے کو کناسہ (کوفہ میں ایک مشہور مقام کا نام ہے)  میں بکتے ہوئے دیکھا(2)

بیہقی ہی کے دوسرے طریق میں یہ بھی وارد ہواہے، کہ راوی قصہ (مسلم بن عبداللہ بن شریک نخعی)  فرماتے ہیں: جب وہ بازار میں بیچ رہے تھے اس وقت کسی نے ان سے کہا: آپ اس دراز گوش کو بیچ رہے ہیں جس کو اللہ نے مرنے کے بعد زندہ کیا. تو انہوں نے کہا کہ کیا کروں؟  اس وقت ان  کے خاندان کے ایک شخص نے تین اشعار کہے جن میں مجھے یہ شعر یاد ہے :

ومنا                             الذی                      أحیا   الإله   حمارہ

وقد مات منه كل عضو ومفصل (3)

ترجمہ: ہم میں کچھ ایسے ہیں خدا نے ان کے درازگوش کو زندہ کیا، جب کہ اس کا ہر عضو اور جوڑ مرچکا تھا.

فائده: صاحب قصہ نباتہ بن یزید النخعي صحابی تھے یا نہیں؟  غالب گمان یہ ہے کہ یہ صحابی ہوں گے، حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کو دوسری قسم کے تحت ذکر کیاہے، اور اس قسم میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو انحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں بچے تھے، اور سن شعور میں پہنچنے سے پہلے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دنیا سے پردہ فرماگئے، چونکہ صحابہ کی عام عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں تحنیک وتبریک وغیرہ کے لیے لایا کرتے تھے، جن سے ان کے صحابی ہونے کا گمان غالب ہوتا ہے (4)  اس  قسم کے لوگوں کی روایت  مرسل کہلاتی ہے.  (5)

____________________

(1)   ﺑﺎ ﻣﺎ ﺟﺎء ﻓﻲ اﻟﻤﺠﺎﻫﺪ ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﻠﻪ اﻟﺬ ﺑﻌﺚ ﺣﻤﺎﺭﻩ ﺑﻌﺪ ﻣﺎ ﻧﻔﻖ.

 ﺧﺒﺮﻧﺎ ﺑﻮ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ: اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺑﺮﻫﺎ، ﻭﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ اﻟﻘﻄﺎ، ﻭﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺸﻜﺮ، ﻗﺎﻟﻮا: ﻧﺒﺄﻧﺎ ﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺼﻔﺎ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﺮﻓﺔ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺇﺩﺭﻳﺲ، ﻋﻦ ﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺑﻲ ﺧﺎﻟﺪ، ﻋﻦ ﺑﻲ ﺳﺒﺮ اﻟﻨﺨﻌﻲ، ﻗﺎ: ﻗﺒﻞ ﺟﻞ ﻣﻦ اﻟﻴﻤﻦ ﻓﻠﻤﺎ ﻛﺎ ﻓﻲ ﺑﻌﺾ اﻟﻄﺮﻳﻖ ﻧﻔﻖ ﺣﻤﺎﺭﻩ، ﻓﻘﺎ ﻓﺘﻮﺿﺄ ﺛﻢ ﺻﻠﻰ ﻛﻌﺘﻴﻦ، ﺛﻢ ﻗﺎ: اﻟﻠﻬﻢ ﻧﻲ ﺟﺌﺖ ﻣﻦ اﻟﺪﺛﻨﻴﺔ  ﻣﺠﺎﻫﺪا ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻠﻚ اﺑﺘﻐﺎء ﻣﺮﺿﺎﺗﻚ، ﻭﺃﻧﺎ ﺷﻬﺪ ﻧﻚ ﺗﺤﻴﻲ اﻟﻤﻮﺗﻰ، ﺗﺒﻌﺚ ﻣﻦ ﻓﻲ اﻟﻘﺒﻮ، ﻻ ﺗﺠﻌﻞ ﻷﺣﺪ ﻋﻠﻲ اﻟﻴﻮ ﻣﻨﺔ، ﻃﻠﺐ ﻟﻴﻚ ﺃﻥ ﺗﺒﻌﺚ ﻟﻲ ﺣﻤﺎﺭﻱ، ﻓﻘﺎ اﻟﺤﻤﺎ ﻳﻨﻔﺾ ﺃﺫﻧﻴﻪ

قال البیھقی : ﻫﺬا ﺳﻨﺎ ﺻﺤﻴﺢ، ﻣﺜﻞ ﻫﺬا ﻳﻜﻮ ﻛﺮاﻣﺔ ﻟﺼﺎﺣﺐ اﻟﺸﺮﻳﻌﺔ ﺣﻴﺚ ﻳﻜﻮ ﻓﻲ ﻣﺘﻪ ﻣﺜﻞ ﻫﺬا ﻛﻤﺎ ﻣﻀﻰ ﻓﻲ اﻟﺒﺎ ﻗﺒﻠﻪ،  ﻗﺪ ﺭﻭا ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ اﻟﺬﻫﻠﻲ ﻏﻴﺮ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ، ﻋﻦ ﺳﻤﺎﻋﻴﻞ، ﻋﻦ اﻟﺸﻌﺒﻲ، ﻛﺄﻧﻪ ﺳﻤﻌﻪ ﻣﻨﻬﻤﺎ._ [دلائل النبوة للبيهقي: 48/6)

(2)  قال البيهقي في الدلائل :

أﺧﺒﺮﻧﺎ ﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺑﺸﺮا ﺑﺒﻐﺪا، ﻧﺒﺄﻧﺎ ﺑﻮ ﻋﻠﻲ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺻﻔﻮا، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﺑﻦ ﺑﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﺤﺎ ﺑﻦ ﺳﻤﺎﻋﻴﻞ، ﻭﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺑﺠﻴﺮ، ﻏﻴﺮﻫﻤﺎ، ﻗﺎﻟﻮا: ﻧﺒﺄﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ، ﻋﻦ ﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺑﻲ ﺧﺎﻟﺪ، ﻋﻦ اﻟﺸﻌﺒﻲ: ﺃﻥ ﻗﻮﻣﺎ ﻗﺒﻠﻮا ﻣﻦ اﻟﻴﻤﻦ ﻣﺘﻄﻮﻋﻴﻦ ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﻠﻪ، ﻓﻨﻔﻖ ﺣﻤﺎ ﺟﻞ ﻣﻨﻬﻢ، ﻓﺄاﺩﻭﻩ ﺃﻥ ﻳﻨﻄﻠﻖ ﻣﻌﻬﻢ، ﻓﺄﺑﻰ، ﻓﻘﺎ ﻓﺘﻮﺿﺄ، ﺻﻠﻰ، ﺛﻢ ﻗﺎ: اﻟﻠﻬﻢ ﻧﻲ ﺟﺌﺖ ﻣﻦ اﻟﺪﺛﻨﻴﺔ ﺃﻭ ﻗﺎ اﻟﺪﻓﻴﻨﺔ ﻣﺠﺎﻫﺪا ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻠﻚ، اﺑﺘﻐﺎء ﻣﺮﺿﺎﺗﻚ، ﻭﺇﻧﻲ ﺷﻬﺪ ﻧﻚ ﺗﺤﻴﻲ اﻟﻤﻮﺗﻰ، ﺗﺒﻌﺚ ﻣﻦ ﻓﻲ اﻟﻘﺒﻮ، ﻻ ﺗﺠﻌﻞ ﻷﺣﺪ ﻋﻠﻲ ﻣﻨﺔ، ﻭﺇﻧﻲ ﻃﻠﺐ ﻟﻴﻚ ﺃﻥ ﺗﺒﻌﺚ ﻟﻲ ﺣﻤﺎﺭﻱ، ﺛﻢ ﻗﺎ ﻟﻰ اﻟﺤﻤﺎ ﻓﻀﺮﺑﻪ ﻓﻘﺎ اﻟﺤﻤﺎ ﻳﻨﻔﺾ ﺃﺫﻧﻴﻪ، ﻓﺄﺳﺮﺟﻪ ﻭﺃﻟﺠﻤﻪ، ﺛﻢ ﻛﺒﻪ، ﻓﺄﺟﺮا، ﻓﻠﺤﻖ ﺑﺄﺻﺤﺎﺑﻪ، ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻣﺎ ﺷﺄﻧﻚ؟ ﻗﺎ، ﻣﺎ ﺷﺄﻧﻲ ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﺑﻌﺚ ﻟﻲ ﺣﻤﺎﺭﻱ. ﻗﺎ اﻟﺸﻌﺒﻲ ﻓﺄﻧﺎ ﺭﺃﻳﺖ اﻟﺤﻤﺎ ﺑﻴﻊ ﺃﻭ ﻳﺒﺎ ﺑﺎﻟﻜﻨﺎﺳﺔ ﻣﻮﺿﻊ ﻣﺸﻬﻮ ﺑﺎﻟﻜﻮﻓﺔ

...................................

____________________

 

(3) وروی البیھقي   أیضا قال :  ﻭﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ، ﻧﺒﺄﻧﺎ ﺑﻮ ﻋﻠﻲ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺑﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ، ﺧﺒﺮﻧﻲ اﻟﻌﺒﺎ ﺑﻦ ﻫﺸﺎ، ﻋﻦ ﺑﻴﻪ، ﻋﻦ ﺟﺪ، ﻋﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺷﺮﻳﻚ اﻟﻨﺨﻌﻲ: ﺃﻥ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﺤﻤﺎ ﺟﻞ ﻣﻦ اﻟﻨﺨﻊ، ﻳﻘﺎ ﻟﻪ: ﻧﺒﺎﺗﺔ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ، ﺧﺮ ﻓﻲ ﻣﻦ ﻋﻤﺮ ﻏﺎﻳﺎ، ﺣﺘﻰ ﺇﺫا ﻛﺎ ﺑﺴﺮ ﻋﻤﻴﺮ ﻧﻔﻖ ﺣﻤﺎﺭﻩ، ﻓﺬﻛﺮ اﻟﻘﺼﺔ ﻏﻴﺮ ﻧﻪ ﻗﺎ: ﻓﺒﺎﻋﻪ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻟﻜﻨﺎﺳﺔ، ﻓﻘﻴﻞ ﻟﻪ: ﺗﺒﻴﻊ ﺣﻤﺎا ﺣﻴﺎ اﻟﻠﻪ ﻟﻚ! ﻗﺎ: ﻓﻜﻴﻒ ﺻﻨﻊ؟ ﻓﻘﺎ ﺟﻞ ﻣﻦ ﻫﻄﻪ ﺛﻼﺛﺔ ﺑﻴﺎ، ﻓﺤﻔﻈﺖ ﻫﺬا اﻟﺒﻴﺖ:

ﻣﻨﺎ    اﻟﺬ ﺣﻴﺎ  اﻹﻟﻪ  ﺣﻤﺎه

ﻗﺪ ﻣﺎ ﻣﻨﻪ ﻛﻞ ﻋﻀﻮ ﻣﻔﺼﻞ  _

 (دلائل النبوة49/6)

وذكر هذه القصة الامام ابن كثير  في البداية والنهاية (170/6) والجلال السيوطي فی   الخصائص الكبرى (114/2) معزوة للبيهقي وأورده الحافظ ابن حجر في القسم الثاني من  الإصابة (386/6) وعزاه لابي بكر بن دريد في الأخبار المنثورة.

في ترجمة نباتة وقال : أدرك النبي صلى الله عليه وسلم، وغزا في خلافة عمر.

4/ قال الحافظ ابن حجر فی مقدمة الإصابة : اﻟﻘﺴﻢ اﻟﺜﺎﻧﻲ: ﻣﻦ ﻛﺮ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻣﻦ اﻷﻃﻔﺎ اﻟﺬﻳﻦ ﻟﺪا ﻓﻲ ﻋﻬﺪ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺳﻠﻢ ﻟﺒﻌﺾ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ [ (6) ] ﻣﻦ اﻟﻨﺴﺎء اﻟﺮﺟﺎ، ﻣﻤﻦ ﻣﺎ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺳﻠﻢ ﻫﻮ ﻓﻲ ﺩﻭﻥ ﺳﻦ اﻟﺘﻤﻴﻴﺰ، ﺇﺫ ﻛﺮ ﺃﻭﻟﺌﻚ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﻋﻠﻰ ﺳﺒﻴﻞ اﻹﻟﺤﺎ، ﻟﻐﻠﺒﺔ اﻟﻈﻦ ﻋﻠﻰ ﻧﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﺳﻠﻢ ﺭﺁﻫﻢ ﻟﺘﻮﻓﺮ [ (7) ] ﺩﻭاﻋﻲ ﺻﺤﺎﺑﻪ ﻋﻠﻰ ﺣﻀﺎﻫﻢ ﺃﻭﻫﻢ ﻋﻨﺪ ﻋﻨﺪ ﺗﻬﻢ ﻟﻴﺤﻨﻜﻬﻢ ﻳﺴﻤﻴﻬﻢ ﻳﺒﺮ ﻋﻠﻴﻬﻢ، اﻷﺧﺒﺎ ﺑﺬﻟﻚ ﻛﺜﻴﺮ ﺷﻬﻴﺮ

(الإصابة في تمييز الصحابة 156/1)

(5)  وقال--الحافظ--: ﻟﻜﻦ ﺣﺎﻳﺚ ﻫﺆﻻء ﻋﻨﻪ ﻣﻦ ﻗﺒﻴﻞ اﻟﻤﺮاﺳﻴﻞ ﻋﻨﺪ اﻟﻤﺤﻘﻘﻴﻦ ﻣﻦ ﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺑﺎﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻟﺬﻟﻚ ﻓﺮﺗﻬﻢ ﻋﻦ ﻫﻞ اﻟﻘﺴﻢ اﻷﻭﻝ.  (الإصابة:156/1)

-------------------------------------------------

https://telegram.me/ganjinaeilm

 

.

Share This Blog