+91 84848 00418

islamstudy@gmail.com

Blog Image

05

Jul

تیمم، مسح علی الخفین اور مسح علی الجبیرہ کا بیان

تیمم کا بیان

تیمم کے لغوی معنی : ارادہ کرنا۔

تیمم کے اصطلاحی معنی: پاک مٹی یا جنسِ ارض میں سے کسی چیز کے ساتھ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت نیت کے ساتھ مسح کرنا۔

 

نیت تیمم:

تیمم سے کوئی بھی عبادت  بجالانے کے لیے درج ذیل تین امور میں سے کسی ایک کی نیت ضروری ہے:

  • طہارت کی نیت۔
  • نماز کو جائز کرنے (استباحۂ نماز) کی نیت۔
  • ایسی مستقل عبادت کی نیت جو طہارت کے بغیر صحیح نہ ہو۔

لہٰذا صرف "میں تیمم کرتا ہوں" کی نیت کافی نہیں، اور نہ ہی ایسی عبادت کی نیت کافی ہے جس کے لیے طہارت شرط نہ ہو۔یعنی ان سے نماز ادا نہیں کرسکتا ہے۔

حدث اصغر اور جنابت کی نیت کی تعیین کی ضرورت نہیں ہے، پس اگر کوئی حدث اصغر کی نیت سے تیمم کرے تو حدث اکبر کے لیے بھی کافی ہوجائےگا، وکذا العکس۔

 

تفریعات

  • پاک مٹی، ریت، پتھر، اینٹ، چونا، گچ اور دیگر اجناسِ ارض سے تیمم جائز ہے۔
  • سونا، چاندی، لوہا، تانبا، شیشہ، لکڑی، کپڑا اور دیگر غیر ارضی اشیاء سے تیمم جائز نہیں۔
  • چہرے یا دونوں ہاتھوں میں سے کسی ایک عضو کا مسح چھوڑ دینے سے تیمم صحیح نہیں ہوتا۔
  • کہنیوں کا مسح چھوڑ دینے سے تیمم صحیح نہیں ہوتا۔
  • ایک ہی تیمم سے فرض، واجب، نفل، تلاوتِ قرآن، مسجد میں داخلہ اور دیگر وہ تمام عبادات ادا کی جاسکتی ہیں جن کے لیے طہارت شرط ہے۔
  • مطلق طہارت کی نیت سے کیے گئے تیمم سے کوئی بھی عبادت ادا کی جاسکتی ہے۔
  • نماز کو جائز کرنے (استباحۂ نماز) کی نیت سے کیا گیے تیمم سے نماز سمیت کوئی بھی عبادت بجالائی جاسکتی ہے۔
  • نماز، نمازِ جنازہ، سجدۂ تلاوت یا جنابت کی حالت میں تلاوتِ قرآن کی نیت سے کیے گئے تیمم سے نماز ادا کی جاسکتی ہے،  مگر پاکی کی حالت میں ان کی نیت سے کیے گئے تیمم سے نماز ادا نہیں کی جاسکتی ہے۔
  • صرف "میں تیمم کرتا ہوں" کی نیت سے کیے گیے تیمم سے نماز صحیح نہیں ہوتی ۔
  • حدثِ اصغر والا شخص اگر صرف تلاوتِ قرآن کی نیت سے تیمم کرے تو اس سے نماز ادا نہیں کرسکتا؛ کیونکہ اس کے لیے بغیر تیمم بھی تلاوت جائز ہے۔
  • جنبی اگر تلاوتِ قرآن کی نیت سے تیمم کرے تو اس سے نماز بھی ادا کرسکتا ہے۔
  • حائضہ یا نفساء عورت اگر پاک ہونے کے بعد تلاوتِ قرآن کی نیت سے تیمم کرے تو اس تیمم سے نماز پڑھ سکتی ہے۔
  • صرف مصحف کو چھونے، مسجد میں داخل ہونے، قبروں کی زیارت، اذان، اقامت، سلام یا سلام کے جواب کی نیت سے کیا گیا تیمم، اصح قول کے مطابق نماز کے لیے کافی نہیں۔
  • اسلام قبول کرنے کی نیت سے کیا گیا تیمم، امام ابو یوسفؒ کے نزدیک نماز کے لیے بھی کافی ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک (اور یہی مفتیٰ بہ قول ہے) کافی نہیں[1]۔

شرائطِ تیمم

۱۔ نیت: اس کی تفصیل اوپر آچکی ہے۔

۲۔ تیمم کے لیے عذرِ مُبیح کا پایا جانا(پانی کے استعمال سے عاجز ہو) : اس کی متعدد صورتیں ہیں:

  • پانی تقریباً ایک میل (چار ہزار ہاتھ) کے فاصلے پر ہو۔
  • ایسا مرض ہو کہ پانی استعمال کرنے سے بیماری بڑھنے یا دیر سے اچھا ہونے کا غالب گمان ہو، یا کسی ماہر مسلمان طبیب کی رائے یہی ہو۔
  • ایسی شدید سردی ہو کہ پانی استعمال کرنے سے ہلاکت یا بیماری کا اندیشہ ہو، اور پانی گرم کرنے یا حمام وغیرہ کی قدرت نہ ہو۔
  • دشمن، درندے، آگ، ظالم یا قرض خواہ وغیرہ کا ایسا خوف ہو کہ پانی تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔
  • پانی صرف پینے کے لیے بقدرِ ضرورت موجود ہو، خواہ اپنی، کسی دوسرے انسان، یا جانور کی ضرورت کے لیے ہو۔
  • پانی وضو یا غسل کے لیے ناکافی ہو۔
  • پانی نکالنے کا کوئی ذریعہ موجود نہ ہو، جیسے ڈول، رسی یا کوئی پاک آلہ نہ ملے، اور اس کے بغیر پانی حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔
  • پانی ثمن مثل سے زائد قیمت پر مل رہا ہو، اگر پانی بازاری قیمت پر دستیاب ہو تو تیمم جائز نہیں ہے۔
  • وضو کرنے کی صورت میں عید کی  نماز کے فوت ہوجانے کا ڈر، یا غیر ولی کے لیے جنازے کے فوت ہونے کا ڈر کیوں کہ ان کا بدل نہیں ہے،اور اگر جمعہ کی نماز کے فوت ہونے کا ڈر ہو تو تیمم نہیں کرسکتے کیوں کہ ظہر اس کا بدل ہے۔

۳۔ پورے ہاتھ  یا ان کے اکثر حصے سے مسح کرنا: یعنی کم از کم تین انگلیوں سے مسح کیا جائے۔

۴۔ تیمم جنسِ ارض سے ہونا: لہٰذا لکڑی، لوہا، کپڑا اور ان جیسی غیر ارضی اشیاء سے تیمم درست نہیں، البتہ اگر ان پر اتنی گرد ہو جس سے تیمم ہوسکے تو درست ہے۔

۵۔ حیض و نفاس جیسے منافیِ تیمم کا نہ پایا جانا: یعنی ایسی حالت نہ ہو جو اصلِ طہارت ہی کو مانع ہو۔

۶۔ اعضائے تیمم پر کسی مانع چیز کا نہ ہونا: مثلاً موم، چکنائی، رنگ یا ایسی تہہ جو مٹی کو جلد پر مسح سے مانع ہو[2]۔

تیمم کے ارکان:

    • دو ضرب یا ان کا قائم مقام: ایک ضرب یعنی ہاتھ مٹی پر مار کر چہرہ کا مسح کرنا ، دوسرے  ضرب سے پورے ہاتھ کا کہنیوں سے مسح کرنا، اگر ان مقامات پر خود سے مٹی لگ گئی ہو اور تیمم کی نیت سے ہاتھ پھیرلے تو بھی جائز ہوگا۔ 
    • استیعاب: اعضائے مسح پر اس طرح مسح کرنا کہ بال برابر بھی جگہ باقی نہ رہے[3]۔

 

تیمم کا طریقہ: نیت کے بعد دونوں ہاتھ پاک مٹی یا جنسِ ارض پر مار کر انہیں آگے پیچھے پھیرے، پھر زائد گرد جھاڑ کر پورے چہرے کا مسح کرے۔ اس کے بعد دوبارہ دونوں ہاتھ اسی طرح زمین پر مار کر آگے پیچھے پھیرے اور زائد گرد جھاڑ لے، پھر بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا انگلیوں کے سروں سے کہنیوں سمیت مسح کرلے۔اور  انگلیوں کے درمیان بھی  خلال  کرے[4]۔

 

ضابطہ: ہر وہ چیز جوجلانے سے نہ جلے پگھلانے سے نہ پگھلے وہ جنس ارض سے ہے اس پر تیمم جائز ہے۔اور جو چیز جلانے سے جل جائے یا پگھلانے سے پگھل جائے ان پر تیمم جائز نہیں ، الا یہ کہ اس پر غبار ہو۔

پس مٹی، ریت، غبار چونا، گچ، سرمہ، گندھک، فیروز، عقیق، زمرد، یاقو ت وغیرہ پتھر کی اقسام اسی طرح مٹی  سے بنی ہوئی اشیا جیسے مٹی کے برتن اور پکی اینٹ پر، نیزان چیزوں کی راکھ پر تیمم جائز ہے، اسی طرح فرش، ٹائل، سیمنٹ کی پختہ دیوار پر بھی تیمم جائز ہے۔

اور لوہا، تانبا،پیتل، سونا، چاندی ، لکڑی، اور ان کے کوئلے اور راکھ پر جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر ان پر غبار ہو تو جائز ہے[5]۔

 

ضابطہ: جس نماز کا کوئی بدل نہیں ہے اس کے فوت ہونے کےاندیشہ سے تیمم جائز ہے، اور جس نماز کا کوئی بدل ہے اس کے فوت ہونے کے اندیشہ سے تیمم جائز  نہیں ہے۔

پس  پنج وقتہ نماز کے فوت ہونے کے ڈر سے تیمم جائز نہیں، اسی طرح جمعہ کے لیے بھی جائز نہیں ہے کیوں کہ ظہر اس کا بدل ہے۔ البتہ عیدین اور نمازجنازہ غیرولی کا رہ گیا ہو تو اس کے لیے تیمم جائز ہے، ولی کے لیے اس لیے جائز نہیں ہے کہ ولی دوبارہ اس پر جنازہ پڑھ سکتا ہے[6]۔

 

ضابطہ: اگر تیمم کا عذر بندوں کی طرف سے پیدا ہوا ہو تو تیمم کرکے نماز ادا کی جائے گی، مگر عذر ختم ہونے کے بعد اس نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ اور اگر عذر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو تیمم سے ادا کی گئی نماز کا اعادہ نہیں ہوگا۔

تفریعات

  • اگر دشمن کسی قیدی کو وضو نہ کرنے دے تو وہ تیمم کرکے نماز ادا کرے، پھر رہائی کے بعد اس نماز کا اعادہ کرے۔
  • اگر دشمن وضو کے ساتھ نماز سے بھی روک دے تو وہ تیمم کرکے اشارے سے نماز ادا کرے، پھر رہائی کے بعد اعادہ کرے۔
  • اگر کسی شخص کو دھمکی دی جائے کہ وضو کرنے پر قتل یا قید کردیا جائے گا تو وہ تیمم کرکے نماز ادا کرے، پھر بعد میں اعادہ کرے۔
  • شہر میں قید شخص پانی تک نہ پہنچ سکے تو تیمم کرکے نماز ادا کرے، پھر رہائی کے بعد وضو سے اعادہ کرے۔
  • اگر یہی قید سفر کے دوران ہو تو تیمم کرکے نماز ادا کرے اور اعادہ نہ کرے؛ کیونکہ یہاں سفر کا عذر بھی موجود ہے۔
  • اگر بیماری یا اس جیسے شرعی عذر کی وجہ سے تیمم کیا ہو تو نماز کا اعادہ نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ عذر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
  • اگر عورت اجنبی مردوں کی موجودگی کی وجہ سے وضو یا غسل نہ کرسکے تو تیمم کرکے نماز ادا کرے، اور ظاہرِ مذہب کے مطابق اس پر اعادہ نہیں ہے(کیوں کہ ستر مانع شرعی ہے)۔
  • اسی طرح اگر مرد ایسی حالت میں ہو کہ ستر کھولنے میں شرعی ممانعت ہو تو تیمم کرکے نماز ادا کرے، اور ظاہرِ مذہب کے مطابق اعادہ نہیں کرے گا۔
  • اگر اجیر (ملازم) کو مالک پانی لینے کی اجازت نہ دے، حالانکہ پانی نصف میل کے اندر موجود ہو، تو وہ تیمم کرکے نماز ادا کرے، پھر بعد میں اس نماز کا اعادہ کرے[7]۔

 

 

 

 

خفین پر مسح کا بیان

تعریف مسح علی الخفین:وضو کی حالت میں پہنے گئے مخصوص خفین کے اوپر مقررہ مدت کے اندر ہر پاؤں کے خف کے اوپری حصے پر کم از کم تین انگلیوں کے بقدر مسح کرنا ۔

فوائد  قیود:

  • مخصوص خفین سے مراد ایسے خف ہیں جن میں مسلسل ایک فرسخ چلناممکن ہو، پیروں پر بغیر باندھے خود بخود رکے ہوں،اندر پانی پہنچنے سے مانع ہوں، ٹخنوں کو چھپائے ہوں،  پیر کی تین انگلیوں کے بقدر شگاف نہ ہو ۔
  • مقررہ مدت سے مراد مقیم کے لیے ایک دن ایک رات اور مسافر کے لیے تین دن تین راتیں ہیں، مدت کی ابتداء حدث کے وقت سے ہوگی ،پہننے کے وقت سے نہیں۔

شرائطِ مسح علی الخفین

۱۔ خف طہارت کے بعد پہنے گئے ہوں۔

پس اگر وضو مکمل ہونے سے پہلے حدث واقع ہوگیا تو مسح جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر دونوں پاؤں دھونے کے بعد خف پہن لیے اور وضو مکمل کر لیا تو مسح جائز ہوگا۔

۲۔ خف ٹخنوں سمیت پورے محلِ فرض کو ڈھانپتے ہوں۔

پس اگر ٹخنے کھلے ہوں یا اتنا حصہ کھلا ہو جو مانعِ مسح خرق(تین انگلیوں) کے برابر ہو تو مسح جائز نہیں ہوگا۔

۳۔ ہر خف میں تین انگلیوں کے برابر یا اس سے زیادہ شگاف نہ ہو۔

پس اگر شگاف تین چھوٹی انگلیوں کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو مسح جائز نہیں ہوگا۔اگر مختلف مقامات پر شگاف ہو تو سب کو اکٹھا کر کے دیکھا جائے گا، اگر وہ تین انگلیوں کے برابر پہونچ جائیں تو مسح جائز نہیں ہوگا۔

۴۔ خف پاؤں پر بغیر باندھے خود قائم رہتے ہوں۔

پس اگر انہیں باندھے بغیر پہننا ممکن نہ ہو تو ان پر مسح جائز نہیں ہوگا۔

۵۔ خف ایسے ہوں جن میں عام چال کے مطابق کم از کم ایک فرسخ(تقریبا ساڑھے پانچ کلو میٹر[8])  چلنا ممکن ہو۔

پس اون، سوت کے موزوں پر مسح جائز نہیں ہوگا۔

۶۔ خف پانی کو پاؤں تک پہنچنے سے روکتے ہوں۔

پس اگر پانی آسانی سے اندر پہنچ جاتا ہو تو ان پر مسح جائز نہیں ہوگا۔

۷۔ قدم کے اگلے حصے میں کم از کم تین انگلیوں کے برابر حصہ موجود ہو۔

پس اگر قدم کا اگلا حصہ اتنا باقی نہ ہو تو اس خف پر مسح جائز نہیں ہوگا، اگرچہ ایڑی موجود ہو۔

 

فوائد  قیود

  • خف کا چرم (چمڑا) ہونا ضروری نہیں، بلکہ ہر وہ چیز جس سے شرائط پوری ہوں کافی ہے۔
  • خف کا اوپر سے کھلا ہونا مضر نہیں، جب تک پاؤں اپنی جگہ پر قائم رہے۔
  • تیمم کی طہارت پر پہنے گئے خف پر مسح جائز نہیں۔
  • مسح صرف حدثِ اصغر والے شخص کے لیے مشروع ہے۔
  • جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت مسح نہیں کرسکتے، بلکہ غسل لازم ہوگا۔

 

مدتِ مسح

  • مقیم: ایک دن اور ایک رات (۲۴ گھنٹے)۔
  • مسافر: تین دن اور تین راتیں (۷۲ گھنٹے)۔
  • مدت کا آغاز خف پہننے کے بعد پہلے حدث سے ہوگا۔
  • اگر مقیم مدت پوری ہونے سے پہلے سفر پر نکل جائے تو مسافر کی مدت پوری کرے گا۔
  • اگر مسافر ایک دن ایک رات گزرنے کے بعد مقیم ہوجائے تو خف اتار کر پاؤں دھونا لازم ہوگا، اور اگر اس سے پہلے مقیم ہوا تو مقیم کی مدت پوری کرے گا۔

رکنِ مسح

رکن: ہر خف کے اوپری حصے پر کم از کم تین انگلیوں کے برابر مسح کرنا۔

فوائد  قیود:

  • مسح خف کے ظاہری (اوپری) حصے پر ہوگا۔
  • ہر پاؤں میں کم از کم تین انگلیوں کے برابر مقدار کا مسح فرض ہے۔

 

نواقضِ مسح علی الخفین

ضابطہ:ہر وہ چیز جو وضو کو توڑ دے یا خف پر مسح کی شرط کو ختم کر دے، اس سے مسح بھی باطل ہوجاتا ہے۔

تشریح:مسح علی الخفین کی بقا دو چیزوں پر موقوف ہے: ایک طہارت کا باقی رہنا، دوسرے خف کی وہ حالت برقرار رہنا جس کی وجہ سے مسح جائز ہوا تھا۔ لہٰذا جب وضو ٹوٹ جائے یا خف اتر جائے، یا اتنا نکل جائے کہ خف کی شرط باقی نہ رہے، یا مدتِ مسح ختم ہوجائے تو مسح بھی ختم ہوجاتا ہے۔

تفریعات

  • ہر وہ چیز جو وضو کو توڑ دیتی ہے، مسح کو بھی توڑ دیتی ہے۔
  • ایک یا دونوں خف اتار دینے سے مسح باطل ہوجاتا ہے۔
  • اگر خف سے پاؤں کا اکثر حصہ (تین انگلیوں کے بقدر یا زیادہ) باہر نکل آئے تو مسح باطل ہوجاتا ہے۔
  • اگر خف اتارا نہ بھی جائے، لیکن پاؤں کا اکثر حصہ خف کے اندر سے نکل کر ساق (پنڈلی) کی طرف سرک جائے تو بھی یہی حکم ہے۔ مثلاً کسی شخص نے ڈھیلا خف پہنا ہوا تھا، پھر چلتے چلتے یا کسی اور وجہ سے پاؤں پیچھے کی طرف سرک گیا، یہاں تک کہ قدم کا زیادہ حصہ خف سے باہر آگیا، اگرچہ خف ابھی بھی پنڈلی میں موجود ہے، تو فقہاء نے اسے بھی خف اتارنے کے حکم میں شمار کیا ہے؛ کیونکہ مسح کی جگہ (قدم کا اوپری حصہ) اپنی اصل جگہ سے نکل گئی، گویا پاؤں ظاہر ہوگیا۔
  • صرف ایڑی (عقب) کے نکل آنے سے مسح باطل نہیں ہوتا، جب تک یہ خف اتارنے کی نیت سے نہ ہو۔
  • اگر خف کی وسعت یا کسی اور وجہ سے ایڑی باہر آجائے تو بالاتفاق مسح نہیں ٹوٹتا۔
  • مقیم کی ایک دن ایک رات اور مسافر کی تین دن تین رات کی مدت پوری ہوجانے سے مسح ختم ہوجاتا ہے، اگر شدید سردی سے پاؤں ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
  • اگر مدت ختم ہونے کے بعد شدید سردی کی وجہ سے پاؤں ضائع ہونے یا ناقابلِ تلافی نقصان کا اندیشہ ہو تو خف نہیں اتارے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ اندیشہ ختم ہوجائے۔
  • خف اتارنے یا مدت ختم ہونے کے بعد صرف دونوں پاؤں دھونا کافی ہے، پورا وضو دوبارہ کرنا ضروری نہیں۔
  • اگر مدت ختم ہونے کے بعد شدید سردی کی وجہ سے پاؤں دھونا ممکن نہ ہو تو عذر کے ختم ہونے تک رخصت باقی رہے گی۔
  • اگر خف کے اندر داخل ہو کر پانی نے پاؤں کے اکثر حصے کو دھو دیا تو صحیح قول کے مطابق مسح باطل ہوجاتا ہے۔
  • ایک قول کے مطابق خف کے اندر پانی پہنچنے سے مسح باطل نہیں ہوتا، اگرچہ پانی گھٹنے تک پہنچ جائے، اور یہی قول ظاہر قرار دیا گیا ہے۔
  • اگر ایک ہی خف اتارا جائے تب بھی دونوں خفوں کا مسح ختم ہوجاتا ہے؛ کیونکہ ایک پاؤں پر غسل اور دوسرے پر مسح جمع نہیں ہوسکتا۔
  • اگر خف میں ایسا شگاف پیدا ہوجائے جو مسح کے لیے مانع ہو تو مسح باطل ہوجاتا ہے۔
  • معذور شخص کے لیے وقتِ نماز ختم ہونے سے بھی مسح باطل ہوجاتا ہے۔

 

فوائد

  • ناقضِ حقیقی دراصل سابقہ حدث ہے، خف اتارنا یا مدت کا ختم ہونا صرف اس کے ظاہر ہونے کا سبب ہے۔
  • اگر مدت پوری ہونے کے باوجود ابھی تک مسح نہ کیا ہو، تب بھی مدت ختم ہونے سے مسح کا حق ختم ہوجاتا ہے۔
  • عمامہ، ٹوپی، برقع اور دستانوں پر مسح جائز نہیں، لہٰذا ان کے اترنے یا باقی رہنے کا مسح کے احکام سے کوئی تعلق نہیں[9]۔

 

 

جبیرہ پر مسح کا بیان

ضابطہ: جب کسی عذر کی وجہ سے عضو کو دھوناممکن نہ ہو تو اس پر مسح کیا جائے گا اور اگر مسح کرنا بھی مضر ہو تو اس عضو پر بندھی ہوئی جبیرہ، پٹی، مرہم، دوا، یا اس جیسی چیز کے اکثر حصے پر ایک مرتبہ مسح کرنا اس عضو کو دھونے کے قائم مقام ہوگا۔

فوائد :

  • جبیرہ سے مراد وہ لکڑی ہے جس سے ٹوٹی ہوئی ہڈی باندھی جائے، اور اس کے حکم میں زخم کی پٹی، فصد کی پٹی، جلنے کی پٹی، مرہم، دوا اور سر یا جسم کے کسی عضو پر بندھی ہوئی ہر پٹی داخل ہے۔
  • اصل حکم عضو کو دھونا ہے، اگر دھونا مضر ہو تو عضو پر مسح کیا جائے، اگر وہ بھی مضر ہو تو جبیرہ پر مسح کیا جائے، اور اگر جبیرہ پر مسح بھی مضر ہو تو مسح بھی ساقط ہوجاتا ہے۔
  • جبیرہ پر صرف ایک مرتبہ اکثر حصے کا مسح کافی ہے، پورے جبیرہ کا استیعاب اور تکرار شرط نہیں۔
  • جبیرہ پر مسح غسل کے قائم مقام ہے، اس لیے اس کی کوئی مدت مقرر نہیں۔
  • جبیرہ باندھتے وقت باوضو ہونا شرط نہیں۔
  • جبیرہ پر مسح کے لیے نیت شرط نہیں۔

تفریعات

  • ایک پاؤں پر جبیرہ کا مسح اور دوسرے پاؤں کو دھونا جائز ہے۔
  • ایک پاؤں پر جبیرہ اور دوسرے پر خف کا مسح جمع نہیں کیا جاسکتا۔
  • ایک پاؤں پر جبیرہ کا مسح اور دوسرے پاؤں پر خف کا مسح جمع نہیں کیا جاسکتا؛ کیونکہ جبیرہ کا مسح شرعاً غسل کے قائم مقام ہے، اور ایک ہی طہارت میں ایک پاؤں کے لیے غسل (حکماً) اور دوسرے کے لیے مسحِ خف جمع نہیں ہوسکتا۔اس لیے زخمی پیر پر موزہ پہننا ہوگا تاکہ دونوں پر مسح ہوسکے۔  البتہ اگر جبیرہ پر بھی مسح کرنا ممکن نہ ہو تو صحیح پاؤں کے خف پر مسح کرنا جائز ہے؛ کیونکہ اس صورت میں زخمی پاؤں کا حکم معدوم (کٹے ہوئے پاؤں) کے برابر ہوجاتا ہے۔
  • جبیرہ تبدیل کرنے سے سابقہ مسح باطل نہیں ہوتا، البتہ دوبارہ مسح کر لینا مستحب ہے۔
  • جبیرہ برء سے پہلے گر جائے تو مسح باطل نہیں ہوتا۔
  • جبیرہ اگر زخم بھرنے کے بعد گر جائے تو مسح باطل ہوجاتا ہے۔
  • اگر زخم بھر جائے لیکن جبیرہ نہ بھی گرے تو بھی مسح ختم ہوجائے گا، بشرطیکہ اسے اتارنے میں ضرر نہ ہو۔
  • اگر دورانِ نماز جبیرہ ٹھیک ہونے کے بعد گر جائے تو نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی۔
  • اگر مرہم یا دوا گر جائے اور زخم بھر چکا ہو تو بھی یہی حکم ہے۔
  • اگر پٹی میں درمیان سے عضو کا کچھ حصہ کھلا ہو تو کھلے ہوئے حصے کو دھویا یا مسح کیا جائے اور باقی پٹی پر مسح کافی ہے۔
  • اگر پانی نقصان نہ پہنچاتا ہو تو جبیرہ پر مسح کافی نہیں بلکہ اصل عضو کو دھونا لازم ہے۔
  • اگر ٹوٹے ہوئے ناخن پر دوا، گوند یا کوئی حفاظتی چیز رکھی ہو اور اسے اتارنے میں ضرر ہو تو اس پر مسح جائز ہے۔
  • اگر آنکھ میں تکلیف ہو اور طبیب دھونے سے منع کرے تو اس پر بھی یہی حکم ہوگا۔
  • اگر جبیرہ پر بھی مسح نقصان دہ ہو تو مسح بھی ساقط ہوجاتا ہے۔
  • مرد، عورت، محدث اور جنب سب کے لیے جبیرہ پر مسح کے احکام یکساں ہیں[10]۔

 

 

 

[1] ماخوذ من مراقی الفلاح ۵۰، و

[2]  نور الایضاح ۴۲،۴۳، بدائع:۱/۱۷۵ واالہندیۃ ۱/۲۶،الی ۳۰، الدر مع الرد ۲۳۲ الی ۲۳۵۔

[3]  الدر و الرد ۱/۲۳۱

[4]  الہندیۃ ۱/۳۰ الاختيار لتعليل المختار 1/21

[5]  الفتاوی الہندیۃ ۱/۲۷، ۲۸

[6]  الہندیۃ ۱/۳۱

[7]  الدر و الرد ۱/۲۳۵، والہندیۃ ۱/۲۸

[8]  ایک فرسخ تین میل شرعی کا ہوتا ہے،   ۱ شرعی میل = ۱٫۸۴۶۱۵۳۸ کلومیٹر ، اس حساب سے ۳ شرعی میل (ایک فرسخ) = ۵٫۵۳۸۴۶۱۴ کلومیٹر ہوتے ہیں۔

[9]  مراقی الفلاح ۱/۵۸، الدر والرد ۱/۲۶۱ الی ۲۷۸

[10]  مراقی الفلاح ۵۹، ۶۰ و الدر والرد ۱/۲۷۸ الی ۲۸۲

Share This Blog