29
Jun
وضو اور غسل کا اور ان کے نواقض و موجبات
وضو کا بیان
ضابطہ: غَسل (دھونا) کہتے ہیں محل پر اس طرح پانی بہانا کہ کم از کم دو قطرے ٹپکیں اور مسح تر ہاتھ پھرانے سے عبارت ہے[1]۔
پس اگر اس طرح دھوئے کہ قطرے نہ ٹپکیں تو غسل نہیں کہلائے گا۔ مسح کے لیے نئے پانی سے ترکرنا ضروری نہیں بل کہ پچھلے عضو کے دھوئے ہوئے سے باقی ماندہ تری کافی ہے۔ البتہ اگر ہاتھ پر تری نہیں ہے اور پچھلے عضو کو چھو کر تر کرے اور اس سے مسح کرے تو جائز نہیں کیوں کہ پانی مستعمل ہوچکا ہے[2]۔
ضابطہ: وجہ (چہرہ) مواجہہ سے مشتق ہے؛ لہٰذا پیشانی کی ابتداء سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسری کان کی لو تک جو حصہ مواجہہ میں آتا ہو اس کا دھونا وضو میں فرض ہے، البتہ جن حصوں کو دھونے میں حرج لازم آئے وہ مستثنیٰ ہیں۔
تفریعات:
- پیشانی کی سطح کے آغاز سے ٹھوڑی کے نیچے تک پورا حصہ دھونا فرض ہے ۔گنجے، اور کم بال والے سب اس حکم میں داخل ہیں، کیونکہ اعتبار اصل حد کا ہے نہ کہ عادت کا۔
- دونوں کانوں کی لوؤں کے درمیان تمام حصہ دھونا فرض ہے، کیونکہ یہ مواجہہ میں داخل ہے۔
- آنکھوں کے کنارے (مآقی) دھونا فرض ہے، کیونکہ یہ ظاہر حصہ ہے۔
- ہونٹ بند کرنے پر جو حصہ ظاہر رہتا ہے اسے دھونا فرض ہے، کیونکہ وہ مواجہہ میں داخل ہے۔
- منہ کے اندر کا حصہ دھونا فرض نہیں کیوں کہ وہ مواجہہ سے خارج ہے۔
- کان اور عذار (کان کے سامنے کے بال) کے درمیان حصہ دھونا فرض ہے، کیونکہ وہ حدِّ چہرہ میں شامل ہے۔
- آنکھ کے اندر کا حصہ حد میں داخل ہونے کے باوجود دھونا فرض نہیں، کیونکہ اس میں شدید حرج ہے۔
- چہرہ دھونا صرف تر کرنا نہیں بلکہ پانی بہانا ضروری ہے، کیونکہ غسل کا معنی اسالۂ ماء ہے۔
- بھنویں، داڑھی اور مونچھ اگر گھنی ہوں تو ان کی جڑ دھونا فرض نہیں، کیونکہ جلد بالوں سے چھپ جانے کی وجہہ سے مواجہہ سے غائب ہوگئی۔
- البتہ خود ان بالوں کا دھونا فرض ہوگا۔
- چہرہ کے حدود پر جو داڑھی کے بال ہیں جیسے عارض اور ذقن (تھوڑی کے بال) ان کا دھونا فرض ہے۔
- تھوڑی سے نیچے لٹکے ہوئے بالوں کا دھونا فرض نہیں ہے۔
- اگر یہ بال ہلکے ہوں اور جلد نظر آئے تو جلد دھونا فرض ہے، کیونکہ مواجہہ متحقق ہے اور حرج بھی نہیں۔
- مہندی اگر جرم رکھتی ہو اور چھڑانے سے چھوٹ نہ رہی ہو تو اس کا دھونا فرض نہیں ہے، دفع حرج کی وجہ سے
- میل، چکنائی، تیل، مٹی یا کیچڑ باقی رہ جائے اور چھوٹ نہ سکے تو وضو درست ہے، کیونکہ ان کے ازالہ میں حرج ہے اور فرض حائل پر منتقل ہو جاتا ہے[3]۔
ضابطہ: وضو میں ہر وہ چیز دھونا فرض ہے جو اعضاءِ وضو پر مرکب ہو اور محلِّ فرض کے اندر یا اس کے بالمقابل واقع ہو، خواہ وہ عضو اصلی ہو یا زائد۔اور جو محلِّ فرض سے خارج ہو اس کا دھونا واجب نہیں[4]۔
تفریعات
- اگر ہاتھ یا انگلی زائد ہو اور محلِّ فرض (ہاتھ) میں ہو تو اس کا دھونا فرض ہوگا۔
- اگر زائد عضو محلِّ فرض سے اوپر ہو (جیسے بازو یا کندھے پر) تو اس کا دھونا فرض نہیں۔
- اگر زائد عضو کا کچھ حصہ محلِّ فرض کے برابر ہو تو صرف اتنا حصہ دھونا فرض ہوگا جو محلِّ فرض کے برابر ہو۔
- اگر زائد جلد (لٹکی ہوئی کھال) محلِّ فرض سے باہر ہو مگر لٹک کر محلِّ فرض میں آ جائے تو اسے دھونا فرض ہوگا۔
- اگر لٹکی ہوئی کھال کی اصل ہی محلِّ فرض میں ہو تو پوری کھال دھونا فرض ہوگا، چاہے لمبی ہو یا چھوٹی۔
- اگر زائد عضو دو جگہوں کے درمیان ہو تو جو حصہ محلِّ فرض کے برابر ہو اس کا ظاہر و باطن دھونا فرض ہوگا۔
- اگر کسی کے کندھوں پر دو ہاتھ ہوں تو:
- اصل ہاتھ وہ ہے جو کامل ہو
- ناقص ہاتھ اگر محلِّ فرض کے برابر آئے تو اسے دھونا بھی واجب ہوگا۔ [5]۔
ضابطہ: جس محل پر غسل یا مسح بطور بدل نہ ہو اس کے زائل ہو جانے سے مسح یا غسل کا اعادہ لازم نہیں، اور جس پر بطور بدل ہو اس کا اعادہ لازم ہے۔[6]۔
تفریعات:
- وضو کے بعد سر کے بال منڈوانے سے وضو کا اعادہ لازم نہیں۔
- وضو کے بعد داڑھی منڈوانے سے وضو کا اعادہ لازم نہیں۔
- وضو کے بعد مونچھیں یا بھنویں کاٹنے سے وضو کا اعادہ لازم نہیں۔
- وضو کے بعد ناخن کاٹنے سے وضو کا اعادہ لازم نہیں۔
- وضو کے بعد اضافی جلد اتارنے سے وضو کا اعادہ لازم نہیں۔
- اگر وضو کے وقت کسی عضو پر پھوڑا یا پھنسی ہو اور اس پر باریک جلد ہو جس پر پانی بہا دیا گیا ہو، پھر بعد میں وہ جلد ہٹا دی جائے تو نیچے کی جگہ دوبارہ دھونا لازم نہیں، بشرطیکہ خون نہ نکل کر بہا ہو۔
- اگر اس جلد کو اتارنے میں تکلیف بھی ہو تب بھی اعادہ لازم نہیں۔
- اگر کسی زخم پر جبیرہ (پٹی) بندھی ہو اور اس پر مسح کیا گیا ہو، پھر وہ جبیرہ اتر جائے اور وہ زخم ابھی ٹھیک نہیں ہوا ہے تو اس جگہ کا دھونا لازم نہیں ہوگا، اور اگر زخم ٹھیک ہوگیا ہے تو دھونا لازم ہوگا کیوں کہ مسح دفع حرج کی وجہ سے تھا اور وہ وجہ اب باقی نہ رہی۔
- اس کے برعکس موزوں پر مسح کیا ہو، اور موزے اتاردیے ہوں تو پیرکا دھونا ضروری ہے، کیوں کہ موزے پر مسح بطور بدلیت تھا[7]۔
نواقض وضو
ضابطہ:(۱) زندہ آدمی کے بدن سےسبیلین کے علاوہ سے نکلنے والی نجاست جو نکل کر اس جگہ تک بالقوۃ یا بالفعل پہنچ جائے جس کا دھونا وضو یا غسل میں ضروری ہے، (۲)سبیلین سے ظاہر ہونے والی ہر شے، (۳)پیچھے کے راستہ سے[8] خروجِ ریح حقیقۃً یا حکماً[9]، (۴)اور رکوع و سجدہ والی نماز میں (خواہ حکماً ہو جیسے حالتِ بناء میں) بیدار عاقل بالغ کا قہقہہ نواقض وضو کہلاتےہیں[10]۔
سبییلین کے علاوہ سے خروج نجاست میں خون اور پیپ کا نکلنا، منہ بھر کے قئے ہونا۔
سبیلین سے نکلنے میں مذی، بول وبراز، استحاضہ کا خون اور کیڑوں کا نکلنا شامل ہے۔
خروج ریح حکما کے تحت نیند، جنون، نشہ، بیہوشی، غشی داخل ہوگئی ہیں، کیوں کہ حقیقت میں یہ چیزیں ناقض نہیں ہیں بل کہ ان کی وجہ سے خروج ریح عادۃ ہوجایا کرتا ہے، اس لیے ’’العادۃ محکمۃ‘‘ کے تحت ان کو ہی خروج ریح کے قائم مقام کردیا گیا ہے۔
تفریعات:
خروجِ نجس (پیشاب پاخانہ کے مقام کے علاوہ بدن کے کسی حصے سے نجاست کا نکلنا)
- زندہ آدمی کے بدن سے نجاست نکلے تو ناقض وضو ہے، اور اگر مردہ لاش سے نکلے تو ناقض نہیں، لہذا میت کو وضو کرانے کے بعد اگر نجاست نکل جائے تو وضو کا اعادہ لازم نہیں، صرف موضع نجاست کا دھولینا کافی ہے۔
- بدن کے کسی بھی حصے سے نکلنے والی نجاست جب اس مقام تک پہنچ جائے جس کا دھونا لازم ہے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے؛ وجہ: خروجِ نجس کا تحقق۔
- اگر پیشاب پاخانہ کے علاوہ کسی جگہ سے نجاست صرف ظاہر ہو اور اپنی جگہ سے باہر نہ نکلے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔وجہ:خروج نجاست کا فقدان۔
- اور اگر نکل کر بہے لیکن اس جگہ نہ پہنچے جس کا دھونا وضو یا غسل میں ضروری ہے جیسے آنکھ کا اندرونی حصہ تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
- اگر نجاست نکلتے ہی ہر بار صاف کر دیا جائے لیکن اگر چھوڑ دیا جاتا تو بہہ جاتا، یا کپڑے اور روئی میں جذب کرہوجائے ، یا جونک خون پی لے تو وضو ٹوٹ جائے گا؛ وجہ: سَیلان بالقوۃ معتبر ہے۔
- اگر مچھر پسو خون پی لے تو ناقض نہیں۔ وجہ:بالقوۃ سیلان نہیں پایا گیا۔
- ایک ہی مجلس میں بار بار نکلنے والی رطوبت جمع کر کے دیکھی جائے گی؛ اگر بہنے کی طاقت رکھتی ہو تو ناقض ہے؛ وجہ: مجلس واحد میں اجتماع معتبر ہے۔مختلف مجالس کی رطوبت جمع نہیں کی جائے گی؛ وجہ: مشقت و توسعہ۔
- آنکھ کے اندر، زخم کے اندر یا عضو کے باطن میں خون بہ جائے مگر باہر نہ آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا؛ وجہ: محلِ تطہیر تک نہ پہنچنا۔
- آنکھ کے اندر زخم ہو اور اس کا پانی نکلے تو ناقض وضو ہے۔
- اگر آنکھ میں زخم نہیں مگر پانی نکل رہا ہے خواہ درد کی وجہ سے، یا بغیر درد کے،جیسے دھوپ کی شدت، یا پیاز کاٹنے، جمائی لینے ، یا سرمہ کی تیزی یا سلائی آنکھ پر لگنے کی وجہ سے نکلے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ وجہ: نجاست کا خروج مفقود ہے۔
- بچہ کو دودھ پلانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔ وجہ: خروج نجس کا نہ ہونا۔
- زخم سے کیڑا نکلے اور اس پر نجاست کا کوئی اثر نہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ وجہ: عدم خروج نجس
خروج نجس کی متعدد قسمیں ہیں جن کو ہم ذیل میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں:
(الف) قے
- منہ بھر قے ناقض ہے؛ وجہ: منہ بھر کر قئ نجس ہے اس سےکم غیر نجس ہے ۔
- تھوڑی قے ناقض نہیں؛ وجہ: غیر نجس کا خروج۔
- اگر قے مریء (گلے/غذائی نالی)میں رہ جائے اور باہر نہ آئے تو ناقض نہیں؛ وجہ: عدمِ خروج۔
- بلغم کی قے ناقض نہیں؛ وجہ: خروج نجس نہیں پایا گیا، کیوں کہ بلغم پاک ہے۔
- بلغم غذا کے ساتھ مخلوط ہو تو غالب کا اعتبار ہوگا؛ ۔
- اگر بلغم و غذا برابر ہوں تو وضو ٹوٹ جائے گا، احتیاطا نجس کا اعتبار کرتے ہوئے ۔
- قے میں اگر جما ہوا خون نکلا تو ناقض نہیں، الا یہ کہ منہ بھر کے ہو اور بہتا ہوا خون نکلا چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ناقض وضو ہے، کیوں کہ بہتاہوا خون نجس ہے، اورجماہوا خون نجس نہیں، مگر منہ بھر کر ہو تو قے کے حکم میں ہو کر نجس کہلائے گا۔
- عین خمر یا بول کی قے نجس ہے اس لیے قلیل ہویا کثیر بہر دوصورت ناقض ہے[11]۔
(ب) خون و پیپ
- منہ سے نکلنے والا خون اگر تھوک پر غالب ہو یا برابر ہو تو ناقض ہے؛ وجہ: غلبہ نجاست۔
- اگر خون تھوک سے مغلوب ہو تو ناقض نہیں؛ وجہ: النادر کالمعدوم، لہذا خروج نجس متحقق نہیں ہوا۔
- پیپ اور صدید کا حکم خون جیسا ہے؛ وجہ: اتحاد علت: خروج نجس۔
- کسی بیماری کی وجہ سے بہنے والا خون بھی ناقض وضو ہے،کیوں کہ یہ درحقیقت پیپ ہے، ہاں آنکھ سے نکلنے والا ناقض نہیں کیوں کہ یہ پیپ نہیں پانی ہے اس لیے کہ آنکھ محل رطوبت ہے۔
- بدن کے کسی حصے سے نکلنے والا بہتا خون ناقض ہے؛ وجہ: خروجِ نجس بالسَّیلان۔
- اگر جماہوا خون منہ سے یا بدن کے کسی اور حصہ سے نکلے تو ناقض نہیں الا یہ کہ منہ بھرکے قئے کی شکل میں ہو، کیوں جماہوا خون پاک ہے اور قئ منہ بھر کے ہو تو نجس ہے ورنہ نہیں[12]۔
(ب) بدن سے جدا شدہ گوشت
- بدن سے جدا ہونے والا گوشت ناقض نہیں؛ الا یہ کہ اس کے ساتھ خون یا پیب نکل کر بہہ جائے۔ وجہ: طہارتِ عین۔ کیوں کہ زندہ آدمی کا ایسا جز جس میں خون ہو اگر وہ بدن سے الگ ہو گیا ہو وہ دوسروں کے حق میں نجس ہوتا ہے اس کے حق میں نہیں[13]۔
-
سبیلین سے ظاہر ہونے والی ہر شے
- پیشاب، پاخانہ، مذی، ودی وغیرہ سب ناقض ہیں؛ وجہ: ظہور من السبیلین۔
- بواسیری مسوں سے جو پانی نکلتا ہے اس سے وضوٹوٹ جائے گا۔ وجہ ظہور من السبیلین
- کیڑا یاپتھری وغیرہ کا سبیلین سے نکلنا ناقض ہے؛ وجہ: مجرد ظہور کافی ہے[14]۔
- شرمگاہ میں کوئی بھی چیز غائب کرکے نکالے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔کیوں کہ شرمگاہ میں جاتے ہی نجس ہوجائے گی، اور اس کے بعد ظہور پھر خروج ہوگا[15]۔
(ج) خروجِ ریح حقیقۃ
- پچھلے راستے سے ہوا کا نکلنا ناقض ہے۔
- آگے کے راستہ سے خواہ مرد کے ہو یا عورت کے ہو ہوا کانکلنا ناقض نہیں[16]۔
-
(د)خروج ریح حکما:
اس کی متعدد صورتیں ہیں
(۱)نیند
- ایسی نیند جو بندشِ مقعد کو زائل کر دے ناقض ہے (پہلو، پیٹھ، چہرہ کے بل سونا)؛ وجہ: زوالِ مسکۃ۔
- بیٹھ کر اس طرح سونا کہ اگر سہارا ہٹا دیا جائے تو گر جائے، ناقض ہے؛ وجہ: زوالِ مسکۃ۔
- بیٹھ کر اس طرح سونا کہ سہارا ہٹانے پر نہ گرے، ناقض نہیں؛ وجہ: بقاءِ مسکۃ۔
- سجدہ کی مسنون ہیئت میں سونا ناقض نہیں؛ وجہ: استمساك۔
- بیٹھے بیٹھے جھول کر گر پڑے اور گرنے پر فورا جاگ جائے تو ناقض نہیں؛ وجہ: عدم تحقق النوم التام۔
- اونگھ جس میں اکثر بات سمجھ لے ناقض نہیں؛ وجہ: عدم زوال عقل کی وجہ سے اونگھ کو خروج ریح کے قائم مقام کرنے کی ضرورت نہیں ۔
(۲،۳،۴،۵)غشی، بیہوشی، جنون، نشہ :
ان سب صورتوں میں بھی خروج ریح کا شعور نہیں رہتا اس لیے ان کو ہی خروج ریح کے قائم مقام کردیا گیا ہے[17]۔
قہقہہ
- رکوع و سجود والی نماز میں زور سےہنسنا کہ بازوالا سن لے جسے قہقہہ کہاجاتاہے۔ خلاف قیاس نص۔
- نمازِ جنازہ یا سجدۂ تلاوت میں قہقہہ وضو نہیں توڑتا، البتہ نماز ٹوٹ جاتی ہے؛ وجہ: خلاف قیاس نص کا مورد نص پر منحصر ہونا۔
- سلام سے پہلے یا بعد تشہد یا سجدہ سہو میں قہقہہ ناقض ہے؛ وجہ: نماز کامل میں قہقہہ۔
- سہوا بھی قہقہ ناقض وضو ہے،وجہ: وجود قہققہ در صلاۃ کامل
- اگر کوئی معذور رکوع سجدہ والی نماز اشارہ سے پڑھ رہاہو اور اس میں قہقہہ لگائے تو ناقض ہے کیوں کہ یہ صلاۃ کاملہ ہے۔
- سوئے ہوئے آدمی اور نابالغ کا قہقہہ ناقض وضو نہیں، کیوں کہ قہقہہ کا ناقض ہونا زجر کی بنا پر ہے اور نائم اور نابالغ اس کے اہل نہیں، لہذا یہ معنی نص میں داخل نہیں۔
- نابالغ کی نماز کا قہقہہ ناقض وضو نہیں۔ وجہ: اقتصار النص المخالف للقیاس علی موردہ[18]۔
غسل کا بیان
غسل لغت میں اس پانی کو کہاجاتا ہے جس سے غسل کیا جائے
غسل کی شرعی حقیقت:
غسل یہ ہے کہ پورے بدن کے ان تمام ظاہر حصوں پر، جن تک بلا مشقت پانی پہنچانا ممکن ہو، ایک مرتبہ پانی بہادیا جائے[19]۔
بدن سے مراد بدن کے ظاہر کا دھونا، خواہ من وجہ ہی ظاہر کیوں نہ ہو، اسی لیے منہ کے اندر پانی پہنچانا (کلی کرنا) اور ناک کے اندر پانی پہنچانا ضروری ہے۔
فوائد قیود:
- کان ، ناف، ناک کے نرم حصہ تک، مونچھیں، بھنویں، کا دھونا فرض ہے۔
- داڑھی کے اندر کے بال اور سر کے بال اگرچہ جَمے ہوئے یا چپکے ہوں۔
- عورت و مرد کی شرمگاہ کا بیرونی حصہ دھونا بھی فرض ہے۔
- بدن کا جوحصہ من وجہ ظاہر ہے ان تک بھی پانی پہنچانا فرض ہے، اسی لیے کلی کرنا(چاہے پانی منہ میں لے کر پی جائے اور نہ تھوکے) اور ناک میں پانی ڈالنا غسل میں فرض ہے۔
- بند سوراخ کے اندر، آنکھ کے اندر کا حصہ دھونا واجب نہیں، چاہے اس میں نجس سرمہ لگا ہو، حرج کی وجہ سے۔
- عضوِ مخصوص کی کھال کے اندرونی حصہ کو دھونا واجب نہیں، البتہ بغیر مشقت ممکن ہو تو مستحب ہے، اور اگر بغیر مشقت کھولنا ممکن ہو تو واجب ہو جائے گا۔
- عورت کے بال اگر گوندھے ہوئے ہوں تو ان کو کھولنا لازم نہیں، صرف جڑ تک پانی پہنچانا کافی ہے؛ البتہ اگر بال کھلے ہوں تو پورے بال دھونا فرض ہے۔
- اگر سر دھونے سے ضرر ہو تو ترک کر سکتی ہے (بعض کے نزدیک مسح کرے گی)۔
- تنگ انگوٹھی کو نکالنا یا ہلانا ضروری ہے۔
- بالی وغیرہ کے سوراخ میں پانی پہنچانا ضروری ہے؛ اگر خود بخود پہنچ جائے تو کافی ہے، ورنہ انگلی سے پہنچایا جائے۔
- مہندی یا رنگ جس کو چھڑایا نہ جاسکے، کھوکھلے دانتوں کے درمیان اٹکے ہوئے کھانا، ناخن کے نیچے کی میل دفع حرج کی وجہ سے معفوعنہ ہے[20]۔
موجبات غسل کا بیان
موجبات غسل تین ہیں: (۱) انزال و احتلام (۲) جماع (۳) حیض و نفاس کا بند ہونا۔
(۱)انزال و احتلام: منی کا اپنے مستقر سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر نکلنا، خواہ نیند میں ہو[21] ۔
فوائد قیود:
• شہوت کا اعتبار منی کے اپنے مقام سے جدا ہونے کے وقت ہے، نہ کہ سرِ احلیل(عضو مخصوص کے سرے) سے خارج ہونے کے وقت۔ اسی لیے اگر منی اپنی قرار گاہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو جائے پھر ذکر سے بغیر شہوت کے نکلے تب بھی غسل واجب ہوگا۔
• لہذا اگر کسی نے احتلام کے بعد عضو کو پکڑ کر منی روک لی اور شہوت ختم ہونے کے بعد خارج ہوئی تو غسل واجب ہے (امام ابو حنیفہ و محمد کے نزدیک)، جبکہ امام ابو یوسف کے نزدیک واجب نہیں۔
• دفق (جوش کے ساتھ اچھل کر نکلنا) شرطِ مستقل نہیں؛ اسی لیے اگر شہوت کے ختم ہونے کے بعد منی خارج ہو تب بھی غسل واجب ہے (امام ابو حنیفہ و محمد کے نزدیک)۔امام ابو یوسف کے یہاں واجب نہیں۔ عام حالات میں طرفین کے قول پر فتوی ہے، مگر موضع ضرورت میں امام ابویوسف کے قول پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔
• اگر جماع کے بعد غسل کر لیا، پھر پیشاب یا نیند سے پہلے باقی منی خارج ہوئی تو دوبارہ غسل واجب ہوگا؛ لیکن پہلی پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ نہیں ہوگا۔
• اگر غسل کے بعد پیشاب، نیند یا چلنے کے بعد منی خارج ہو تو بالاتفاق غسل واجب نہیں، کیوں کہ یہ منی نہیں مذی ہے، اس لیے کہ پیشاب، چلنا پھرنا اور نیند مادہ شہوت کو ختم کردیتے ہیں۔
• اگر منی اپنے مقام سے جدا ہو گئی مگر سرِ احلیل تک ظاہر نہ ہوئی تو غسل لازم نہیں؛ کیونکہ ظاہری خروج شرط ہے۔
• پیشاب کے بعد منی نکلے تو اگر عضو منتشر (کھڑا) ہو تو غسل واجب ہے، اور اگر منتشر نہ ہو تو صرف وضو واجب ہے۔
• عورت اگر جماع کے بعد غسل کر لے اور بعد میں شوہر کی منی خارج ہو تو اس پر صرف وضو واجب ہے، غسل نہیں۔کیوں کہ وہ منی اس کی نہیں ہے۔
• نیند سے بیدار ہو کر بستر یا جسم پر تری پائے اور احتلام یاد ہو تو اگر یقین ہو کہ یہ منی ہے یا شک ہو کہ منی ہے یا مذی، دونوں صورتوں میں غسل واجب ہے۔
• اگر یقین ہو کہ وذی ہے تو غسل واجب نہیں۔
• اگر تری دیکھے مگر احتلام یاد نہ ہو:
- اگر یقین ہو کہ منی ہے تو غسل واجب ہے۔
- اگر یقین ہو کہ مذی یا وذی ہے تو غسل واجب نہیں۔
- اگر شک ہو کہ منی ہے یا مذی تو امام ابو یوسف کے نزدیک غسل واجب نہیں جب تک احتلام یاد نہ آئے، جبکہ امام ابو حنیفہ و محمد کے نزدیک غسل واجب ہے۔
• اگر احتلام یاد ہو مگر کوئی تری نظر نہ آئے تو غسل واجب نہیں؛ کیونکہ عورت و مرد دونوں کے لیے ظاہری خروج شرط ہے۔
• اگر بستر میں منی پائی جائے اور میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف نسبت کریں تو احتیاطاً دونوں پر غسل واجب ہوگا۔
• بے ہوشی یا نشہ کی حالت میں مذی نکل آئے تو غسل واجب نہیں؛ کیونکہ یہ نیند کے حکم میں نہیں۔
• اگر احتلام یاد ہو، وضو کرکے نماز پڑھ لی، پھر بعد میں منی خارج ہوئی تو غسل واجب ہے مگر نماز کا اعادہ نہیں۔
• اگر نماز کے دوران احتلام ہوا اور نماز کے بعد منی خارج ہوئی تو غسل واجب ہے مگر نماز کا اعادہ نہیں۔
ہے[22]۔
- اکسال (جماع بلاانزال): حشفہ یا اس کے قائم مقام مقدار کا کسی زندہ آدمی کے دو حقیقی شرمگاہی راستوں (قبل یا دبر) میں سے کسی ایک میں داخل ہو جانا، اگرچہ انزال نہ ہو، شرعاً جماع کہلاتا ہے اور اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
فوائد قیود:
• انزال اس سبب میں شرط نہیں؛ محض دخول سے ہی غسل واجب ہو جاتا ہے، اس لیے دخول ہو جائے اگرچہ منی خارج نہ ہو پھر بھی جنابت ثابت ہو جاتی ہے۔
• کامل دخول شرط نہیں بلکہ صرف حشفہ کا داخل ہونا کافی ہے، اور اگر حشفہ موجود نہ ہو تو اس کے بقدر حصہ داخل ہونا معتبر ہے، اس لیے مقطوع الذکر کی صورت میں بھی اگر بقدرِ حشفہ دخول ہو جائے تو غسل واجب ہوگا۔
• دخول حقیقی سبیلین میں ہونا شرط ہے، اس لیے خنثیٰ کے مشکوک راستے میں دخول سے حکمِ جماع ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حقیقی جماع متحقق نہیں ہوتا۔
• دخول انسان کی شرمگاہ میں ہونا شرط ہے، لہٰذا حیوان سے وطی سے غسلِ جماع لازم نہیں، اور جن یا جنیہ سے تعلق کی صورت میں بھی غسل لازم نہیں ہے۔
• جماع ایسی عورت سے ہو جو حقیقتاً قابلِ جماع ہو، اس لیے اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ دخول جس سے حقیقی مباشرت متصور نہ ہو اس سے یہ حکم ثابت نہیں ہوتا۔
• دخول زندہ انسان میں ہونا شرط ہے، اس لیے مردہ انسان سے مباشرت سے غسلِ جماع لازم نہیں کیونکہ یہ شرعاً جماع نہیں بلکہ محض فساد ہے۔
• التقاء ختانین کی صورت میں فاعل اور مفعول دونوں پر غسل واجب ہوتا ہے اگر دونوں مکلف ہوں، اور اگر ایک مکلف ہو تو اسی پر لازم ہوگا، جبکہ نابالغ کو غسل کا حکم بطورِ تادیب دیا جائے گا اور نماز سے روکا جائے گا۔
• قبل اور دبر دونوں میں دخول کا حکم یکساں ہے کیونکہ دونوں سبیلین میں داخل ہیں، لہٰذا کسی ایک میں بھی دخول ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا[23]۔
(۳،۴) حیض و نفاس کا بند ہوجانا ۔
حیض یا نفاس کا خون رک جانے کے بعد جب نماز یا ایسی عبادت کا وقت آ جائے جو طہارتِ کبریٰ کے بغیر جائز نہیں، تو اس سابقہ حدث کے ازالہ کے لیے غسل واجب ہو جاتا ہے[24]۔
سبب کے بارے میں اختلاف ہے کہ خون کا نکلنا موجب ہے یا انقطاع؛ راجح یہ ہے کہ اصل سبب خروجِ خون ہے مگر غسل عملاً انقطاع کے بعد واجب ہوتا ہے، اور اس کا تعلق نماز یا ایسی عبادت کے وجوب سے ہے، اس لیے نماز کے وقت سے پہلے تاخیر پر گناہ نہیں۔حیض و نفاس سے متعلق مزید تفصیل حیض کے بیان کے تحت آئےگی۔
فوائد:
• دس دن سے کم حیض میں غسل سے طہارت مؤکد ہوتی ہے، جبکہ دس دن مکمل ہونے پر محض انقطاع سے طہر متحقق ہو جاتا ہے، مگر غسل پھر بھی لازم رہتا ہے کیونکہ حدث باقی ہوتا ہے۔
• اگر حیض کے ختم ہونے کے بعد نماز کا وقت آ جائے اور غسل میں تاخیر کرے تو اختلافِ قدیم کی بنا پر بعض کے نزدیک گناہ ہوگا اور بعض کے نزدیک نہیں، مگر عملی اعتبار سے اس اختلاف کا اثر کمزور ہے کیونکہ سب اس پر متفق ہیں کہ نماز کے وقت سے پہلے تاخیر میں گناہ نہیں۔
• اس اختلاف کا ایک فائدہ تعلیقات میں ظاہر ہوتا ہے، مثلاً اگر کسی نے شرط لگائی ہو کہ “اگر تم پر غسل واجب ہو تو طلاق ہو”، تو یہ دیکھا جائے گا کہ وجوب کس وقت متحقق ہوا۔
• ایک عملی فائدہ یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اگر عورت خون بند ہونے سے پہلے شہید ہو جائے تو بعض کے نزدیک اسے غسل دیا جائے گا کیونکہ سبب (خروجِ خون) پہلے پایا جا چکا تھا۔
• اگر عورت کو جنابت لاحق ہو جائے پھر حیض شروع ہو جائے تو وہ چاہے تو فوراً غسل کر لے یا چاہے تو حیض ختم ہونے تک مؤخر کرے، کیونکہ حیض کی حالت میں غسلِ جنابت مؤخر کرنا جائز ہے[25]۔
حیض کا بیان
تعریف:
بالغ عورت کے رحم سے ولادت اور بیماری کے بغیر جو خون نکلے اسے حیض کہتے ہیں[26]۔
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق رحم کی جھلی سے جھڑنے کا جو فطری اور ماہانہ نظام ہے اس سے نکلنے والا خون حیض کہلاتا ہے، اور استحاضہ وہ خون ہے جو اس قدرتی ماہانہ نظام کے علاوہ رحم یا اس کی خون کی نالیوں کی کسی خرابی، ہارمونل بے ترتیبی یا مرض کے سبب بے قاعدہ طور پر خارج ہو[27]۔
فوائد قیود:
• بالغ سے مراد کم از کم نو سال کی لڑکی ہے، اس سے کم عمر بچی کا خون حیض نہیں بلکہ ضائع خون شمار ہوتا ہے ۔
• رحم کی قید سے استحاضہ کا خون خارج ہوگیا، کیونکہ وہ رحم کا نہیں بلکہ رگ کا خون ہوتا ہے، اسی طرح نکسیر اور زخموں سے نکلنے والا خون بھی اس تعریف سے خارج ہے۔
• حاملہ عورت کا خون حیض نہیں، کیونکہ حمل کے بعد عادتاً رحم کا منہ بند ہوجاتا ہے اور اس سے حیض کا خون نہیں نکلتا۔
• ’’بلا بیماری‘‘‘ کی قید سے وہ خون خارج ہوگیا جو کسی مرض کی وجہ سے رحم خارج کرتا ہے، جیسے ولادت کے بعد نکلنے والا خون (نفاس)، کیونکہ نفاس والی عورت شرعاً مریض کے حکم میں ہوتی ہے۔
• اس قید سے استحاضہ بھی خارج ہوگیا، کیونکہ وہ بیماری یا عارضہ کی وجہ سے آنے والا خون ہے نہ کہ حیض۔
•خون نکلنے سے مراد حقیقتا ہر وقت مسلسل خون نکلنا نہیں ہے بل کہ درمیان میں خالی وقفہ بھی حکما خون ہی شمار ہوتا ہے۔
• تعریف میں “ایاس” (سن یاس) کی قید ذکر نہیں کی گئی کیونکہ اس کی تعیین میں فقہاء کا اختلاف ہے، اس لیے اسے حد میں شامل نہیں کیا گیا۔
• دبر (مقعد) سے نکلنے والا خون حیض نہیں، البتہ اس کے بند ہونے پر غسل کرنا مستحب ہے اور احتیاطاً شوہر کے لیے مباشرت سے رکنا بہتر ہے۔
• “عورت کے رحم” کی قید سے غیر انسانی خون بھی خارج ہوگیا، کیونکہ حیض خاص عورت کے رحم کے خون کا نام ہے۔
• “بیماری نہ ہونا” سے مراد رحم کی بیماری ہے، نہ کہ عورت کے جسم کی عام بیماری؛ کیونکہ استحاضہ رگ کا خون ہے جس کا رحم سے تعلق نہیں ہوتا[28]۔
رکن:
حیض کا رکن یہ ہے کہ خون رحم سے نکل کر فرجِ داخل سے گزر کر فرجِ خارج تک اس طرح پہنچ جائے کہ اس کے اور فرجِ خارج کے درمیان کوئی حائل (مانع) باقی نہ رہے۔
توضیح:
اس کا حاصل یہ ہے کہ شریعت نے حیض کے تحقق کے لیے “محض وجودِ خون” کو معیار نہیں بنایا، بلکہ “خروجِ خون إلى الخارج” کو اصل مدار قرار دیا ہے۔ یعنی جب تک خون اس مرحلے تک نہ پہنچ جائے جہاں اسے عرفاً “باہر آنا” کہا جا سکے، اس وقت تک احکامِ حیض جاری نہیں ہوتے۔
یہاں تین مراتب قابلِ فہم ہیں:
- رحم کے اندر خون کا ہونا:
یہ طبی و داخلی کیفیت ہے، اس پر حیض کا حکم نہیں لگتا۔
- فرجِ داخل تک خون کا آنا:
یہ بھی کافی نہیں، کیونکہ یہ ابھی اندرونی مرحلہ ہے اور خروج متحقق نہیں ہوا۔
- فرجِ خارج تک پہنچ جانا (بلا حائل):
یہی وہ حد ہے جہاں شرعاً حیض کا تحقق ہوتا ہے، کیونکہ اب خون نے داخلی راستہ طے کر کے ظاہری محل تک رسائی حاصل کر لی ہے۔
“بلا حائل” کی قید اس لیے ضروری ہے کہ اگر درمیان میں کوئی مانع موجود ہو (جیسے کرسُف وغیرہ) تو خون کا اتصال فرجِ خارج سے مکمل نہیں ہوتا، اس لیے حکمِ حیض بھی مؤخر رہتا ہے۔
- اگر روئی (کرسُف) اندر رکھی ہو اور اس کی نمی یا اثر صرف اندرونی فرج کے کنارے تک پہنچ جائے تو اس سے حیض یا نفاس کا حکم بالاتفاق ثابت نہیں ہوگا، کیونکہ ابھی خروج إلى الفرج الخارج متحقق نہیں ہوا۔
- البتہ اگر خون یا اس کی واضح علامت روئی کے اس حصے تک پہنچ جائے جو فرجِ خارج سے متصل ہے اور کوئی حائل باقی نہ رہے تو پھر حیض ثابت ہوگا، کیونکہ اس صورت میں خروج مکمل ہو گیا۔
- اگر خون اندر ہی اندر رہے اور باہر کی حد تک ظاہر نہ ہو تو ظاہر الروایہ کے مطابق وہ حیض میں داخل نہیں۔
- یہی ضابطہ حدثِ بول (پیشاب) میں بھی معتبر ہے کہ حکم اسی وقت لگتا ہے جب خروج کی حد تک پہنچ جائے[29]۔
شرائط :
- حیض کے تحقق کے لیے شرط یہ ہے کہ اس سے پہلے کامل طہر (پندرہ دن کم ازکم) حقیقۃ یا حکما گذر چکا ہو
- خون تین دن سے کم یا دس دن سے زائد نہ ہو
- نوسال کی عمر کے بعد آیا ہو
- اس کا رحم ایسے حمل سے خالی ہو جس میں ولادت سے نفاس کا تحقق ہو، یعنی بچہ کے اعضاء بن گئے ہوں۔
فوائد:
- خون کے لیے نصابِ طہر یعنی پندرہ دن کا گزرنا شرط ہے، لہذا اگر پچھلے حیض سے پندردہ گزرنے سے پہلے آگیا تو وہ حیض نہیں، استحاضہ کہلائے گا۔
- خون آنے سے مراد مسلسل خون آنا شرط نہیں ہے، بلکہ مدت حیض میں جوبھی خون آئے خواہ ایک دو قطرہ ہو یازیادہ، رک رک کر ہو یا مسلسل سبھی کو حیض شمار کیا جائے گا۔
- اگر کسی کو تین دن خون آیا، پھر اس کے پندرہ دن کے بعد خون آیا تو دونوں خون اپنے اپنے وقت میں حیض شمار کیے جائیں گے۔
- اگر کسی کو دو دن خون آنے کے بعد بند ہوگیا اور وقفہ پندرہ دن کا گزرگیا اس کے بعد خون آیا تو یہ پورے ایام خون کے شمار ہوں گے۔ اب اگر وہ عورت مبتدئہ (پہلی بار جسے خون آیا ہو) ہے تو ابتدائی دس دن حیض کے شمار ہوں گے اور بقیہ استحاضہ کے۔ اور اگر معتادہ (پہلے سے جسے خون آتا ہو) تو عادت کے بقدر ایام حیض کے شمار ہوں گے۔ بقیہ استحاضہ۔
- مدت کے اعتبار سے خون کا کم از کم مقدارِ حیض یعنی تین دن سے کم نہ ہونا ضروری ہے، اس سے کم ہو تو حیض شمار نہیں ہوگا۔
- حیض کا دس دن سے متجاوز نہ ہونا بھی شرط ہے، پس اگر کسی کو گیارہ یا بارہ دن خون آئے تو اگر وہ مبتدئہ (جسے پہلی بار خون آیا ہو) تو دس دن حیض کے شمار ہوں گے، اور اگر وہ معتادہ (پہلے سے خون آنے کے خاص دن طے ہیں) تو جتنے دن حیض اسے حیض آتے ہیں وہ حیض شمار ہوں گے، مثلااس کی عادت سات دن کی ہے، اور اسے خون بارہ دن آیا ہے تو سات دن حیض کے اور پانچ دن استحاضہ کے شمار ہوں گے۔
- جس عورت کے حیض کے دن کی عادت ہے اس کا خون اس سے زیادہ دنوں تک آئے مگر دس دن سے متجاوز نہ ہو تویوں مانا جائے گا عادت بدل گئی ۔ مثلا کسی کی عادت سات دن کی تھی اور اس مہینہ اسے نو دن خون آیا تو نو دن حیض کے ایام شمار ہوں گے۔ کیوں کہ اکثر سے متجاو ز نہیں ہوئی۔
- صغر (نو سال سے کم عمر) مانع ہے، اس لیے نو سال سے پہلے دیکھا گیا خون حیض نہیں؛ بلوغ کی کم از کم مدت نو سال قرار دی گئی اور اسی پر فتویٰ ہے۔
- اگر مبتدئہ (جسے پہلی مرتبہ خون آیا) ایسی عمر میں دیکھے جس میں بلوغ کا حکم لگ سکتا ہے تو اکثر مشایخ کے نزدیک فوراً نماز و روزہ ترک کرے گی، جبکہ امام ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ تین دن جاری رہنے کے بعد ترک کرے؛ مگر مفتی بہ قول پہلا ہے۔
- رحم کا حمل سے خالی ہونا شرط ہے، اس لیے حاملہ عورت حیض نہیں دیکھتی؛ البتہ اگر حمل ساقط ہوجائے اور بچہ کی خلقت ظاہر نہ ہوئی ہو یعنی اعضاء بالکل نہ بنے ہوں تو جو خون آئے تو اگر حیض کے شرائط پائے جائیں تو حیض شمار ہوگا، ورنہ استحاضہ۔
- اور اگر کچھ اعضاء جیسے انگلی، بال، ناخن وغیرہ بن گئے ہوں تو نفاس شمار ہوگا۔ اور نفاس کا حکم بھی حیض کے مانند ہے۔
- حیض کا وقت سنِ ایاس تک ہے؛ اکثر مشایخ نے ساٹھ سال، بخارا و خوارزم کے مشایخ نے پچپن سال قرار دیا ہے۔
- ایاس کے بعد آنے والا خون ظاہر مذہب میں حیض نہیں؛ البتہ اگر پچاس سے پہلے یا اس کے قریب قوی رنگ (گہرا سرخ یا سیاہ) ہو تو حیض سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ زرد، سبز یا مٹیالا خون استحاضہ ہے۔
- ایاس کا حکم قاضی کے فیصلے پر موقوف نہیں؛ مقررہ عمر کو پہنچتے ہی عورت ایاس والی شمار ہوگی اور عدت مہینوں سے گزارے گی۔
- ایاس کے بعد دوبارہ خالص خون آنے سے آئندہ کے لیے ایاس کا حکم ٹوٹ سکتا ہے، لیکن ماضی کے نکاح وغیرہ پر اس کا اثر نہیں پڑتا۔
حیض کے احکام:
حیض کے احکام مختلف ابواب سے متعلق ہیں اس لیے درج ذیل سطور میں اس کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے۔
عبادات سے متعلق
- اگر عورت حائضہ ہو جائے تو اس سے فرض، واجب، سنت اور نفل سب قسم کی نمازیں ساقط ہو جائیں گی، حتیٰ کہ سجدۂ شکر بھی جائز نہیں ہوگا۔
- حیض کی حالت میں روزہ رکھنا جائز نہیں، لہٰذا رمضان یا نذر وغیرہ کا روزہ اس حالت میں ادا نہیں ہو سکتا۔
- حیض کی وجہ سے فوت شدہ نمازوں کی قضا واجب نہیں ہوگی، کیونکہ اس میں شدید حرج ہے۔
- حیض کی وجہ سے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہوگی، کیونکہ شریعت نے روزوں کی قضا کا حکم دیا ہے۔
- اگر عورت نے نفلی نماز یا نفلی روزہ شروع کر لیا ہو اور دورانِ عبادت حیض آ جائے تو اس نفلی عبادت کی قضا لازم ہوگی۔
مسجد اور طواف سے متعلق
- حائضہ کے لیے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں۔
- حائضہ کے لیے طواف کرنا جائز نہیں، خواہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد طواف شروع کر چکی ہو۔
- عیدگاہ (مصلیٰ عید) میں داخل ہونا جائز ہے، کیونکہ اس کا حکم مسجد کا نہیں۔
قرآنِ کریم سے متعلق
- حائضہ کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت بہ نیتِ قرآن جائز نہیں۔
- حائضہ کے لیے قرآنِ کریم کو چھونا جائز نہیں، خواہ وہ عربی میں ہو یا فارسی وغیرہ زبان میں لکھا ہوا ہو۔
- قرآنِ کریم کو ایسے غلاف کے ساتھ چھونا جائز ہے جو اس سے جدا ہو۔
- حائضہ کے لیے قرآنِ کریم یا اس کے اوراق و لوح کو اٹھانا بھی جائز نہیں۔
- دعا، اذکار، تسبیحات اور مسنون دعاؤں کا پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ تلاوتِ قرآن کی نیت نہ ہو۔
- اللہ تعالیٰ کا ذکر، تسبیح اور دیگر مشروع اذکار حائضہ کے لیے جائز ہیں۔
ازدواجی احکام
- حیض کی حالت میں جماع (ہم بستری) حرام ہے۔
- ناف سے گھٹنے تک کے حصے سے بلا حائل استمتاع (براہِ راست لطف اندوزی) جائز نہیں خلافا لمحمد۔
- ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے کے اعضاء سے استمتاع جائز ہے۔
- حیض ختم ہونے کے بعد اگر خون اپنی اکثر مدت (دس دن) پر بند ہوا ہو تو غسل سے پہلے بھی وطی جائز ہو جاتی ہے، اگرچہ غسل کر لینا بہتر ہے۔
- اگر خون کم از کم مدتِ حیض (تین دن) پر بند ہوا ہو اور یہ اس کی عادت کے مطابق ہو تو مسلمان عورت کے حق میں غسل یا اس کے قائم مقام شرط کے بغیر وطی جائز نہیں ہوگی۔
- اگر حیض عادت سے پہلے ختم ہو جائے تو غسل کے باوجود بھی عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے وطی جائز نہیں ہوگی۔
طہر اور غسل سے متعلق
- اگر حیض ختم ہو جائے تو عورت غسل کر کے نماز اور روزہ شروع کرے گی۔
- اگر غسل نہ کیا ہو تو بعض صورتوں میں اتنا وقت گزر جانا کافی ہوگا جس میں غسل، کپڑے پہننا اور نماز کی تکبیرِ تحریمہ ادا کرنا ممکن ہو۔
- اگر حیض اپنی اکثر مدت (دس دن) پر ختم ہوا ہو تو غسل کا زمانہ طہر میں شمار ہوگا۔
- اگر حیض اکثر مدت سے پہلے ختم ہوا ہو تو غسل کا وقت حیض کے حکم میں شمار کیا جائے گا۔
کھانے پینے اور طہارت سے متعلق
- حائضہ کے لیے کھانا پینا جائز ہے۔
- حائضہ کے لیے اللہ کا ذکر، تسبیح اور دعائیں پڑھنا جائز ہے۔
- قبروں کی زیارت کرنا جائز ہے۔
- حائضہ کے لیے کھانے پینے سے پہلے کلی کرنا یا ہاتھ دھونا مستحب ہے، لیکن اس کے ترک پر کراہت نہیں، برخلاف جنب کے بعض احکام کے۔
احتیاطی تفریع
- اگر عورت رات کو پاک سوئی اور صبح بیدار ہونے پر خود کو حائضہ پائے تو احتیاطاً حیض کا حکم بیدار ہونے کے وقت سے لگایا جائے گا۔
- اور اگر رات کو حائضہ سوئی اور صبح پاک بیدار ہوئی تو احتیاطاً طہر کا حکم سونے کے وقت سے شمار کیا جائے گا[30]۔
ضابطہ: دو حیضوں کے درمیان طہر (پاکی) کے معتبر ہونے کے لیے کم از کم پندرہ دن اور راتوں کا مکمل وقفہ شرط ہے، اور اس سے کم مدت کا طہر شرعاً معتبر فاصل (مُفَرِّق) نہیں ہوتا؛ ۔نفاس میں اکثرنفاس (پندرہ دن) گزرنے کے بعد (دونوں خونوں کے درمیان) کم ازکم پندرہ دن کا وقفہ طہر کے معتبر ہونے کے لیے شرط ہے۔ اور اکثر نفاس (چالیس دن) کے اندر دو خونوں کے درمیان جو بھی پاکی ہووہ نفاس ہی مانی جائے گی، چاہے پندرہ دن سے متجاوز ہو۔
تفریعات:
- اگر دو حیضوں کے درمیان یا کامل المدۃ نفاس و حیض کے درمیان طہر کی مدت 15 دن سے کم ہو تو وہ شرعاً فاصل (مُفَرِّق) نہیں ہوگا، لہٰذا اسے مستقل طہر شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ احکام میں اتصال یا تقدیرِ عادت کا اعتبار ہوگا۔
- اگر طہر 15 دن یا اس سے زیادہ ہو جائے تو وہ معتبر فاصل ہے، اس صورت میں دونوں خون الگ الگ شمار ہوں گے، اور ہر ایک پر مستقل حکمِ حیض یا نفاس جاری ہوگا۔یعنی اگر ہر ایک کو حیض شمار کیا جاسکتا ہو تو ہر ایک کو حیض شمار کیا جائے گا اور اگر کسی ایک کو حیض شمار کیا جاسکتا ہو تو اسے حیض اور باقی کو استحاضہ شمار کیا جائے گا۔
- اگر طہر متخلل ہو اور 10 دن یا اس سے کم مدت میں خون منقطع و متصل ہوتا رہے تو مبتدأہ (جس کی پہلی بار کیفیت ہو) کے حق میں کل مدت (طہر و دم دونوں) ایک ہی حیض شمار ہوگا، کیونکہ اس میں فصلِ معتبر ثابت نہیں ہوا۔
- اگر یہی صورت معتادہ (جس کی عادت معلوم ہو) میں پیش آئے تو اس کی معروف عادت کے مطابق ایامِ حیض کو حیض اور باقی کو طہر شمار کیا جائے گا، اور طہر و دم میں تمییز عادت کی بنیاد پر ہوگی۔
- اگر طہر متخلل ہو اور 11 سے 14 دن (مثلاً بارہ یا تیرہ دن) ہو تو وہ بھی معتبر فاصل نہیں ہوگا، لہٰذا اسے مستقل طہر شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ سابق و لاحق خون کے درمیان اتصال کا حکم باقی رہے گا، پس مبتدأۃ کے لیے دس دن حیض شمار ہوں گے باقی استحاضہ اور معتادہ کے لیے عادت کے بقدر ایام حیض اور بقیہ استحاضہ شمار ہوں گے۔
- اگر عورت مستمر الدم ہو جائے اور طہر و حیض کی تمیز متعذر ہو جائے تو تقدیرِ عادت کی طرف رجوع کیا جائے گا، اور آسانی کے لیے ہر ماہ کے ایام کو مقرر کر کے (مثلاً دس دن حیض اور باقی طہر) احکام جاری کیے جائیں گے۔
- اگر طہر اور خون کے درمیان اشتباہ ہو مگر مجموعی مدت دس دن سے زائد نہ ہو تو مبتدأہ کے حق میں دونوں کو ایک ہی حیض شمار کرنے کی گنجائش ہوگی، اور اگر عادت موجود ہو تو عادت کے مطابق تفریق کی جائے گی۔
- اگر عورت کو شک ہو کہ طہر واقعی معتبر فاصل تھا یا نہیں، لیکن ظاہری حالت میں کسی یقینی معیار (15 دن یا عادت) کی مخالفت ثابت نہ ہو تو اصل یہی ہے کہ طہر کو معتبر مانا جائے گا، کیونکہ شک سے حکمِ طہارت ختم نہیں ہوتا۔
- اگر طہر کا وقفہ کم ہو لیکن بار بار اس طرح کا تسلسل ہو جائے کہ تمیز دشوار ہو جائے تو فقہی سہولت کے اصول کے تحت متأخرین کے مختار قول (عدمِ فصلِ کمتر از 15 دن) پر عمل کیا جائے گا، تاکہ فتویٰ میں آسانی رہے۔
ضابطہ: طہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد نہیں ہے، اگرچہ وہ پوری عمر پر محیط ہو جائے؛ البتہ بعض مخصوص حالات میں—جیسے استمرارِ خون اور عادت کے تعین کی ضرورت—اس کی تقدیر (حد بندی) کی جاتی ہے، اور بعض فروع میں عدت وغیرہ کے باب میں دو ماہ یا دیگر تقدیری انداز اختیار کیے جاتے ہیں[31]۔
تشریح:
اس ضابطے کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ شریعت نے حیض و نفاس کے درمیان “فصل” کے لیے ایک معین کم از کم حد (15 دن) مقرر کی ہے، تاکہ دو خونوں کے درمیان تمییز قائم رہے۔اس سے کم وقفہ ہو تو وہ حقیقی طہر شمار نہیں ہوتا بلکہ فقہی تعبیر میں اسے ’’غیر معتبر فاصل‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا اثر یہ ہے کہ:دو خونوں کو الگ الگ حیض شمار نہیں کیا جائے گا (تفصیل عادت یا تقدیر پر موقوف ہوتی ہے)
اور دوسری طرف شریعت نے طہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں کی، یعنی ممکن ہے عورت پوری زندگی پاک رہے اور دوبارہ خون نہ دیکھے، اس صورت میں:وہ ہمیشہ طاہر شمار ہوگی نماز، روزہ اور دیگر احکام جاری رہیں گے اور اس کی عدت بھی (اگر نکاح ختم ہو) مہینوں کے حساب سے پوری ہوگی ۔
البتہ بعض خاص حالات میں—خصوصاً جب عورت مستمر الدم یا محیّرہ ہو—تو فقہاء نے نظم قائم کرنے کے لیے تقدیری عادت مقرر کی، جیسے:
- ہر ماہ 10 دن حیض اور 20 دن طہر ۔یا بعض اقوال میں عدت وغیرہ کے باب میں دو ماہ کی حد ۔
تفریعات:
- اگر کسی عورت کو ابتداء سے بالکل خون ہی نہ آیا ہو وہ عمر کے ذریعہ بالغ ہوئی ہو تو وہ پاک سمجھی جائے گی اور نمازروزہ ادا کرے گی۔اور عدت مہینوں سے شمار کرے گی۔
- اگر کسی عورت کو تین دن سے کم خون آکر ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
- اگر کسی عورت کو تین دن یا زائد خون آکر ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے، صرف عدت کے مسئلہ میں اتنا فرق ہےکہ اگر سن ایاس سے قبل اسے خون آجاتا ہے تو عدت حیض سے شمار کرے گی ورنہ مہینوں سے۔
- اگر عورت کو استمرارِ خون کی وجہ سے عادت مقرر کرنی پڑے تو ہر ماہ کے لیے تقدیری تقسیم کی جائے گی، جیسے بعض فقہاء کے نزدیک 10 دن حیض اور 20 دن طہر، تاکہ عبادات اور عدت وغیرہ کے احکام منظم رہیں۔
- اگر عورت مبتدأہ ہو اور خون مسلسل ہو جائے تو اس کے حق میں دس دن حیض اور بیس دن پاکی کے شمار ہوں گے،اس کے بعد حیض و طہر کا سلسلہ اسی طرز پر معتبر ہوگا۔ اسی طرح نفاس کے باب میں چالیس دن نفاس اور بیس دن پاکی کے شمارہوں گے۔
- اگر عورت معتادہ ہو اس کو اس کی سابقہ عادت کی طرف لوٹایا جائے گا، یعنی: حیض و طہر دونوں میں اس کی سابقہ مقدار معتبر ہوگی جب تک طہر کی مقدار چھ ماہ سے کم ہو تو اس کی عادت ہی معتبر رہے گی
- اور اگر طہر بہت زیادہ ہو جائے (مثلاً چھ ماہ یا اس سے زیادہ) تو عدت کے باب میں اکثر فقہاء کے بقول اس کا طہر ایک گھڑی کم چھ ماہ ہوگا اور بعض کے بقول دو ماہ۔
- اگر عورت معتادہ ہو اور اس کا طہر غیر منضبط ہو جائے تو اسے اپنی سابقہ عادت کی طرف لوٹایا جائے گا، اور طہر عام احکام (نماز و طہارت وغیرہ) میں معتبر رہے گا۔ اور اگر اسے اپنی عادت یاد نہ ہو تو اس کا ذکر اگلے قاعدے میں آرہا ہے[32]۔
ضابطہ (متحیرہ جس کو مسلسل خون جاری ہوگیا ہو کی بابت)
متحیرہ (جس عورت کی حیض کی سابقہ عادت ہو پھر وہ اپنی عادت کا عدد، یا وقت، یا دونوں بھول جائے) کے لیے جب حیض و طہر کی تعیین یقینی طور پر ممکن نہ رہے تو وہ تحری (غالب گمان) اور احتیاط پر عمل کرے گی۔ چنانچہ جہاں طہر کا یقین ہو وہاں طہر کے احکام جاری ہوں گے، جہاں حیض کا یقین ہو وہاں حیض کے احکام، اور جہاں اشتباہ ہو وہاں احتیاط اختیار کی جائے گی۔ اور اگر کوئی راجح گمان بھی نہ ہو تو کسی وقت کو یقینی طور پر حیض یا طہر قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ احکام میں احتیاط کو بنیاد بنایا جائے گا۔ البتہ عدت کے باب میں اس کے حیض کو دس دن اور طہر کو دو ماہ مقرر کیا جائے گا، اور اسی پر فتویٰ ہے۔
تفریعات :
عددِ عادت بھول جانے کی صورت
- اگر عورت اپنی عادت کے دنوں کی تعداد بھول جائے لیکن یہ جانتی ہو کہ ہر مہینے ایک مرتبہ حیض آتا تھا، تو استمرارِ خون کی صورت میں پہلے تین دن نماز چھوڑے گی، کیونکہ ان میں حیض کا یقین ہے۔
- اس کے بعد سات دن ہر نماز کے لیے غسل کرے گی، کیونکہ ان دنوں میں حیض، طہر اور خروجِ حیض تینوں کا احتمال موجود ہے۔
- پھر بیس دن ہر نماز کے وقت وضو کرے گی، کیونکہ ان دنوں میں طہر کا یقین ہے۔
- ان بیس دنوں میں اس کا شوہر اس سے ازدواجی تعلق قائم کر سکتا ہے، کیونکہ یہ ایام طہر کے متیقن ایام ہیں۔
وقتِ عادت (مکان) بھول جانے کی صورت:
- اگر عورت کو حیض کے دنوں کی تعداد تو یاد ہو، مثلاً تین دن، لیکن مہینے میں ان کا وقت یاد نہ ہو تو مہینے کے ابتدائی تین دن ہر نماز کے وقت وضو کر کے نماز ادا کرے گی، کیونکہ ان دنوں میں حیض و طہر دونوں کا احتمال ہے۔
- اس کے بعد ستائیس دن ہر نماز کے لیے غسل کرے گی، کیونکہ ہر وقت حیض سے خروج کا احتمال قائم رہتا ہے۔
عدد اور وقت دونوں بھول جانے کی صورت:
- اگر عورت عدد اور وقت دونوں بھول جائے تو جب کسی وقت طہر کا یقین ہو تو نماز پڑھے گی، روزہ رکھے گی اور اس سے وطی جائز ہوگی۔
- جب کسی وقت حیض کا یقین ہو تو نماز، روزہ اور وطی ترک کرے گی۔
- اگر کسی وقت یہ تردد ہو کہ یہ حیض ہے یا طہر، تو وہ تحری کرے گی اور اپنے غالب گمان پر عمل کرے گی۔
- اگر کوئی غالب گمان حاصل نہ ہو تو ہر نماز کے لیے غسل کرے گی، کیونکہ ہر وقت حیض سے خروج کا احتمال موجود ہے۔
- اگر اشتباہ مسلسل قائم رہے اور کوئی رائے قائم نہ ہو سکے تو صحیح قول کے مطابق ہر نماز کے لیے غسل کرنا لازم ہوگا۔
عبادات کے احکام
- اگر متحیّرہ کے لیے حیض و طہر کی تعیین ممکن نہ ہو تو وہ فرائض، واجبات اور سننِ مؤکدہ ادا کرے گی۔
- وہ نوافل ادا نہیں کرے گی، کیونکہ ان میں احتیاط ترکِ نفل میں ہے۔
- نماز میں بقدرِ فرض قرآن پڑھے گی، اور واجب مقدارِ قراءت بھی ادا کرے گی۔
- راجح قول کے مطابق فرض نمازوں کی آخری دو رکعتوں میں بھی قراءت کرے گی۔
مسجد، قرآن اور وطی کے احکام
- متحیّرہ مسجد میں داخل نہیں ہوگی۔
- نماز کے علاوہ قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرے گی۔
- قرآن مجید کو ہاتھ نہیں لگائے گی۔
- راجح قول کے مطابق محض تحری اور غالب گمان کی بنیاد پر اس سے وطی جائز نہیں ہوگی۔
رمضان کے روزوں کا حکم:
- متحیّرہ رمضان کے تمام روزے رکھے گی۔
- بعد میں احتیاطاً ان روزوں کی قضا کرے گی جتنے دنوں کے فاسد ہونے کا احتمال ہو۔
- اگر اسے معلوم ہو کہ اس کا حیض رات سے شروع ہوتا تھا تو بیس دن کی قضا کرے گی۔
- اگر معلوم ہو کہ حیض دن میں شروع ہوتا تھا تو بائیس دن کی قضا کرے گی۔
- اگر یہ بھی معلوم نہ ہو کہ حیض رات میں شروع ہوتا تھا یا دن میں، تو اکثر مشائخ کے نزدیک بیس دن کی قضا کافی ہے۔
وضو اور غسل کا ضابطہ
- اگر عورت کو تردد ہو کہ وہ طہر میں ہے یا حیض کے شروع ہونے میں، تو ہر نماز کے وقت وضو کرے گی۔
- اگر تردد طہر اور حیض سے خروج کے درمیان ہو تو ہر نماز کے لیے غسل کرے گی۔
طواف کا حکم
- متحیّرہ رکنِ طواف ادا کر سکتی ہے، لیکن احتیاطاً دس دن بعد اس کا اعادہ کرے گی۔
- طوافِ صدر (وداع) کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔
عدت کا حکم
- متحیّرہ کی عدت کے باب میں دس دن حیض اور دو ماہ طہر مقرر کیا جائے گا۔
- اسی بنا پر طلاق کی عدت سات ماہ شمار کی جائے گی، اور یہی مفتیٰ بہ قول ہے۔
خلاصہ یہ کہمتحیّرہ کے حق میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ جہاں یقین ہو وہاں یقین پر عمل کیا جائے، جہاں غالب گمان ہو وہاں تحری پر، اور جہاں نہ یقین ہو نہ غالب گمان، وہاں احتیاط کو اختیار کیا جائے[33]۔
ضابطہ: مدتِ حیض و نفاس کے اندر خون کے درمیان آنے والی پاکی (طہرِ متخلل) حیض ہی کے حکم میں شمار ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر مدتِ حیض کے اندر ابتدا اور انتہا میں خون پایا جائے اور درمیان میں طہر واقع ہو، تو یہ طہر مستقل طہر نہیں بلکہ حیض کا حصہ شمار ہوگا۔ البتہ یہ حکم اسی وقت ہے جب دونوں خون مدتِ حیض کے اندر واقع ہوں، اور اگر خون کا کوئی حصہ مدتِ حیض سے خارج ہو تو طہرِ متخلل کو حیض قرار نہیں دیا جائے گا۔
تفریعات :
- اگر عورت مدتِ حیض کے اندر چند دن خون دیکھے، پھر چند دن پاکی رہے، پھر دوبارہ خون دیکھے، اور ابتدائی و آخری دونوں خون مدتِ حیض کے اندر ہوں، تو درمیانی پاکی بھی حیض شمار ہوگی اور پوری مدت کو حیض کا حکم دیا جائے گا۔
- اگر خون نے مدتِ حیض کے اندر طہر کو گھیر رکھا ہو، یعنی ابتدا اور انتہا میں خون ہو اور درمیان میں پاکی، تو یہ صورت مسلسل خون کے حکم میں ہوگی، اور طہرِ متخلل حیض شمار ہوگا۔
- اگر عورت ایک دن خون دیکھے، پھر نو دن پاکی رہے، پھر ایک دن خون دیکھے، اور دوسرا خون مدتِ حیض سے باہر واقع ہو، تو یہ حیض نہیں ہوگا، کیونکہ آخری خون مدتِ حیض کے اندر موجود نہیں۔
- اگر خون کے دو حصوں میں سے ایک حصہ مدتِ حیض کے اندر اور دوسرا اس سے باہر ہو تو درمیانی طہر کو حیض قرار نہیں دیا جائے گا، کیونکہ طہرِ متخلل کے حیض ہونے کے لیے دونوں طرف کا خون مدتِ حیض میں ہونا ضروری ہے۔
- جس طرح حیض میں مدتِ حیض کے اندر طہرِ متخلل حیض شمار ہوتا ہے، اسی طرح نفاس میں بھی مدتِ نفاس کے اندر خون کے درمیان آنے والی پاکی نفاس کے حکم میں شمار کی جائے گ ہے[34]۔
ضابطہ: مدت حیض میں خالص سفیدی کا علاوہ جوبھی رنگ نظر آئے وہ حیض کا ہی خون شمار ہوگا۔
حیض کی مدت کے اندر لال، کالا، مٹیالا، پیلا جس بھی رنگ کا نظر آئے وہ سب حیض ہی شمار ہوگا، ہاں خالص سفیدی نظر آئے تو اسے حیض نہیں مانا جائے گا۔ اس میں اعتبار دیکھنے کے وقت کی حالت کا ہے، تغیر کے بعد کا نہیں مثلا: اگر کسی نے سفیدی دیکھی اور سوکھنے کی وجہ سے زردی آگئی تو اسے حیض نہیں شمار کیا جائےگا، یا زردی اور سرخی دیکھی اور سوکھنے کی وجہ سے سفیدی میں تبدیل ہوگئی تو اسے پاکی نہیں شمار کیا جائے گا۔ یہ مسئلہ حیض اور نفاس کی مدت کے اندر کا ہے، مدت حیض اور نفاس کے باہر اگر کوئی بھی رنگ نظر آئے اسے حیض یا نفاس شمار نہیں کیا جائے گا[35]۔
نفاس کی تعریف:
نفاس عورت کی فرج سے نکلنے والے اس خون کو کہتے ہیں جو مکمل ولادت یا ایسے اسقاط کے بعد ظاہر ہو جس میں جنین کے اعضاء میں سے کوئی عضو (جیسے انگلی، ناخن یا بال) نمایاں ہو چکا ہو، بشرطیکہ ولادت کا اکثر حصہ خارج ہو چکا ہو ا۔
فوائد قیود :
- نفاس کے تحقق کے لیے صرف ولادت کافی نہیں، بلکہ خون کا پایا جانا بھی ضروری ہے؛ لہٰذا اگر عورت نے ولادت کی مگر خون بالکل نہ دیکھا تو حقیقتِ نفاس ثابت نہیں ہوگی، اگرچہ غسل کے وجوب میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے۔
- اکثرِ ولد (بچے کے زیادہ حصے) کے خروج سے پہلے آنے والا خون نفاس نہیں ہوتا؛ لہٰذا جب تک بچے کا اکثر حصہ خارج نہ ہو جائے، عورت نفساء شمار نہیں ہوگی۔
- اگر بچے کا اکثر حصہ خارج ہونے کے بعد خون ظاہر ہو تو نفاس ثابت ہو جائے گا، خواہ بعد میں باقی حصہ خارج ہو۔
- اکثر حصہ خواہ سالم نکلے یا ٹکڑوں ٹکڑوں میں کٹ کٹ کر گرے اسے نفاس شمار کیا جائے گا۔
- سقط (حمل گرنے) کی صورت میں اگر جنین کا کوئی عضو، جیسے انگلی، ناخن یا بال ظاہر ہو چکا ہو تو وہ ولادت کے حکم میں ہے، اور اس کے بعد آنے والا خون نفاس شمار ہوگا۔
- اگر ساقط ہونے والے حمل میں کسی عضو کا ظہور نہ ہوا ہو تو نفاس ثابت نہیں ہوگا؛ پھر اگر خون حیض بننے کی صلاحیت رکھتا ہو تو حیض شمار کیا جائے گا، ورنہ استحاضہ ہوگا۔
- اگر عورت کو سقط سے پہلے بھی خون آیا ہو اور بعد میں بھی، تو اگر ساقط شدہ جنین مستبین الخلق تھا تو سقط سے پہلے کا خون نفاس نہیں ہوگا، بلکہ نفاس صرف سقط کے بعد والے خون میں ثابت ہوگا۔
- اگر بچہ غیر معمولی راستے (مثلاً پیٹ کے شگاف) سے خارج ہو تو عورت نفساء نہیں بنے گی، کیونکہ نفاس کا تعلق فرج سے خارج ہونے والے خون کے ساتھ ہے۔
- البتہ اگر ایسے غیر معمولی طریقۂ ولادت کے بعد فرج سے خون خارج ہو جائے تو وہ خون نفاس شمار ہوگا۔
ضابطہ: نفاس کی کم سے کم کوئی حد نہیں، زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہے، دو نفاس کے درمیان کم ازکم چھ ماہ کا فصل ضروری ہے، مدت نفاس کے درمیان نظر آنے والی پاکی بھی نفاس کے حکم میں کہلائے گی۔
- دو بچوں کے درمیان اگر چھ ماہ سے کم وقفہ ہو تو وہ ایک ہی حمل اور ایک ہی نفاس شمار ہوگا۔
- جڑواں بچوں (توأمین) کی صورت میں نفاس کا شمار پہلے بچے کی ولادت سے شروع ہوگا، کیونکہ دونوں کو ایک ہی حمل تصور کیا جاتا ہے۔
- اگر دو بچوں کے درمیان چھ ماہ یا اس سے زیادہ وقفہ ہو تو وہ دو مستقل حمل اور دو مستقل نفاس شمار ہوں گے۔
- اگر تین بچوں کی ولادت اس طرح ہو کہ پہلے اور دوسرے کے درمیان، اور دوسرے اور تیسرے کے درمیان چھ ماہ سے کم وقفہ ہو، اگرچہ پہلے اور تیسرے کے درمیان چھ ماہ سے زیادہ ہو، تب بھی صحیح قول کے مطابق وہ ایک ہی حمل شمار ہوگا۔
- نفاس کی کم از کم کوئی مقرر مدت نہیں؛ لہٰذا اگر ولادت کے بعد ایک لمحہ یا ایک ساعت کے لیے بھی خون آ جائے تو نفاس ثابت ہو جائے گا۔
- نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اس سے زائد خون اصل میں نفاس نہیں شمار ہوگا۔
- مبتدأہ (جس کی نفاس کی سابقہ عادت نہ ہو) اگر چالیس دن سے زیادہ خون دیکھے تو صرف پہلے چالیس دن نفاس شمار ہوں گے اور باقی استحاضہ ہوگا۔
- معتادہ (جس کی نفاس کی عادت مقرر ہو) اگر چالیس دن سے زائد خون دیکھے تو اس کی معروف عادت کے دن نفاس شمار ہوں گے، اور باقی استحاضہ ہوگا۔
- چالیس دن کے اندر دو خونوں کے درمیان آنے والی پاکی (طہرِ متخلل) نفاس ہی شمار ہوگی، اگرچہ وہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ہو۔
- لہٰذا نفاس کے چالیس دنوں کے اندر خون کا رک جانا عورت کو حکماً نفاس سے خارج نہیں کرتا، بلکہ بعد میں خون لوٹ آنے کی صورت میں درمیانی پاکی بھی نفاس میں شامل شمار کی جائے گی۔
- نفاس کی عادت ایک مرتبہ خلافِ عادت خون دیکھنے سے بھی بدل جاتی ہے، جیسا کہ امام ابو یوسفؒ کے نزدیک ایک ہی مرتبہ مخالف رؤیت سے عادت منتقل ہو جاتی ہے[36]۔
ضابطہ: نو سال یا اس سے زائد عمر کی عورت کے فرج سے نکلنے والا وہ خون جسے شرعی ضوابط کے مطابق حیض یا نفاس قرار نہ دیا جا سکے، استحاضہ کہلاتا ہے۔
تفریعات
- اگر نو سال سے کم عمر لڑکی کو خون آئے تو وہ نہ حیض شمار ہوگا، نہ استحاضہ، بل کہ دم ضائع کہلائے گا۔ کیوں کہ حیض یا استحاضہ کے لیے قابل بلوغ عمر (۹سال) ہونا شرط ہے۔
- اگر خون حیض کی کم از کم مدت (تین دن تین رات) سے کم رہے تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہوگا۔
- اگر خون حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت (دس دن) سے تجاوز کر جائے تو مبتدأہ کے حق میں دس دن کے بعد کا خون استحاضہ ہوگا۔
- اگر معتادہ عورت کا خون اس کی معتبر عادت سے تجاوز کر جائے تو عادت سے زائد حصہ استحاضہ شمار ہوگا۔
- اگر خون ایسے وقفۂ طہر کے بعد آئے جو پندرہ دن سے کم ہو اور شرائطِ حیض پوری نہ ہوں تو وہ استحاضہ ہوگا۔
- اگر سقط (حمل ساقط ہونے) کی صورت میں جنین کا کوئی عضو (انگلی، ناخن، بال وغیرہ) ظاہر نہ ہوا ہو تو اسقاط کے بعد آنے والا خون نفاس نہیں ہوگا؛ چنانچہ اگر حیض بن سکتا ہو تو حیض شمار ہوگا، ورنہ استحاضہ ہوگا۔
- اگر عورت ولادت سے پہلے خون دیکھے تو وہ نفاس نہیں ہوگا؛ لہٰذا اگر اس میں حیض کی شرائط موجود نہ ہوں تو استحاضہ شمار کیا جائے گا۔
- اگر ولادت کے بعد نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت (چالیس دن) گزر جائے تو اس کے بعد آنے والا خون استحاضہ ہوگا۔
- اگر مبتدأہ عورت کو نفاس کے بعد چالیس دن سے زائد خون جاری رہے تو چالیس دن کے بعد کا تمام خون استحاضہ شمار ہوگا۔
- اگر معتادہ عورت کا نفاس اس کی عادت سے بڑھ جائے تو عادت سے زائد خون استحاضہ ہوگا۔
- اگر بچہ پیٹ کے شگاف (زخم) سے پیدا ہو اور فرج سے نفاس کا خون خارج نہ ہو تو محض زخم سے خارج ہونے والا خون نفاس نہیں، بلکہ جرحِ سائل (بہتے زخم) کا حکم رکھے گا، نہ کہ نفاس کا۔اور استحاضہ بھی نہیں کہلائے گا، کیوں کہ استحاضہ فرج سے نکلنے والے خون کو ہی کہاجاتا ہے۔
- اگر متحیّرہ (جس نے اپنی عادت بھلا دی ہو) کے حق میں کسی خون کو یقینی طور پر حیض قرار دینا ممکن نہ ہو تو مشتبہ ایام میں اس پر مستحاضہ کے احکام جاری ہوں گے، یعنی وہ نماز ادا کرے گی اور طہارت کے احکام کی رعایت کرے گی۔
- اگر عورت کو خون مسلسل آتا رہے (استمرارِ دم) اور شرعی تقدیر کے مطابق بعض ایام حیض قرار دیے جائیں تو ان مقررہ ایامِ حیض کے علاوہ باقی ایام کا خون استحاضہ شمار ہوگا۔
- اگر مبتدأہ پر استمرارِ دم ہو جائے تو ہر مہینے کے مقررہ دس دن حیض اور باقی بیس دن استحاضہ کے حکم میں ہوں گے۔
- اگر معتادہ پر استمرارِ دم ہو تو اس کی عادت کے ایام حیض شمار ہوں گے اور باقی ایام استحاضہ ہوں گے۔
- مستحاضہ شرعاً طاہرہ کے حکم میں ہے؛ لہٰذا اس پر نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن، مسجد میں داخلہ اور دیگر عبادات واجب و جائز رہتی ہیں، البتہ طہارت کے متعلق مستحاضہ کے مخصوص احکام کی رعایت کرے گی۔
- استحاضہ کا خون حدث (ناقضِ وضو) ہے، مگر حیض و نفاس کی طرح مانعِ عبادت نہیں؛ اسی لیے مستحاضہ نماز، روزہ اور دیگر عبادات ادا کرتی ہے۔
خلاصہ
ہر وہ خون جو شرعی شرائط کے فقدان کی وجہ سے حیض یا نفاس نہ بن سکے، استحاضہ ہے؛ خواہ اس کا سبب مدت کی کمی ہو، مدت کی زیادتی ہو، عمر کا اعتبار نہ پایا جائے، نفاس کی شرائط مفقود ہوں، یا استمرارِ دم کی حالت میں مقررہ ایامِ حیض و نفاس سے زائد ہو۔
معذور کے احکام
معذور وہ ہے جس کا حدث ایک نماز کے پورے وقت میں اس درجہ جاری رہے کہ طہارت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی مہلت نہ ملے۔
ایک مرتبہ یہ حکم ثابت ہو جائے تو ہر وقت میں ایک بار عذر کا پایا جانا بقائے عذر کے لیے کافی ہے، اور ایک پورے وقت کا پاک گزر جانا زوالِ عذر کے لیے شرط ہے۔
اس کا بنیادی حکم یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے وقت نیا وضو کرے اور اس وقت کے اندر جتنی عبادات چاہے ادا کرے۔
فوائد قیود (تفریعات)
عذر کے مصادیق
استحاضہ، سلس البول (مسلسل پیشاب ٹپکنا)، استطلاقِ بطن (مسلسل دست آنا)، انفلاتِ ریح (بے اختیار ریح خارج ہونا)، دائمی نکسیر، ایسا زخم جس کا خون نہ رکتا ہو، آنکھ کا ایسا مرض جس سے مسلسل رطوبت بہتی ہو، یا کان، ناف، پستان اور دیگر اعضاء سے بیماری کے سبب مسلسل خارج ہونے والی رطوبت؛ یہ سب عذر شمار ہوتے ہیں، بشرطیکہ ان کا تسلسل اس درجے کا ہو کہ ایک پورے فرض نماز کے وقت میں حدث سے اتنا وقفہ بھی نہ ملے جس میں وضو کرکے نماز ادا کی جا سکے۔ ایسی صورت میں مبتلا شخص شرعاً صاحبِ عذر قرار پاتا ہے اور اس پر معذور کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
ثبوتِ عذر سے متعلق
- اگر خون یا کوئی اور حدث صرف نماز کے وقت کے بعض حصے میں پایا گیا اور بعد میں پورا وقت پاکی کے ساتھ گزر گیا تو معذور ثابت نہیں ہوگا۔
- اگر پہلے وقت میں حدث جاری رہا اور دوسرے وقت کے پورے عرصے میں بھی منقطع نہ ہوا تو معذوریت ثابت ہو جائے گی۔
- اگر کسی نے حدث کے جاری ہونے کی حالت میں وضو کرکے نماز پڑھی،اور نماز کا وقت باقی رہا، اس وقت میں عذر مکمل طور پر ختم ہوگیا تو سابق نماز کا اعادہ لازم ہوگا، کیونکہ ابتدائی شرطِ عذر متحقق نہیں ہوئی تھی۔
بقائے عذر سے متعلق
- ایک مرتبہ معذور بن جانے کے بعد ہر وقت میں صرف ایک مرتبہ خون یا حدث کا ظاہر ہونا بھی معذوریت کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے۔
- اگر ایک وقت میں کئی مرتبہ اور دوسرے وقت میں صرف ایک مرتبہ حدث پایا گیا تب بھی معذوریت باقی رہے گی۔
زوالِ عذر سے متعلق
- اگر پورا نماز کا وقت گزر گیا اور عذر بالکل ظاہر نہ ہوا تو معذوریت ختم ہو جائے گی۔
- زوالِ عذر کے بعد آئندہ نمازوں میں عام لوگوں کے احکام جاری ہوں گے۔
وضو کے احکام
- معذور ہر نماز کے وقت کے لیے وضو کرے گا۔
- ایک وقت کے اندر ایک ہی وضو سے فرض، واجب، سنت اور نفل سب نمازیں ادا کر سکتا ہے۔
- وقت ختم ہونے پر اس کا وضو سابق عذر کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔
- اگر وضو کرتے وقت عذر بند تھا اور وضو کے بعد بھی بند رہا یہاں تک کہ وقت ختم ہوگیا تو صرف وقت نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
- اگر وضو کے بعد عذر دوبارہ جاری ہوگیا تو معذور کے احکام جاری رہیں گے۔
متعدد اعذار کی صورت
- اگر ایک نتھنے سے خون جاری ہونے کی وجہ سے وضو کیا، پھر دوسرے نتھنے سے خون جاری ہوگیا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
- اگر ایک زخم کی وجہ سے وضو کیا، پھر دوسرا زخم بہنے لگا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
- اگر چیچک یا پھوڑوں میں سے ایک بہہ رہا تھا اور بعد میں دوسرا بہنے لگا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
- اگر عذر کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو پایا جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
عذر کو روکنے کی قدرت
- اگر پٹی، روئی، دوا یا کسی تدبیر سے عذر کو روکا جا سکتا ہو تو اسے روکنا واجب ہے۔
- اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے حدث رک جاتا ہو اور کھڑے ہونے سے جاری ہوتا ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھنا لازم ہوگا۔
- جو شخص عذر کو روکنے پر قادر ہو اور روک لے، وہ صاحبِ عذر نہیں رہے گا۔
- حائضہ کا خون روکنے کی کوشش کرنے سے حیض کا حکم ختم نہیں ہوتا، بخلاف صاحبِ عذر کے۔
- نفساء یا مستحاضہ اگر روئی وغیرہ استعمال کرے تب بھی نفاس یا استحاضہ کا حکم باقی رہتا ہے۔
نجاست کے احکام
- اگر زخم سے خون مسلسل نکلتا ہو اور کپڑا دھونے کے فوراً بعد دوبارہ نجس ہو جاتا ہو تو خون لگے کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔
- اگر کپڑا دھونے کے بعد نماز مکمل ہونے تک پاک رہ سکتا ہو تو اسے دھونا واجب ہے۔
- جو مریض کپڑا بدلتے ہی دوبارہ نجاست میں مبتلا ہو جاتا ہو، اس کے لیے اسی کپڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
نماز سے متعلق تفریعات
- مستحاضہ نے وضو کرکے نفل نماز شروع کی اور نماز کے دوران وقت ختم ہوگیا تو احتیاطاً اس نماز کا اعادہ کرے گی۔
- جس شخص کو نکسیر یا زخم کا خون جاری ہو وہ آخری وقت تک انتظار کرے، اگر خون بند نہ ہو تو وضو کرکے وقت ختم ہونے سے پہلے نماز ادا کر لے[37]۔
ضابطہ : دو معذور اشخاص کی باہمی اقتدا اسی وقت درست ہے جب امام اور مقتدی دونوں کا عذر ایک ہی نوعیت کا ہو؛ اور اگر دونوں کے اعذار مختلف ہوں تو اقتدا صحیح نہیں ہوگی۔
تفریعات :
- اگر امام اور مقتدی دونوں سلس البول، یا دونوں مستحاضہ، یا دونوں انفلاتِ ریح، یا دونوں دائمی نکسیر، یا دونوں ایک ہی قسم کے جاری زخم کے عذر میں مبتلا ہوں تو اقتدا درست ہوگی؛ کیونکہ اس صورت میں امام اور مقتدی کا عذر متحد ہے۔
- اگر امام اور مقتدی کے اعذار مختلف ہوں، مثلاً امام سلس البول کا مریض ہو اور مقتدی انفلاتِ ریح کا، یا امام مستحاضہ ہو اور مقتدی دائمی نکسیر یا استطلاقِ بطن کا مریض ہو، تو اقتدا صحیح نہیں ہوگی؛ کیونکہ اتحادِ عذر مفقود ہے[38]۔
[2] الفتاوی الہندیۃ ۱/۵، ۶
[3] الدر و الرد ۱/۹۷، ۹۸، و الفتاوی الہندیۃ ۱/۴
[4] البنایۃ ۱/۱۵۰ و الہندیۃ ۱/۴
[6] ماخوذ من الدر والرد ۱/۱۰۱، ۱۰۲
[8] الدر المختار 1/135و 136 بدائع الصىنائع 1/24
[9] ماخوذ من البدائع 1/29, 30
[10] الدر و الرد 1/143.144
[11] الفتاوی الہندیۃ۱/۱۰، ۱۱، الدر و الرد ۱/۱۳۸
[13] حاشیۃ ابن عابدین علی الدر ۱/۱۳۶ والبحر الرائق ۱/۱۱۳
[14] الدر المختار مع الري 1/136
[16] الدر المختار مع الرد 1/135.136
[17] بدائع الصنائع ۱ /۲۹، ۳۰
[20] الدر المختار مع الرد ۱/۱۵۲، ۱۵۳، ۱۵۴
[22] درر الحکام ۱ /۱۸، الفتاوی الہندیۃ ۱/۱۴، ۱۵، البحر الرائق ۱/۵۶،۵۷،۵۸
[23] الدر و الرد ۱/۱۶۱،۱۶۲ و الہندیۃ ۱/۱۵
[24] البحرالرائق ملخصا ۱/۶۱، ۶۲، ۶۳۔
[26] ملتقی الأبحر مع المجمع ۱/۵۱ غرر الحکام مع الدرر ۱/۳۹
[27] حیض دراصل رحم کی جھلی کے ماہانہ جھڑنے کا قدرتی عمل ہے جو ہارمونز کے زیرِ اثر ہوتا ہے۔ حمل کی تیاری کے لیے رحم کی جھلی موٹی کی جاتی ہے، مگر بارآوری نہ ہونے کی صورت میں یہ جھلی ٹوٹ کر خون اور بافت کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے۔ یہی ماہواری یا حیض ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: https://my.clevelandclinic.org/health/articles/10132-menstrual-cycle?utm_source=chatgpt.com
[28] الملتقی و المجمع ۱/۵۲ الغرر والدرر ۱/۳۹ و البحرالرائق ۱/۲۰۰ رد المحتار ۱/۲۸۳
[30] الدر المختار مع الرد ۱/۲۹۱ الی ۲۹۷
[32] الدر و الرد ۱/۲۸۵، ۲۸۶
[33] حاشية الطحطاوي على المراقي 141و 142 والدر و الرد 1/285.286,287.288
[34] درر الحکام شرح غرر الأحکام ۱/۴۰
[35] الدر و الرد ۱/۲۸۸۔۲۸۹،۲۹۰
[36] الفتاوی الہندیۃ ۱ /۳۷
[37] الفتاوی الہندیۃ ۱/۴۰،۴۱، الدر مع الرد ۱/۳۰۵ الی ۳۰۸
Share This Blog